مسلمان بدل جائیں!

آگ کر کستی ہے اندازِ گلستاں پیدا

26 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ظفر آغا
سنہ 1857 مغلیہ سلطنت کا زوال سے لے کر آج تک یہاں پے درپے المیوں کا ماتم منایا جارہاہے مگر حیرت کا مقام ہے کہ اتنی قیامتیں گزرنے کے باوجود ہندوستانی مسلمان آج بھی گہری نیند میں غرق ہے۔ کسی قوم کے زوال (2019-1857) کو ڈیڑھ سو سال گزرنے کے بعد بھی اگر وہ قوم نہ جاگے تو سوال یہ ہے کہ اس ملک کے مسلمان کی آنکھیں کیوں نہیں کھلتیں؟ اس کو ترقی کی کوئی جستجو کیوں نہیں پیدا ہوتی؟ آخر کیوں؟ اصولاًقوموں کے عروج و زوال کے بھی تاریخی اسباب ہوتے ہیں۔ یہی وہ مسلم قوم ہے جو رسولؐ کے وصال کے بعد بھی کئی صد یوں تک دنیا پر ہر شعبہ ٔ زندگی میںغالب تھی۔ مسلم تہذیب کے عروج کا یہ عالم تھا کہ یورپ میں اسپین، اٹلی، فرانس اور ادھر پورے ایشیا اور تقریباً افریقہ کے ہر حصے پر اسی تہذیب کا ڈنکا بجتا تھا۔ وہ مغربی تہذیب جس کا آج دنیا میں ڈنکا بج رہا ہے، وہ کبھی مسلم تہذیب کے آگے سرنگوں رہتی تھی لیکن آج ساری دنیا میں مسلمان امریکہ کے آگے سرنگوں ہے یا کسی اور کے ہاتھوں غلام ہے۔ آخر یہ عروج کیوں تھا اور پھر یہ زوال کیوں ہے! جہاں تک مسلم عروج کا تعلق ہے تو اس کا سہرا صرف ایک شخصیت کو جاتا ہے جس کا نام نامی محمدؐ عربی تھا۔ رسول عربی نے ساتویں صدی عیسوی میں جو نظام قائم کیا وہ اپنے دور کا جدید و ترقی یافتہ نظریہ کا مالک نظام تھا کہ جس نے ساری دنیا میں مسلمان کا ڈنکا بجوا دیا۔ اسلام دنیا کا وہ پہلا نظام حیات تھا جس نے اپنے دور میں انسانی اخوت یعنی برابری، حقوق نسواں اور ریاست مدینہ کے ماڈل پر ایک ایسا منظم ویلفیئر اسٹیٹ کا تصور دیا جس کی مثال دنیا میں اس سطح پر پہلے کہیں نہیں ملتی ہے۔ بس اس نظریہ کی بنیاد پر جو تہذیب قائم ہوئی اس نے عالم انسانیت کو اس قدر بااختیار کر دیا کہ جس نے اسلام اور مسلمان دونوں کو دور وسطیٰ کا سپر پاور بنا دیا۔ اسلام ایک دین کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ تحریک بھی تھی لیکن 100 سال کے اندر وہ تحریک ایک شہنشاہی نظام میں تبدیل ہو گئی۔ شام، بغداد، ترکی اور ہندوستان میں جو سلطنتیں قائم ہوئیں وہ شاہی نظام زیادہ اور اسلامی تحریک صرف نام کو تھیں۔ حد یہ ہوئی کہ اس نظام میں بادشاہ ظل الٰہی ہو گیا اور اسلام کے نام پر بادشاہ کے سیاہ و سپید کو جائز قرار دینے کے لیے ایک علماء کا گروہ پیدا ہو گیا جس نے شریعت کی آڑ میں شاہی یعنی زمیندارانہ نظام و قدروں کو اصل اسلام کا رنگ و روپ دے دیایعنی اسلام نے جس اخوت و برابری، حقوق نسواں اور ویلفیئر اسٹیٹ جیسے انقلابی تصور کو جنم دیا تھا وہ سمٹ کر ایک زمیندارانہ نظام کی شکل میں تبدیل کردیا گیا۔ اس نظام میں زمیندار یا بادشاہ یا قبائلی سردار مالک اور باقی سب دوسرے درجے کے شہری (خواہ وہ مسلمان کیوں نہ ہوں) ہو گئے۔ حد تو یہ ہوئی کہ جس محمود و ایاز کی برابری پر علامہ اقبال نے فخر کیا ،وہ انسانی برابری محض مسجد کی نماز کی صفوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔ اس شاہی یا زمیندارانہ نظام میں اب انسانی اختیارات کے راستے محدود ہوتے جا رہے تھے۔