حیات بخش کتابیں

ایک مربوط علمی اور منضبط تزکیاتی سلسلہ

21 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ملک محمد جاوید۔۔۔۔ اچھہ بل رفیع آباد
 شیخ    الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی ؒ نے علماء وقت اور اکابرین کے ایماء و ارشاد پر کتب فضائل الگ الگ تصنیف کیں جنہیں یکجا کرکے دعوت و تبلیغ کے کام میں نصاب میں شامل کیا گیا۔مصنف موصوف کا فنِ حدیث میں درک و کمال کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ؒ نے جامعہ مظاہر العلوم میں مسلسل ۴۳ سال درس حدیث دیا، جس میں ابوداؤد شریف تقریباً ۳۰ مرتبہ، بخاری شریف ۲۵ مرتبہ درساً پڑھائیں، مشکوٰۃ شریف، نسائی شریف، موطا امام مالک و محمد ؒ کی تدریس اس پر مستزاد ہے۔ حضرت شیخ نے سو ؍۱۰۰ کے قریب مطبوعہ و غیرہ مطبوعہ کتابیں چھوڑیں ۔ ان میں چند ایک درج ذیل ہیں:
(۱)۔ حجۃ الودع و عمرات النبی ﷺ  :  شیخ کی عمر اس وقت محض ۲۷ سال تھی جب یہ کتاب لکھی گئی۔ بعد میں مزید توضیح و تفصیل اور عمرات نبوی کی بحث و فقہی احکام کا استخراج کیا گیا ہے۔ بقول مولانا علی میاں ندوی ؒ ۔۔یہ رسالہ اس موضوع پر کافی و شافی بن گیا اور اس کو اس موضوع پر ایک چھوٹا سا دائرۃ المعارف کہا جاسکتا ہے۔  (۲)۔ خصائل نبوی شرح شمائل ترمذی: شیخ  ؒنے عوام الناس کے فائدے کے پیش نظر امام ترمذی ؒ کی کتاب شمائل ترمذی کا بامحاورہ سلیس ترجمہ کرکے اس مبارک کتاب کی شرح فرمائی ہے۔ اس کو  بتوفیق ایزدی عوام و خواص میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ حضرت شیخ  ؒکی یہ شرح، شمائل ترمذی کی سب سے جامع و مستند شرح مانی جاتی ہے۔ 
(۳)۔ لامع الدراری: اصلاً یہ حضرت گنگوہی ؒ کی تقریرات بخاری کا مجموعہ ہے ، جس کو حضرت شیخ نے اضافوں و تشریحات اور۲۰۰ صفحات پر مشتمل ایک غیر معمولی عالمانہ و فاضلانہ مقدمہ سے مزین فرمایا ہے۔ جس میں امام بخاری اور ان کی جامع الصحیح کے مختلف گوشوں، اصول و رجال کی معلومات اور فوائد و نکات ، مراتب کتبِ حدیث اور اجتہاد و استنباط پر مبسوط کلام کیا گیا ہے۔ 
(۴)۔ الابواب والتراجم للبخاری: ابواب و تراجم کے سلسلہ میں اصول و قواعد کو ذوق و تحقیق اور طویل اشتغال و غور و تامل کے بعد مرتب کرکے ان کی تعداد کو ستر تک پہنچایا گیا ہے۔ مولانا علی میاں لکھتے ہیں:
  ہمارے علم میں اتنا احتواء کسی کتاب میں نہیں کیا گیا، والغیب عند اللہ،، جو لوگ جانتے ہیں کہ بخاری کے ابواب و تراجم میں کتنے لطائف و نکات اور دقائق شامل ہیں اور اساتذہ و مدرسین کو اس سلسلہ میں کیا  ہفت خواں سر کرنا پڑتا ہے ،وہ اس کتاب کی افادیت و اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ (حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی ؒ ، مؤلف: مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ  ص ۲۴۵)
