تمہیں دل لگانے کوکس نے کہاتھا۔۔۔

افسانہ

30 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹرعبدالمجیدبھدرواہی
وہ بلاکی خوب صورت ،بہترین نقش ونگارکی مالکہ تھی۔ اسکے خدوخال بہترین ڈھانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ اسکی سرمئی آنکھوں میںڈوب جانے کودل کرتاتھا۔  کالی گھنی زلفیں ماتھے پر ہروقت اٹکھیلیاں کرتی رہتی تھیں ۔وہ بات کرتی تو جیسے موتی بکھیرتی ۔چہرہ ہنسی کے بغیربھی ہنستادکھائی دیتا تھا۔ غرض وہ خوب صورتی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھی۔
اس کے برعکس اس کاخاوند عام سی شکل وصورت کامالک تھا، جسکو کپڑے پہننے کاڈھنگ بھی کچھ کم ہی تھا ۔ و ہ بڑابددماغ اوربداخلاق بھی تھا۔ایک دفترمیں بڑاافسرتھا لیکن افسرانہ رکھ رکھائو اُس کو چھو کر بھی نہیں گیاتھا۔اسکی بات چیت اوربرتائوسے اسکے دفتروالے بہت نالاں تھے۔وہ محلہ میں بھی کسی سے بات وغیرہ نہیں کرتاتھا۔ اسکے گھرمیں بھی کسی کا آنا جانا بھی نہیں تھا۔صرف ایک وکیل صاحب، جو انکے کلاس فیلوتھے، تقریباً ہرروز انکے ہاں آتے تھے،باقی کسی کونہ آتے دیکھانہ جاتے ۔
میں نے ان میاں بیوی کوکبھی اکٹھے کہیں جاتے نہیں دیکھا۔ ان محترمہ کومیں نے ایک بارمارکیٹ میں دیکھاتودیکھتاہی رہ گیا۔ وہ بہت ہی جاذب نظرخاتون تھیں۔میں اس لئے اکثراسی محلہ کے اردگردگھومتاکہ کہیں انکی ایک جھلک مل جائے۔انکی صورت ہروقت میری آنکھوں کے سامنے رہتی تھی۔ بسیارکوشش کے باوجود میں اس خیال کوہٹانہیں سکتاتھا۔اس کاچہرہ ہرلمحہ میرے سامنے رہتا۔
میں دن میں کئی بار اس گلی میں ادھرسے اُدھراوراُدھرسے اِدھرچکرکاٹتارہتا۔یہ
 بات بہت سے لوگوں نے نوٹ کی تھی اور انکے خاوندنے بھی مجھے کئی باروہاں سے گذرتے یا آس پاس میں بیٹھے ہوئے دیکھاتھا۔
ایک دن وہ صاحب پوچھ ہی بیٹھے۔بھئی ! میں تم کوروزانہ اِدھردیکھتاہوں ۔کیابات ہے ؟کیانام ہے تمہارا؟اورکیاکام کرتے ہو؟ ۔کوئی پریشانی ہے کیا؟میں کوئی مددکرسکتاہوں۔
نہیں جناب کچھ نہیں۔
میں فلاں گائوں سے کام کی غرض سے اِدھرآیاتھا مگراِدھر بیمارپڑگیااوردوسری بات گائوں کی میری زمین ریلوے میں چلی گئی ہے ۔اس کے معاوضہ کے کاغذات کے پیچھے لگاہواہوں۔آج دوماہ ہوگئے نہ معاوضہ ملااورنہ کوئی کام اوراِدھرکمزوری بھی چمٹ گئی ہے ۔
یہ سُن کر صاحب نے کہا !ہمارے ہاں کام کروگے۔
جی! ٹھیک ہے۔اندھے کوکیاچاہیئے دوآنکھیں۔
 جائواندر۔بی بی جی سے کہوکہ صاحب نے کام کرنے کیلئے رکھاہے۔یہاں کھانا بھی ملے گااوراپنی زمین کے معاوضہ کیلئے کوشش بھی کروگے۔ صاحب نے کہا۔
اب میں خوش ہوگیا۔نہ چکرکاٹنے پڑیں گے، نہ مزدوری کرنا ہوتی اورسب بڑی بات یہ کہ محترمہ کے قریب بھی رہوں گا۔جی بھرکردیکھاکروں گا اُسے ۔
اسی دوران میں نے محترمہ کوایک گمنام خط لکھاجس میں ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں پوری کہانی لکھ ڈالی کہ مجھے آپ سے محبت ہے۔آپکو دیکھے بغیررہ نہیں سکتا اوریہ بھی لکھاکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ شادی شدہ ہیں، ایک بڑے افسرکی بیوی ہیںاورمزیدانکشاف کیاکہ میرا ایک دن آپکی ایک جھلک دیکھے بغیرگذرنہیں سکتاوغیرہ وغیرہ ۔
چنددنوں کے اندر اندرہی مجھے پتہ چلاکہ ان افسرکامیڈم کے ساتھ سلوک بہت ہی بُرا ہے ،وہ ان سے گالی گلوچ کرتے ہیں۔انکوبیوی کم نوکرانی زیادہ سمجھتے ہیں ۔
