مزید خبرں

26 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بگلہ کے تعلیمی ادارے نظام بد نظمی کا شکار

 پانچ اسکول بنا ٹھوس وجوہات کے بند

ڈوڈہ//وادی چناب کے دیہی علاقوں میں تعلیمی نظام اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بے انتہا بدنظمی کا شکار ہے، خاص طور پر ضلع ڈوڈہ کے دور دراز علاقوں سی آئے روز شکایتیں موصول ہوتی رہتی ہیں، جن میں زیادہ تر شکایات اساتذہ کی ڈیوٹی کے تئیں بے مروتی، اسکولوں میں عملے کی کمی اور عمارتوں کی عدم دستیابی کے متعلق ہوتی ہیں۔ تحصیل بگلہ سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق وہاں کا تعلیمی نظام بالکل درہم برہم ہو چکا ہے اور تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔اطلاعات کے مطابق تحصیل میں سرکار کی عدم توجہی ،زمین مالکا ن کو معاوضہ نہ فراہم کرنے اور غیر ذمہ دارنہ رویہ کی وجہ سے ابھی تک ایک درجن کے قریب اسکول بند ہو چکے ہیں اور ان میں بچوں کی بجائے جانور حاضر ہوتے ہیں۔ بند ہونے والے اسکولوں میں لاوے پورہ بھرت ، گجر بستی، اور چاپلہ کے اسکول قابل ذکرہیں۔ آنگن واڑی مراکز کا حال بھی لگ بھگ بالکل ایسا ہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تحصیل میں موجود درجنوں آنگن واڑی مراکز صرف کاغذاتی کاروائی تک ہی محدودہیں اور عملی طور ہر ان میں کوئی بھی کام نہیں کیا جاتا ۔ اس طرح سے ان آنگن وڑی مراکز کا ہونا اور نہ ہونا برا بر ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق آنگن واڑی سینٹروں کے لیے سپلائی ہونے والا راشن ملازمین کے گھروں میں پہنچتاہے اور یوں غریب عوام کے بچوں کے حقوق پہ کھلم کھلا شب خون مارا جاتا ہے۔علاوہ ازیں تحصیل کا درجہ ملنے کے باوجود بھی عوام کو کاغذی کام نمٹانے کے لئے ڈوڈہ کا رخ کرنا پڑتا ہے کیوں کہ ملازمین وہاں پر دستیاب نہیں ہوتے اور لوگوں کو چارو ناچار انہیں ڈھونڈنے کے لئے ڈوڈہ کا رخ کرنا پڑتا ہے، لیکن پیشتر اوقات ڈھونڈنے کے باوجود بھی ملازم ڈوڈہ میں دستیاب نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے علاقے کے غریب لوگ اپنی جیبیں لٹا کر، اور ناکام ہوکر تھکے ہارے گھر لوٹ جاتے ہیں۔بگلہ سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے بلاک سیکرٹری غلام محمد کھانڈے نے بتایاکہ بگلہ میں سرکاری خدمات کا حال بے حال ہے ۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے بگلہ میں ڈگری کالج کا قیام عمل میں لانا ناگزیر ہے ۔
 
 
 

ٹیچر تنظیموں کا کشتواڑ میں اجلاس 

 ڈپٹی کمشنر کے حکمنامہ کو واپس لینے کی اپیل 

ڈار محسن 
کشتواڑ//کشتواڑ کی اساتذہ تنظیموں نے ڈپٹی کمشنر کشتواڑ کے حکمنامہ کی مذمت کرتے ہوئے یہ ان کیلئے ہتک آمیز ہے کہ وہ ماہانہ تنخواہ سے قبل حاضری مقامی سرپنچ اور دس والدین سے لکھواکر لائیں ۔اساتذہ نے کہاکہ اس حکمنامہ نے اساتذہ میں بے چینی پیدا کی ہے اور اس کو فوری طور پر واپس لیاجائے ۔انہوں نے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرکے متفقہ طور پر یہ قرارد اد پاس کی کہ ڈپٹی کمشنر اپناحکمنامہ واپس لیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ صرف اور صرف اساتذہ کی توہین ہے ۔انہوں نے کہاکہ وہ اس طرح کے حکمنامہ کو قبول نہیں کریں گے بلکہ اس کے خلاف جدوجہد کی جائے گی ۔انہوں نے انتباہ دیاکہ اگر حکمنامہ واپس نہ لیاگیاتو غیر اعلانیہ چھٹی پر چلے جائیں گے جس کی ذمہ داری ضلع انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔ اجلاس میں رمیش کمار ضلع صدر جموں وکشمیر لیکچرار فورم، تنویر احمد ملک صدر ای آر ٹی یو کشتواڑ، ستیہ بھوشن شرما صدر آل جموں،کشمیر و لداخ ٹیچرز فیڈریشن، راجیش کمار پریہار صدر جے کے ایم ایف ، طاہر مسعود ضلع صدر جے کے آر ای ٹی ایف ، محمد حفیظ صدر جے کے آر ٹی ٹی ایف کشتواڑ بھی موجو دتھے ۔اس دوران اساتذہ نے ایک میمورنڈم چیف ایجوکیشن افسر کو پیش کیا ۔
 

منشیات فروش 500گرام ہیروئن سمیت گرفتار

بانہال //پولیس نے ایک منشیات فروش کو 500گرام ہیروئن سمیت گرفتار کرلیا ۔ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر ٹی چوک بانہال میں ناکہ لگایاگیا جس دوران گاڑیوں کی چیکنگ کا عمل شروع کیاگیا ۔اس دوران ریلوے اسٹیشن کی طرف سے مسافر کی تحویل سے 500گرام ہیروئن برآمد ہوئی ۔پولیس نے منشیات فروش کو گرفتار کرلیا جس کی شناخت امین محمد ولد رشید احمد ساکن کرمچی تحصیل و ضلع اودھمپور کے طور پر ہوئی ہے ۔اس سلسلے میںاس کے خلاف ایک کیس بھی درج کیاگیاہے ۔
 
 
 

تازہ ترین