تازہ ترین

چنار کے درختوں پر اشتہاری مواد لگانے پر پابندی عائد

25 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر// وادی کے حسن وجمال میں چار چاند لگانے والے چنار کے درختوں پر ریاستی حکومت نے پوسٹر، سائن بورڈ یا دوسرے قسم کا اشتہاری مواد لگانے پر پابندی عائد کی ہے۔ریاستی انتظامیہ کی طرف سے جاری ایک حکم نامے کے مطابق صوبائی کمشنر کشمیر نے تمام ضلع مجسٹریٹوں کے نام ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ چنار کے درختوں پر سائن بورڈ، پوسٹر، ہورڈنگس وغیرہ لگانے پر مکمل پابندی عائد کریں اور چناروں پر لگے سائن بورڈوں، ہورڈنگس وغیرہ کے ہٹانے کو یقینی بنائیں۔حکم نامے میں کہا گیا کہ چنار درخت ریاست کی مخصوص علامت اور وادی کشمیر کا موروثی درخت ہے لہٰذا اس کے تحفظ اور اس کی دیکھ ریکھ کے بارے میں عوام کو جانکاری فراہم کرنے کے لئے کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔چنار کا درخت 25 میٹر لمبا اور قریب50  فٹ چوڑا ہوسکتا ہے اور کشمیر کے ادب وسیاست میں اس بھاری بھرکم اور خوبصورت درخت کا تذکرہ بھی جابجا ملتا ہے علاوہ ازیں چنار پر کئی ضخیم کتابیں تصنیف کی گئی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ کشمیر میں چنار کا پہلا درخت قریب 7 سو سال قبل ایک معروف صوفی بزرگ سید قاسم شاہ نے وسطی ضلع بڈگام کے چھترگام علاقے میں لگایا تھا جو قریب 15 میٹر لمبا ہوا تھا۔سرکاری اعداد شمار کے مطابق 70 کی دہائی میں کشمیر میں قریب 42 ہزار چنار کے درخت تھے لیکن حکومت کی عدم توجہی کے باعث یہ تعداد سکڑ کر صرف پانچ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سڑکوں کی کشادگی اور شاپنگ مالوں کی تعمیر کے لئے چنار کے درختوں کی بے دریغ کٹائی کی جاتی ہے ۔