(۵) ۔ اوجز المسالک شرح مؤطا الامام مالک ؒ: یہ کتاب شیخ کا سب سے بڑا علمی و تصنیفی کارنامہ ہےجو انہوں نے طویل عرصہ کے انہماک، وسیع و عریض مطالعہ اور تحقیق و تدقیق کو سامنے رکھ کر انجام دیا ہے۔ مؤطا امام مالک کی عربی زبان میں یہ شرح ۱۵ ؍جلدوں میں حدیث و فقہ کے مباحث کا ایک نادر گنجینہ ہے۔ اس کو لکھنے میں شیخ کو ۳۰ ؍سال سے زائد وقت لگ گیا۔ مولانا علی میاں ؒ فرماتے ہیں:
میں نے علامۂ حجاز مفتی مالکیہ سید علوی مالکی سے ، جو نہ صرف حجاز کے بلکہ اپنے دور کے نہایت متبحر اور وسیع النظر عالم تھے، اوجز کی تعریف سنی ۔وہ اس پر تعجب کا اظہار کرتے تھے کہ خود مالکیہ کے اقوال و مسائل کا اتنا گہرا علم اور اتنی صحیح نقل موجب ِ حیرت ہے۔ نیز فرمایا کہ اگر شیخ زکریا مقدمہ میں اپنے کو حنفی نہ لکھتے تو میں کسی کے کہنے سے بھی ان کو حنفی نہ مانتا۔میں ان کو مالکی بتاتا، اس لئے کہاوجز المسالک میں مالکیہ کے جزئیات اتنی کثرت سے ہیں کہ ہمیں اپنی کتابوں میں تلاش کرنے میں دیر لگتی ہے۔  (ایضاً  ص ۲۴۳)
(۶)۔ المؤلفات والمؤلفین: یہ رسالہ جیسا کہ اس کے نام سے ہی مترشح ہوتا ہے کہ اس میں معروف کتب ِ حدیث و کتب فقہ، اور معروف مؤلفین کے حالات جامع و مستند انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔
(۷)۔ الوقائع والدہور: یہ کتاب تاریخ اسلام پر مشتمل تین؍۳ جلدوں میں ہیں۔ جس میں عہد رسالت، خلافت راشدہ اور اموی دور کے حالات درج کئے گئے ہیں۔ 
(۸)۔ تاریخ مشائخ چست:  اس کتاب میں نبی علیہ السلام ، خلفاء راشدین ؓکی حیات مبارکہ کو روحانی کڑی میں پرو کر سلسلہ عالیہ چشتیہ کے مشائخ کبار کے احوال منظم طور پر رقم کئے گئے ہیں۔ ان تاریخی تصنیفات سے شیخ کے تاریخی ذوق کا پتا چلتا ہے۔
(۹)۔ الاعتدال فی مراتب الرجال :یہ کتاب نظر و فکر کے اختلاف کو اعتدال پر رکھنے اور اختلاف کے آداب پر مشتمل ہے ۔ کتاب میں علماء سے دشمنی رکھنے پر وعیدیں، اہل فن کی قدرو منزلت، اختلاف کے درجات، مقاصد اختلاف،حدود سے تجاوز پر تبنیہ اور علماء حق و علماء سو میں فرق وغیرہ مضامین کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ 
(۱۰)۔  شریعت و طریقت کا تلازم : جس میں علم الاحسان اور  والذین اتبعوھم باحسان  آیت کی صحیح تشریح، امراض باطنی اور ان کے علاج نیز عبادات میں نشاط و فرحت اور احتساب و احسان کی کیفیات کو لانے کا طریقہ کتاب و سنت کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ تلک عشرۃ کاملۃلیکن ان ساری تصنیفات میںحکایات صحابہ ؓ اور کتب فضائل جو بعد میں تبلیغی نصاب یا فضائل اعمال   کے نام سے مقبول و مشہور ہوئی اور ان سے امت کے ایک بڑے طبقہ کو جو فائدہ پہنچا جس کا انکار کرنا سورج کی روشنی کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔اس کتاب کا ایک خاص مقام ہے۔ مولانا علی میاں لکھتے ہیں:
ان (کتب فضائل ) سے جو دینی و عملی نفع پہونچا اس کے بارہ میں ایک ممتازمعاصر عالم کا یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں معلوم ہوتا کہ  اس کے ذریعہ ہزاروں بندگانِ خدا ولایت کے درجہ تک پہنچ گئے۔  (ایضاً  ص  ۲۵۰)
رسالہ حکایات ِصحابہ ؓ  شیخ نے حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری ؒ کی فرمائش پر تصنیف فرمایا۔ بعد میں دعوت و تبلیغ تحرک کے بانی حضرت مولانا الیاس کاندھلوی ؒ کے ایماء و حکم پر شیخ  ؒنے فضائل نماز، فضائل ذکر، فضائل قرآن، فضائل رمضان، فضائل تبلیغ اور فضائل درودشریف الگ الگ رسالے لکھے جن کو حکایات صحابہ ؓ کے ساتھ پھر ایک جلد میں جمع کرکے فضائل اعمال اول نام رکھا گیا۔ اسی طرح فضائل صدقات و فضائل حج کو الگ جمع کرکے فضائل اعمال دوم کے نام سے شائع کیا گیا۔ 
 یہ مولانا الیاس ؒ کا اعلیٰ درجے کا تفقّہ فی الدین، فراست ایمانی، امت کے شدید غم کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کی زندگی و عمل میں فضائل کی اہمیت و قوت کا ادراک کیا۔ انہوں نے امت میں اخروی نفع کے یقین میں بگاڑ کو محسوس کیا۔ چنانچہ آپ فرماتے تھے : 
فضائل کا درجہ مسائل سے پہلے ہے۔ فضائل سے اعمال کے اجر پر یقین ہوتا ہے،جو ایمان کا مقام ہے اور اس سے آدمی عمل کے لئے آمادہ ہوتا ہے۔ مسائل معلوم کرنی کی ضرورت کا احساس تب ہی ہوگا جب وہ عمل پر تیار ہوگا، اس لئے ہمارےنزدیک فضائل کی اہمیت زیادہ ہے۔ (ملفوظات مولانا الیاس ؒ)
اسی ضرورت و غرض کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے فضائل اعمال کو مرتب کیا گیا۔ حکایت صحابہ ؓ  میں شیخ نے سلیس وشرین زبان میں سیرت النبی ﷺ ، ازواج مطہرات ؓ ،اہل بیت کرام اور صحابہ کرام ؓ و تابعین کے متفرق مگر مؤثر اور رقت انگیز و سبق آموزواقعات بیان کئے ہیں۔قلب و روح میں ذوق و شوق پیدا کرنے کے لئے مؤثر واقعات اور سلف صالحین کے حالات ِزندگی کے مطالعہ کی ضرورت ایک عینی حقیقت ہے جس کا انکار سطحی علم، ہٹ دھرمی،تعصب اور ضد کی نشاندہی کرتا ہے۔ علمائے اُمت نے ہمیشہ سے صلحاء و اکابرین کی مستقل سیرتیں لکھی ہے۔ ابن جوزی ؒ جیسا امام فن عوام تو عوام، علماء و طلباء کو  صیدالخاطر  میں اس کا مشورہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
   ـ"میں نے دیکھا فقہ و سماع حدیث میں انہماک و مشغولیت قلب میں صلاحیت پپدا کرنے کےلئے کافی نہیں، اس کی تدبیر یہی ہے کہ اس کے ساتھ مؤثر واقعات اور سلف صالحین کے حالات کا مطالعہ شامل کیا جائے ۔ حرام و حلال کا خالی علم قلب میں رقت پیدا کرنے کے لئے کچھ زیادہ سودمند نہیں، قلوب میں رقت پیدا ہوتی ہے مؤثر احادیث و حکایات سے اور سلف صالحین کے حالات سے، اس لئے کہ ان نقول و روایات کا جو مقصود ہے وہ ان کو حاصل تھا ،احکام پر ان کا عمل شکلی اور ظاہری نہ تھا، بلکہ ان کو اصلی ذوق اور لب لباب حاصل تھا۔۔۔۔ سلف صالحین اور زہّاد ِامت کی سیرت کا مطالعہ ضرور شامل کرو تاکہ اس سے تمہارے دل میں رقت پیدا ہو۔" (بحوالہ ٔ   تاریخ دعوت و عزیمت  ج۱ص  ۲۴۶،۲۴۷)
