تازہ ترین

مساجد کا تقدس واحترام

نصائح

21 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹرعبدالمجیدبھدرواہی
حضرت محمدﷺ  فرماتے ہیں کہ ہرانسان فطرت کے مطابق پیداہوتاہے ،البتہ والدین اوراس کاماحول کبھی اسے صحیح العقیدہ بناتے ہیں یاگمراہ کردیتےہیں اوراسے کسی اورمذہب اور عقیدےکاپیروکاربنادیتے ہیں ۔اس کے برعکس اسلام اللہ تعالیٰ کی ہدایات کی مکمل اتباع کی تلقین کرتاہے۔اللہ تعالیٰ جس کوچاہتاہے ،ہدایت دیتاہے ، ہدایت یافتہ لوگ کہاں مل سکتے ہیں، ایسے لوگ اللہ کے گھروں میں ہی مل سکتے ہیں ،جن کوہم مساجدکے نام سے جانتے ہیں۔ اس لیے ہمیں مساجدکااحترام کرناچاہیے۔ترجمہ:ان گھروں میں جن کے متعلق اللہ نے حکم دیاہے کہ بلندکیاجائے یعنی ان کی تعظیم کی جائےاوران میںاس کانام لیاجائے۔ ان گھروں میں لوگ صبح وشام تسبیح کرتے ہیں۔ایسے لوگ جنہیں تجارت اورخریدوفروخت اللہ کے ذکرسے اورنمازکے قائم کرنے اور زکوٰۃ کے اداکرنے سے غافل نہیں کرتی ،اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اوربہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی ۔اس ارادے سے کہ اللہ انہیں ان کے اعمال کابہترین بدلہ دے بلکہ اپنے فضل سے اورکچھ زیادتی عطافرمائے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے حساب رزق دیتاہے۔سورۃ النور۔36-38
سورۃ النورکی آیت نمبر 37میں ایسے خو ش بختوں کی صفت یہ بتائی گئی ہے جومسجدوں کوہمیشہ آباد رکھتے ہیں۔ اس آیت میں رجال کالفظ آیاہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ مسجدیں بطورخاص مردوں کے لیے ہیں۔ جب کہ عورت کی نمازاس کے گھرمیں زیادہ بہترہے ، اگرچہ مسجدمیں اس کی عبادت کی غرض سے آمد ورفت کی بھی اجازت ہے۔حضرت ام سلمہؓ یہ روایت بیان کرتی ہیں کہ حضرت محمد ؐ نے کہاعورتوں کے لیے بہترین مسجدیں اُن کاگھرہے اورگھر میں بھی بالکل اندرونی حصہ اوربہترہے ۔(مسنداحمد)اس کایہ مطلب ہے کہ ایک عورت کے لئے زیادہ مناسب ہے کہ وہ گھر میں نمازپڑھے۔ہاں اگرمسجدمیں عورتوں کے لئے الگ جگہ کا معقول انتظام ہوتو عورتیں مسجدمیں بھی نمازاداکرسکتی ہیں۔خصوصاً اگرمسجدمیں تعلیمی مجلس ہوتوعورتوں کومسجدمیں حاضرہوکراس سے استفادہ کرناچاہیے۔حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمدؐ نے فرمایا:جوکوئی اللہ سے محبت کرتاہو اسے چاہیے وہ مجھ سے محبت کرے ۔جومجھ سے محبت کادعوے دارہو اس کوچاہیے کہ میرے صحابۂ اکرام ؓ کوعزیزرکھے اورجوقرآن کوبہت چاہتاہے تووہ مسجدوں سے محبت رکھے ۔مسجدیں اللہ کاگھرہیں ۔اللہ نے ان کاادب واحترام کرنے کاحکم دیاہے ۔ان جگہوں اوران جگہوں میں رہنے والوں پراللہ تعالیٰ کارحم وکرم ہوتاہے۔ یہ لوگ مساجدمیں نمازیں اداکرتے ہیں اس دوران اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی ضروریات اورخواہشات کوپوراکردیتا ہے اوریہ مسجدیں اوراس میں رہنے والے اللہ کی حفاظت میں ہوتے ہیں(قرطبی)
