تازہ ترین

کشمیر میں افیون خوری کی لت،افیونیوں کی تعداد میں چونکا دینے والا اضافہ

۔2016میں 15فیصد نشہ باز استعمال کرتے تھے، 2019میں شرح 90فیصد تک پہنچی

25 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

زہرالنساء
سرینگر//ایس ایم ایچ ایس(صدر) اسپتال میں قائم کشمیر کے واحد نشہ چھڑانے کے مرکزمیں اس سال جنوری سے افیون کے عادی نشہ کرنے والوں کی تعداد میں  چونکا دینے والااضافہ ہورہا ہے اور ہر 10 میںسے 9مریض اس خطرناک نشہ کے عادی ہوتے ہیں۔ اسپتال کے شعبہ نفسیات کے تحت کام کررہے نشہ چھڑانے کے مرکز کے ریکارڈ کے مطابق جنوری2019سے20جون2019تک نشہ کے عادی342مریضوں میں 309یعنی90.3فیصدایک یا دوسری قسم کاافیون کا نشہ استعمال کرتے تھے۔اکثرمریض ناک (سُڑکنے یا دھواں اندرلینے)سے نشہ استعمال کرتے ہیں،تاہم ریکارڈکے مطابق 28فیصد نشہ کے عادی افراد پہلے ہی افیون کوانجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کرنے کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ ریکارڈ سے یہ بات بھی منکشف ہوگئی کہ انجکشن کے ذریعے نشہ جسم میں داخل کرنے والے افرادکی تعداد میں اضافہ ہواہے جو زیادہ خطرناک ہے ۔جنوری میں افیون کا نشہ استعمال کرنے والے 70مریضوں میں20انجکشن کے ذریعے نشہ جسم میں داخل کرتے تھے۔جون میں(20تاریخ تک)38داخل کئے گئے مریضوں میں 20انجکشن کے ذریعے نشہ جسم میں داخل کرتے تھے جبکہ باقی ماندہ18دیگر طریقوں سے نشہ کاستعمال کرتے تھے۔سالہاسال سے ریکارٖڈ کے مطابق افیون کا نشہ کرنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔سال2016میں نشہ چھڑانے کے مرکز میں داخل مریضوں کی تعداد کا کل15فیصدافیون کاعادی تھا،2017میں یہ24.3فیصد ہوگیااور اس کے اگلے سال اس میں تقریباًدوگنااضافہ ہوااور2018میں یہ45.6فیصد تک پہنچ گیا۔رواں برس کے پہلے 6ماہ میں ریکارڈکے مطابق نشہ چھڑانے کے مرکز میں داخل مریضوں کی کل تعدادمیں90.3فیصد افیون کااستعمال کرتے تھے۔  شعبہ نفسیات کے ڈاکٹر یاسر احمد راتھرجونشہ چھڑانے کے مرکز کیانچارج بھی ہیں ،افیون کا نشہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ پر دکھی محسوس کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ چکرادینے والا ہے ۔۔۔قریب قریب جس بھی مریض کا ہم نشہ چھڑانے کے مرکز میں ملاحظہ کرتے ہیں وہ افیون کاعادی ہوتا ہے ۔انہوں نے اعتراف کیا کہ کہ اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے جیسا کہ اعدادوشمار اور ہمارے تجربے سے ظاہر ہے ۔ 2016سے قبل شاذ ہی یہاں افیون کا کوئی عادی تھا۔ہم اکثر مریضوں کو چرس ،شراب یا دیگرادویات کا عادی پاتے تھے،لیکن اب نہیں۔ڈاکٹر راتھر نے افیون کے نشہ کو نوجوان نسل کی تابوت میں آخری کیل سے تعبیر کیا۔یہ بچے بدنصیب ہیں،افیون ان کو تباہ کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ متعددمریضوںنے مرکز کارُخ کیاتب کیا جب انہوں نے اپنے دوستوں اور جان پہچان والوں کو افیون کی زیادہ مقدار لینے سے مرتے ہوئے دیکھا۔انہوں نے کہا کہ افیون کے زیادہ مقدار میں لینے سے موت واقع ہوناعام ہے ۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر میںشعبہ نفسیات کے پروفیسرڈاکٹر ارشدحسین نے کہا کہ افیون کی عادت ’’آخری درجے کی بیماری ‘‘ہے۔انہوں نے کہا علاج کے بعد بھی اس لت میں دوبارہ مبتلاء ہونے کے امکانات زیادہ ہیں اوربازار میں اس کے بہ آسانی دستیابی سے دوبارہ اس لت میں مبتلاء ہونااغلب ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ 50سے60فیصد لوگوں جنہیں افیون کا نشہ چھڑانے کا علاج کیاگیا دوبارہ اس لت میں مبتلاء ہوتے ہیں اوراس طرح یہ خطرناک نشہ بن جاتا ہے ۔