چنانچہ انہوں نے  صفۃ الصفوۃ  جو بزرگوں اور اکابرین کے حالات زندگی پر ایک ضخیم کتاب ہے ،کے علاوہ مخصوص صلحائے امت اور مشاہیر عظام کے مستقل تذکرے لکھے ہیں، جن میں حسن بصریؒ، عمر بن عبدالعزیز ؒ، سفیان ثوریؒ، ابراہیم بن ادہم ؒ، بشر حافی  ؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور معروف کرخی ؒ کے تذکرے مشہور ہے۔ ایک بات ذہن نشین رہے کہ شیخ نے اپنی اس کتاب میں سلف صالحین و بزرگوں کے جو واقعات درج کئے ہیں ، جن پر معترض حضرت شیخ  ؒسے خفا ہے، ان سے گزارش ہے کہ پہلے یہ دیکھیں کہ آیا شیخ  ؒنے ان کو اپنی طرف سے بیان کیان کیا ہے یا پھر ان کو حسن خوبی و صحیح ترتیب کے ساتھ علماء امت کی کتب سے محض نقل کیا ہے تو شیخ کو مطعون کرنے کے بجائے پہلے ان متقدمین کو بھی جرم وار ٹھہرانا پڑے گا۔ 
آمدم بر سر موضوع
حضرت شیخ  ؒنے فضائل نماز، میں سب سے پہلے قرآنی آیات کو لایا ہےیعنی جن آیات میں نماز کی فضیلت وارد ہوئی ہے، ان کا ترجمہ کرکے بعدمیں ضروری ، سہل الفہم و مدلل تفسیر کی گئی ہے۔ اس کے بعد وہ احادیث مبارکہ جن میں نماز کی فضیلت آئی ہے ان کو مع ترجمہ کے سیر حاصل تشریح و توضیح کی گئی ہے۔پھر ان آیات قرآنیہ و احادیث مبارکہ کو اسی طرح بیان کیا گیا ہے جن میں نماز کو چھوڑنے پر وعیدیں وارد ہوئی ہے ۔ اس کے بعد آج کے ہم جیسے مسلمانوں کی ہمت افزائی کے لئے صحابہ کرام ؓ و اسلاف کی عبادات بالخصوص ان کی قابل رشک نمازوں اور اذکار کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے پڑھنے و سننے والے کے اندر فرائض و واجبات کے علاوہ نوافل کو ادا کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو فرد اس کتاب کے ساتھ وابستہ ہے،اس کی عبادت میں سکون و طمانیت اور سنن و آداب کی رعایت دوسرے لوگوں سے جدا گانہ ہے۔ ٹھیک اسی طرح باقی کتب فضائل (ذکر،قرآن، رمضان وغیرہ) کی ترتیب دی گئی ہے۔  
حصہ دوم میں فضائل حج میں آیات قرآنی و احادیث مبارکہ کے بعد صحابہ کرام ؓ و تابعین اور اسلاف و اولیائے امت کے شوق انگیز واقعات جو حج کے مقصد و روح سے ایک خاص مناسبت رکھتے ہیں،ذکر کئے گئے ہیں جس سے کتاب کا مؤثر ہونا لازمی ہے۔ اس حصہ میں مدینہ طیبہ کی حاضری کے آداب کو بھی بیان کیا گیا ہے۔یہی ترتیب فضائل صدقات میں رکھی گئی ہے۔ اس حصہ کو سات فصول میں منقسم کیا گیا ہےجس میں فصل اول میں مال خرچ کرنے کے فضائل، فصل دوم میں بخل کی مذمت، سوم میں صلۂ رحمی ، چوتھی میں زکوۃ کی تاکید، پانچویں میں زکوٰۃ نہ دینے پر وعیدیں، چھٹی میں زہد و قناعت اور ساتویں میں زاہدوں اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کی حکایات کو بیان کیا گیا ہے۔ 