مسجدوں کی اہمیت اور درجہ زمین کے دیگرٹکڑوں سے بہت ہی زیادہ ہے ۔ حضرت ابوامامہ ؓ  نقل کرتے ہیں کہ حضرت محمدؐ نے فرمایاجوکوئی مسجدکے لیے گھرسے وضوکرکے نکلے گااس کوبہت ثواب ملے گا،بلکہ وہ اس آدمی کی طرح ہوگا جوگھرسے حج کے لیے احرام باندھ کرنکلاہو،اورجوکوئی نمازکے لیے وضوبناکرمسجدکی طرف جائے گااس کوعمرے کے برابرثواب ملے گا،اگرایک نمازکے بعددوسری نمازکاانتظارکرتارہے گاتو اس کانام علیین میں لکھاجائے گا۔(مسلم)حضرت بریدہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد ؐ نے فرمایاجوکوئی گھٹاٹوپ اندھیرے میں مسجدکی طرف جائے گا اس کوقیامت کے روزبے حساب نورعطاکیاجائے گا۔(مسلم)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ؐ نے فرما یامسجدمیں نمازپڑھناگھرکی نمازیاکسی اورجگہ کی نمازسے بہترہے ،اگرکوئی آدمی گھرسے نمازکی نیت کرکے وضوکرکے نکلے،ہرقدم جومسجدکی طرف بڑھتاہے اللہ کی نظرمیں اس کامقام اتناہی بڑھتا جاتا ہے۔اگروہ مسجدمیں جماعت سے نمازاداکرنے کاانتظارکررہاہے تواس کوانتظارکے دوران بھی نمازپڑھنے کاثواب ملتاہے ۔جب تک وہ انتظار کررہاہوتاہے فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعاکرتے ہیں اوروہ وضوکی حالت میں ہواورکسی کوکوئی تکلیف نہ دی ہوتوفرشتے اللہ سے کہتے ہیں :اے اللہ! اسے بندے پررحم فرمائیے اوراس کے گناہ معاف فرمائیے (مسلم)
حضرت حکم بن عُمیرؓ کہتے ہیں کہ حضرت محمدؐ نے فرمایا: اس دنیامیں مہمان کی طرح رہو،مسجدوں کواپنا گھرسمجھو،اپنے دلوں کونرم اوراللہ کی ہدایات کوقبول کرنے والابنائو ،اللہ کی عطاکردہ نعمتوں پرغوروفکرکرو۔ اللہ کی یاد سے اس کے خوف سے خوب روئو۔ دلوں میں دُنیاکی رنگینیوں کوجگہ نہ دو اورعالی شان گھروں کی تعمیرات میں نہ لگ جائو جہاں شاید تمہیں رہنا تک نصیب نہ ہو۔ علاوہ ازیں اپنی ضرورت سے زیادہ دولت جمع نہ کرو ۔ایسی تمنائیں نہ کرو جوپانہ سکو۔(قرطبی)حضرت ابوالدرداء ؓنے اپنے بیٹے کونصیحت کی کہ مسجدوں کواپناگھرسمجھو کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول ؐ کو یہ فرماتے سناتھاکہ جوکوئی مسجدوں کواپناگھرسمجھے گا،اللہ تعالیٰ اس کے دل کو سکون دے گااورقیامت کے روزپل صراط پرسے اس کاگذرآسان کردے گا۔(قرطبی)
حضرت محمدؐ اپنی عمرکے آخری حصے میں فرماتے تھے کہ بہت سارے لوگ مسجدوں میں گروپ کی شکل میں بیٹھیں گے اوروہاں صرف دُنیاکی باتیں کریں گے اوردُنیاسے محبت ان کی گفتگومیں نظرآئے گی۔ تم اُن کے ساتھ نہ بیٹھنا کیونکہ اللہ تعالیٰ مسجدوں میں ایسے لوگوں کوپسندنہیں کرتا(قرطبی)حضرت سعیدبن المسیب ؓ کہتے ہیںجوکوئی اللہ کے گھرمیں بیٹھتاہے وہ گویااللہ تعالیٰ کی مجلس میں بیٹھاہے ۔اس لیے اس کوچاہیے کہ وہاں صرف اورصرف اچھی باتیں کرے۔(قرطبی)
مساجدکے ادب واحترام کے متعلق علماء کرام نے ہمیں مندرجہ ذیل پندرہ نکات دیئے ہیں :
(۱)مسجدمیں داخلے پر لوگوں کوسلام کرولیکن اگریہ لوگ نمازیاقران کی تلاوت میں مشغول میں ہوں توان کوسلام نہ کیاجائے۔اگرمسجدمیں کوئی نہ ہو توہمیں یہ کہناچاہئے ’’السلام علیناوعلیٰ عباداللہ الصالحین‘‘ یعنی ہم پراوراللہ کے نیک بندوں پرسلامتی ہو۔اس سلام کاجواب فرشتے دیں گے۔
(۲) مسجدمیں داخلے کے بعددورکعت نفل نمازتحیۃ المسجد پڑھیں ،اگرداخلہ مندرجہ ذیل تین اوقات میں ہوتو نفل نمازتحیۃ المسجدپڑھنامنع ہے۔
(i) طلوع آفتاب  (ii)غروب آفتاب 
(iii) نصف النہار کے وقت 
(۳) مسجدمیں تجارت کی باتیں نہ کی جائیں۔
(۴) وہاں تیریاتلواریااپناہتھیاروغیرہ نہ نکالے۔
(۵)اپنی گم شد ہ چیزوں کااعلان مسجدمیں نہ کیاجائے۔
(۶)دُنیاکی باتیں نہ کی جائیں۔
(۷)اونچی آواز میں بات نہ کی جائے ۔
(۸) جھگڑانہ کیاجائے ۔
(۹)نمازی کے آگے سے نہ گذریں ۔
(۱۰) مسجدمیں تھوکنا اورناک صاف کرنامنع ہے 
(۱۱)اپنی انگلیاں نہ چٹخائیں۔
