تازہ ترین

مسلسل گورنر راج جمہوری نظام کیلئے سمِ قاتل : ساگر/ناصر

26 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//موجودہ مخدوش حالات نئی دلی کی طرف سے کشمیر کی زمینی صورتحال کو تسلیم نہ کرنے کا نتیجہ ہے، اگر مرکز نے کشمیریوں کے احساسات اور جذبات کے خلاف فیصلے نہ لئے ہوتے تو آج ہمیں ایسے حالات کا سامنا نہ ہوتا۔انکائونٹر، کریک ڈائون، ہلاکتیں، چھاپہ مار کارروائیاں، توڑ پھوڑ، گرفتاریاں، پی ایس اے کا اطلاق اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ گذشتہ 4برسوں سے مسلسل جاری ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ کشمیریوں کیساتھ بات چیت کا عمل شروع کیاجائے اور ساتھ ہی پاکستان کو بھی اعتماد میں لیا جائے تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کیساتھ ساتھ خطے میں مکمل اور دیر پا امن و امان کی فضاء قائم ہوسکے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کیساتھ رابطہ مہم جاری رکھتے ہوئے حلقہ انتخاب ترال کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، نائب صدر صوبہ محمد شفیع شاہ، جنوبی زون صدر ڈاکٹر بشیر ویری، سینئر لیڈران پیر محمد حسین، غلام محی الدین میر، جگدیش سنگھ آزاد، محمد اشرف میر، ڈاکٹر غلام نبی اوریوتھ لیڈر جاویدرحیم بٹ کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔جنرل سکریٹری نے اپنے خطاب میں مرکزی سرکار پر زور دیا کہ وقت ضائع کے بغیر افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرے مسئلہ جموں و کشمیر کے متعلقین کیساتھ بات چیت کا عمل شروع کیا جائے کیونکہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ نیشنل کانفرنس روز اول سے ہی مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کی وکالت کرتی آئی ہے اور ہمیشہ ہند و پاک کے درمیان اچھے تعلقات کی متمنی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے سب سے بڑے جمہوری ایوان میں عوامی نمائندوں کی طرف سے دو تہائی اکثریت سے منظور کردہ اٹانومی مسودہ مسئلہ کشمیر کا بہترین حل ہے اور حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ وقت ضائع کئے بغیر ریاست کی اندرونی خودمختاری کی بحالی کا عمل شروع کرے۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے این سی جنرل سکریٹری نے کہا کہ گورنر راج عوامی منتخبہ جمہوری حکومت کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ مٹھی بھر صلح کار وں سے 87ممبرانِ اسمبلی، 36ممبرانِ قانون ساز کونسل،وزراء اور وزرائے مملکت کا کام کر پانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ مسلسل گورنر راج جمہوری نظام کیلئے سم قاتل ہے اور ریاست میں مسلسل صدر راج نافذ رکھنا ایک جمہوری ملک کو زیب نہیں دیتا۔ صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست کے لوگ اس وقت زبردست مشکلات سے دوچار ہیں۔ لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، بجلی کی سپلائی میں کوئی بہتری نہیں آرہی ہے۔