بات بات پراُن سے بدتمیزی کرتے ہیں۔کبھی کبھی ہاتھ بھی اٹھاتے ہیں، جومجھے بہت برالگتاتھا۔
ایک روزتوصاحب نے میڈم کوبالوں سے پکڑکرگھسیٹا ۔ میں وہاں موجودتھا۔صاحب نے کہا۔جائو ۔باہرنکلو۔دروازہ بندکردو۔
میں بڑاپریشان ہوا۔میں باہرنکلاہی تھاکہ اتنے میں اندرسے میڈم کی زوردارچیخ سنائی دی ۔میں دروازہ کھول کراندرداخل ہوا ۔صاحب ہاکی سٹک سے میڈم کوماررہاتھا۔پیٹھ پرمارنے کی وجہ سے انکی چیخ نکلی۔انکی ناک سے خون بھی بہہ رہاتھا۔وہ اب بھی انکومارے جارہاتھا۔مجھے دیکھ کروہ بولے۔حرام زادے ! نکل جائو۔میں نے صرف اتناہی کہاکہ صاحب بی بی جی مرجائیں گی۔انہوں نے ایک نہ مانی۔وہ بالوں سے انکوادھراُدھرپٹختے گئے۔
وہ بے چاری اب نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ یہ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا۔ میں نے انکے ہاتھ سے ہاکی لے لی اور انکے سرپردوتین وارکئے جس سے وہ وہیں پرڈھیرہوگئے ۔
بی بی جی کوتھوڑابہت ہوش آگیاتھااس نے مجھ سے کہا۔تم بھاگ نکلو۔میں یہ الزام اپنے سرلے لوں گی۔ مجھ پرکوئی شک بھی نہ کرسکے گا۔ کیونکہ سبھی رشتہ داروں، محلہ داروں اورانکے وکیل دوست کوپتہ ہے کہ ہماری لڑائی جھگڑا روزکامعمول ہے ۔یہ مجھے مارتے بھی ہیں۔اس بات کابھی سبھوں کوعلم ہے ۔میں کئی دفعہ گھرسے بھاگ کراپنے میکے بھی گئی ہوں۔
آپ نکل جائو دیرنہ کرو۔
میڈم کی بات سن کر میں نکل توگیامگرادھرکی پوری کی پوری خبررکھتاتھا۔
پولیس آئی۔ 
میڈم کوپکڑکرلے گئی۔
دوسرے روزمیں صاحب کے وکیل دوست سے ملا۔ان کومعاملے کاپوراپتہ چل چکاتھا۔
انکووکالت نامہ دیا۔
جیل میں میڈم سے بھی ملا۔
اسی دوران میرازمین کامعاوضہ بھی منظورہوکرنکل آیا۔
میں نے وکیل کومحنتانہ دینے کاوعدہ کیا۔
ایک دن میں نے جیل میں ملاقات کے دوران میڈم کوکہاکہ وہ گمنام خط میں نے ہی لکھاتھا۔ 
یہ سُن کرمیڈم کاچہرہ لال سرخ ہوگیا۔وہ خودبھی ایساہی کہناچاہ رہی تھی مگرشرم کے مارے کہہ نہ سکی۔
وکیل نے Domestic Violence اورSelf Defence کاکیس بنایا۔کافی بحث مباحثہ کے بعدوہ مقدمہ جیت گئے۔
پھررہاہوتے ہی وکیل نے میڈم سے کہا۔مجھ کوآپ سے بہت پہلے سے محبت تھی۔ وہ اسی وجہ سے آپکے گھرروزانہ آتاتھا ورنہ آپ کے خاوندسے کس شخص کودلچسپی ہوسکتی تھی۔ وہ توبڑابدتمیز،بیوقوف اوربداخلاق بندہ تھا۔ 
میں آپکی ہاں کامنتظرہوں۔آپ ہاں کہہ دیں۔یہ پاس میں ہی Matrimonial Cases کی شنوائی والی عدالت ہے۔
یہیں ابھی کے ابھی کورٹ میرج کرتے ہیں۔میڈم نے ہلکاساسرہلاکرہاں کردی۔
ہاں سنتے ہی وکیل نے کورٹ میں شادی کی۔
دونوں خوشی خوشی باہرنکلے۔
میں یہ سب کچھ دیکھ رہاتھا۔خاموش بُت بناتمام کاروائی کاانجام غمگین آنکھوں سے دیکھ رہاتھا۔
 آخرکار ہاتھ ملتاہی رہ گیا۔نہ ادھرکارہانہ اُدھرکا۔نہ صنم ہی ملانہ وصال صنم۔
مگریہ بات دونوں نے ایک دوسرے سے رازہی رکھا۔جس کی محبت اورپیارمیں اتناکچھ کیا تھا اُسکوکوئی دوسراہی اپنی محبت میں اپنا جتاکرلے اُڑا۔ اس کے ضمیرنے اسکواتناکہا ۔
’’تمہیں دِل لگانے کوکس نے کہاتھا ‘‘۔مگرساتھ اس شعرنے اس کوکچھ تسلی دی ’’غم کے سہنے میں بھی قدرت نے مزہ رکھاہے ‘‘
���
موبائل نمبر؛8825051001
 

تازہ ترین