(۱۲)بدن کے کسی حصے سے نہ کھیلیں
(۱۳)صف میں اگرمناسب جگہ نہ ہوتودوآدمیوں کے درمیان صف میں نہ گھسیں۔
(۱۴)مسجدکی صفائی کامکمل خیال رکھیں اورچھوٹے بچے یامجنون کوساتھ نہ لے جائیں۔
(۱۵)اپنے آپ کوذکراللہ میں مشغول رکھیں ۔(قرطبی)
یہاں ایک ضروری سوال درج کیاجارہاہے :مسجدوں کے انتظامی معاملات کاذمہ دارکون ہو؟ اس سوال کاجواب سورۃ التوبہ :18 میں دیاگیاہے ۔ترجمہ : اللہ کی مسجدوں کی رونق وآبادی توان کے حصے میں ہے جواللہ پراورقیامت کے دن پرایمان رکھتے ہوں،نمازوں کے پابندہوں ،زکوٰۃ دیتے ہوں ،اللہ کے سواکسی سے نہ ڈرتے ہوں،توقع ہے کہ یہی لوگ ہدایت یافتہ ہوجائیں گے۔
سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 18 میں تعمیرکے مندرجہ ذیل معانی ہیں۔
(الف)مسجدوں کی تعمیر
(ب)مسجدوں کی صفائی ومرمت وغیرہ کاانتظام کرنا۔
(ج)مسجدکے دیگرتمام معاملات کاانتظام کرنا۔
(د)مسجدکوذکر واذکار ،تلاوت قران ،نماز اور دینی تعلیم کے لیے استعمال کر نے کی سہولیات فراہم کر نا۔
پس ان تمام معاملات کے ذمہ دار صرف اورصرف وہی لوگ ہوں گے جن کی صفات اوپربیان کی گئی ہیں ۔ ہمیں کسی کومسجدمیں اللہ کاذکراورنمازپڑھنے سے نہیں روکناچاہیے۔دیکھیے سورۃ البقرۃ :114
ترجمہ: اس شخص سے بڑھ کرظالم کون ہے جواللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکرکئے جانے کوروکے اوران کی بربادی کی کوشش کرے،ایسے لوگوں کویہ حق بھی نہیں ہے کہ مسجدمیں داخل ہوں مگرڈرتے ڈرتے ۔ان کے لیے دنیامیں بھی رسوائی ہے اورآخرت میں بھی بڑاعذاب ہے ۔
پس کسی انسان کومسجدمیں عبادت وغیرہ نہ کرنے دیناانتہائی بڑاگناہ ہے ۔ ایک حدیث میں قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ مسجدیں توعالی شان ہوں گی لیکن عبادت کرنے والوں کی تعدادبہت کم ہوگی۔
علامہ اقبال نے یہی بات ایک شعرمیں کہی ہے   ؎
مسجدیں مرثیہ خواں ہے کہ نمازی نہ رہے 
یعنی وہ صاحب اوصافِ حجازی نہ رہے 
اسی طرح ایک دوسراشعرہے ؎
مسجدتوبنادی شب بھرمیں ایماں کی حرارت والوں نے 
من اپناپراناپاپی ہے برسوں میں نمازی نہ بن سکا
ایمان والے لوگوں کی نشانی کیاہے ؟حضرت ابوسعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمدؐ نے فرمایاکہ تم اس آدمی کے ایمان کی گواہی دے دوجو پابندی سے مسجدمیں آتاجاتاہے ۔(ترمذی)حضرت سلمان فارسی ؓ روایتاً نقل کرتے ہیں کہ حضرت محمدؐ نے فرمایاکہ جوکوئی مسجدمیں آئے وہ اللہ کامہمان ہے جواللہ سے ملنے گیاہے ۔اللہ اس کی مہمان نوازی کرتاہے ۔(مظہری)
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ چھ چیزیں ایسی ہیں،جوقابل تعظیم ہیں اوربہترین حسن اخلاق کی مظہرہیں۔ ان میں سے تین چیزیں توگھرمیں کرنے والی ہیں اوردوسری تین سفرمیں کرنے والی ہیں۔گھرمیں کرنے والی تین چیزیں یہ ہیں:
(۱) قران پاک کی تلاوت 
(۲) پابندی کے ساتھ مسجدوں کی حاضری۔
(۳) ایساگروپ بناناجواللہ کے راستے میں کام کرے ۔
سفرمیں کرنے والی تین چیزیں حسب ذیل ہیں۔
(۱)کھانے میں غریبوں کوشامل کرنا۔
(۲)اچھے اخلاق کامظاہرہ کرنا۔
(۳) مسافروں سے حسن سلوک سے پیش آنا۔
دعاے کہ اللہ تعالیٰ نے جن عبادتوں کومسجدوںمیں اداکرنے کاحکم دیاہے ،ہمیں انہیں مسجدوں میں اداکرنے کی توفیق دےاورہمیں پابندی سے مسجدوں میں جانے والا بنادے تاکہ ہم بھی اللہ کے مہمانوں میں شامل ہوجائیں۔(آمین)۔
رابطہ نمبر۔8825051001