کتاب کے اس حصہ میں اہل دل و آخرت پسند اشخاص کے ایثار و توکل، تحقیر دنیا اور شوق جنت کے ایسے مؤثر واقعات جمع کردیے گئے ہیں، جن سے حرص و طمع ، حقارت دنیا، آخرت کی اہمیت و عظمت اور شوق لقاء پیدا ہوتا ہے۔ غرض یہ سب رسائل بڑے دل پذیری اور شوق انگیزی کے حامل ہے۔جن مآخذ و مراجع سے مصنفِ کتاب نے روایات لیں ہے ان کی مکمل فہرست کتاب کے ابتدائی صفحات میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ان میں صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، ابن ماجہ، سنن نسائی، مشکوۃ شریف، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن شیبہ، معجم الطبرانی اور اسی طرح کتب تفسیر میں تفسیرکبیر، درمنثور،احکام القرآن لجصاص،تفسیر خازن وغیرہ شامل ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھو،  فضائل اعمال  ص ۵، ۶ ،۷ ،۸ )۔ محدثین و فقہاء کے نزدیک چونکہ فضائل و ترغیب میں ضعیف روایات بھی حجت و مستحب ہے۔ امام احمد ابن حنبل ؒ سے مروی ہے:
اذا روینا فی الحلال و الحرام تشددنا واذا روینا فی الفضائل تساھلنا۔ 
  جب ہم حلال و حرام کے بارے میں روایت کرتے ہیں تو تشدد کرتے ہیں اور جب فضائل و مناقب کے بارے میں روایت کرتے ہیں تو نرمی کرتے ہیں۔ (مجموعہ فتاویٰ  جلد۱۸  ص ۶۵  )
 اس لئے حضرت شیخ  ؒنے بھی اپنی کتاب میں ایسی روایات کو لیا ہے۔ جن سے کسی قسم کے عقائد و اعتقادات  ثابت کرنا مقصود نہیں بلکہ اعمال کا جذبہ و شوق دلانا مقصود ہے۔ مگر شیخ چونکہ خود بلند پایہ کے محدث تھے اس لئے آپ نے صرف روایت کو محض درج کرنے پر اکتفاء نہیں ہے بلکہ اگر اس مضمون کی کوئی دوسری روایت ہوتی ہے تو اس کو بھی پہلے کے ذیل میں نقل فرماکر اس کو تقویت دی ہے۔چنانچہ شیخ التفسیر مولانا ادریس کاندہلوی ؒ فرماتے ہیں:
  تعدد طرق سے حدیث کے ضعف میں کمی آجاتی ہے اور جو ضعیف روایت متعدد صحابہ اورمختلف سندوں سے مروی ہو، تو ایسی ضعیف حدیث بلا شبہ صحیح کی موید ہوسکتی ہے۔ اور چند ضعاف کے انضمام سے حدیث صحیح کی صحت اور وثاقت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔(سیرت المصطفیٰ  ؐج ۱  ص  ۹۸، ۹۹) فضائل اعمال کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا ہے۔یہ مصنف کتاب کا اخلاص ہے کہ آج دنیا کی تقریباً ساری معروف و مشہور زبانوں میں اس کے ترجمے ہوچکے ہیں۔ نوٹ :  اس مختصر تحریر کا مقصد صرف مذکورہ کتاب و اُس کے مصنف کا تاریخ کے سلسلہ میں تعارف کرانا تھا، اس لئے اعتراضات جو اس کتاب پر کئے گئے ہیں ، ان کو بیان نہیں کہا گیا ہے۔ الحمداللہ کتاب کی تخریج اور اس پر کئے گئے اعتراضات کے جوابات کے لئے الگ کتابیں لکھی گئیں ہیں۔ خواہش مند حضرات ان کا بھی مطالعہ کرسکتے ہیں۔
رابطہ :ریسرچ اسکالر ، اسلامک اسٹڈیز ،  اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی، اونتی پورہ، کشمیر۔ 
Email: javaidislamicstudies@gmail.com
 

تازہ ترین