اس کے برخلاف نصف آٹھارہویں صدی سے یورپ انگڑائی لے رہا تھا۔ سائنس اور انڈسٹری کی ایجاد سے پہلے یورپ نے ایک نئی معیشت کو جنم دیا، جس نے یورپ میں 1789 میں فرانس جیسا انقلاب بپا کر دیا جس نے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ انسانی اخوت و برابری کےا سلامی ا صول جس کے داعی محمد مصطفیٰؐ تھے ،اب وہی نعرہ فرانس میں پیرس کی سڑکوں پر گونج رہا تھااور فرانس سے لے کر یورپ کے تمام ممالک میں شاہی نظام کے خلاف تحریکیں کھڑی ہو رہی تھیں اور یورپ میں شاہی نظام کے خاتمے کے ساتھ جمہوریت کے لبادہ میں ایک نیا نظام جنم لے رہا تھا جو انسانیت کو اب نئے طرز پر بااختیار بنا رہا تھا۔ یہی سبب ہے کہ نصف انیسویں صدی میں مغلیہ سلطنت کے زوال سے لے کر سنہ 21-1920 میں ترکی خلافت کے زوال تک آہستہ آہستہ مسلم تہذیب دم توڑ رہی تھی (کیونکہ اس تہذیب کا رسول ؐکی اسلامی قدروں سے کوئی دور کا بھی ناطہ نہیں تھا) اور دوسری طرف یورپ ایک نئی تہذیب کے ساتھ انسانی ترقی اور اختیارات کا نیا ماڈل پیش کر رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ مسلم تہذیب کا زوال ثابت ہوا جو آج بھی جاری و ساری ہے، جس کے نتائج اب ہم ہندوستانی مسلمان بھی جھیل رہے ہیں اور آج بھی غفلت میں ہیں۔
اس غفلت و تباہی کے دو اہم اسباب ہیں: اول تو یہ کہ جب کوئی قدیمی تہذیب کسی نئی تہذیب سے پسپا ہو جاتی ہے تو پرانی تہذیب نئی تہذیب کی افضلیت جلد تسلیم نہیں کرتی ہے۔ یہ وہی نفسیاتی گرہ ہے جو پرانے رئیس اور نئے رئیس کے درمیان پیدا ہو جاتی ہے۔ مسلم تہذیب کا کوئی سات آٹھ سو سال میں دنیا میں ڈنکا بجا۔ خود مغرب کی اس کے آگے حیثیت نہ تھی۔ جب مغرب ترقی پذیر ہوا تو اہل اسلام نے مغرب کی سائنس و انڈسٹری کی ترقی اور اس پر مبنی جمہوری، سیاسی و معاشی نظام کو اپنی زمیندارانہ (اسلامی نہیں) قدروں پر مبنی نظام سے اوچھا سمجھا اور عالم اسلام کے طول و عرض میں نصف انیسویں صدی سے تقریباً اب تک یہ نعرہ اٹھ رہا ہے کہ ہم کو مغربی قدریں تسلیم نہیں۔ آج ایک مخصوص گروہ جدید سیاسی تقاضوں سے بے بہرہ ٹی وی مباحثوں میں ہندوتوا طاقتوں کو قوت بخش رہا ہے، کیونکہ وہ جدید دنیا اور اس کے سیاسی تقاضوں سے بے بہرہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے عناصر مسلم قوم کے قدموں کی زنجیر بن گئے ہیں اور ان سے نجات کے لیے مسلم معاشروں میں ایک سماجی انقلاب کی ضرورت ہے۔
اس لیے ہندوستانی مسلمان کو صرف ایک سر سید ہی درکار نہیں بلکہ خود کو ایسے لوگوں سے جو اسلام کے نام پر سیاست کرتے ہیں، ان سے بھی نجات کی ضرورت ہے۔ سر سید کی جدید تعلیم کا راستہ بھی تب ہی ہموار ہوگا جب مسلم قوم ذہنی اور نفسیاتی طور پر مغرب سے بے معنی اُلجھے تہذیبی تصادم سے خود کو نجات دلوا سکے اور یہ نجات ایک جدید تعلیم یافتہ قیادت کے ہاتھوں ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ کیا مودی کے ہندو راشٹر میں ہندوستانی مسلمان اس تاریخی تبدیلی کے لیے تیار ہے؟ اگر نہیں تو یہ غلامی کا دور ڈیڑھ سو برس اور کیا، پتہ نہیں کب تک اور جاری رہ سکتا ہے!

 
 

تازہ ترین