تازہ ترین

’ایک ملک ایک چنائو‘ ، جائزہ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ

وزیر اعظم کی صدارت میںکُل جماعتی میٹنگ کا انعقاد، کانگریس سمیت 5اہم پارٹیوں کی عدم شرکت

20 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی //’ایک ملک ایک چنائو‘ کے ممکنات کا جائزہ لینے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی ایک کمیٹی بنانے جارہے ہیں۔اس بات کا فیصلہ وزیر اعظم کی صدارت میں ہوئی کل جماعتی میٹنگ کے دوران لیا گیا۔ تاہم’ ایک ملک ایک چنائو‘ فارمولہ کو اپنانے کیلئے آئین میں ترمیم کرنا لازمی ہے جس کیلئے بھاجپا کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اکثریت ہونی چاہیے، جو فی الوقت نہیں ہے۔کل جماعتی میٹنگ کے اختتام پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت ایک کمیٹی قائم کرے گی، جو وزیر اعظم کے تصور’ ایک ملک ایک چنائو‘ کے ممکنات کا جائزہ لے گی۔انہوں نے کہا کہ بہت ساری پارٹیوں نے اس رائے کیساتھ اتفاق کرلیا ہے۔5اہم پارٹیوں، بشمول کانگریس نے میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ممتا بینرجی نے اس طرح کے فارمولہ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ مایا وتی نے حکومت کا تمسخرہ اڑایا۔ سماج وادی پارٹی صدر اکلیش یادو اور ڈی ایم کے سربراہ ایم کے سٹالین بھی میٹنگ سے باہر رہے۔اروند کیجریوال اور چندر بابو نائیڈو اور تلنگانہ وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر رائو نے اپنے نمائندے بھیجے۔راجناتھ سنگھ نے کہا’’ وزیر اعظم نے کہا کہ ایک کمیٹی قائم کی جائیگی،جو ایک ملک ایک چنائو کے سبھی خدوخال اور اور ممکنات کا جائزہ لے گی۔انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کمیٹی بنائیں گے اور اسکے بعد اس پر کام شروع ہوگا۔راجناتھ سنگھ نے کہا ’’ ایک ملک ایک چنائو،کوئی مرکزی سرکار کا ایجنڈا نہیں ہے،بلکہ یہ ملک کا ایجنڈا ہے،اس میں سبھی پارٹیوں کو یکجا کیا جائیگا،ہم ہر رائے کا احترام کریں گے،سبھی پارٹیوں نے اسکی حمایت کی ہے تاہم بائیں بازو کی پارٹیوں کو اس پر عملدرآمد کرنے پر تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے کسی فارمولے سے وقت بھی بچے گا اور پیسہ بھی۔تاہم اپوزیشن نے اس طرح کے کسی فیصلے کو رد کردیا ہے۔انکا کہنا ہے کہ یہ متحد بھارت کے اصولوں کے خلاف ہے۔اس نئے فارمولے کے علاوہ میٹنگ میں نیتی آیوگ کی اس تجویز پر مشاورت کی گئی، جس کے تحت 28ریاستوں کے 117اضلاع کی حالت بدلنے کیلئے انہیں سماجی اور اقتصادی انڈیکس پر لانا مقصود ہے۔میٹنگ میں مہاتما گاندھی کی 150سالگرہ اور2022میں آزادی کے 75سال منانے پر بھی بات چیت ہوئی۔
 

تجویزاچھی ،مشاورت لازمی:فاروق

نئی دہلی//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اجلاس میں شرکت کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ایک ملک ایک چنائو تجویزکابغور جائزہ لینے کی وکالت کی ہے کیونکہ یہ تجویز اچھی ہے بشرطیکہ یہ وفاقی ڈھانچے کوکمزور کرنے کاموجب نہ بنے ۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر سوچ وبچار کرناچاہیے کیونکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ چلانے کی ذمہ داری موجودہ حکومت کی ہے  کیونکہ اپوزیشن اراکین عوامی اہمیت کے مسائل کواجاگر کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نئے بھارت کوتعمیر کرنے کیلئے نفرت کی سیاست کوختم کرنا ہوگا ،مختلف عیقدہ رکھنے والے لوگوں کے درمیان اور مختلف ذات پات کے حامل طبقوں میں جو خلیج پیدا کی گئی ہے اُسے کم کرنے کیلئے تمام طبقوں کو مساوی بنیادوں پر اُوپراُٹھانے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ حالیہ چنائو کے دوران عدم تحفظ پیدا ہوگیا ہے اوراس کیلئے لازمی ہے کہ بھارتی آئین کومضبوط کیاجائے ۔ 
 

یاترا کے بعد فائر بندی کی جائے: محبوبہ 

سرینگر//وزیراعظم نریندرمودی کی طرف سے طلب کئے گئے کل جماعتی اجلاس میں پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے جموں وکشمیرمیں امرناتھ یاترا کے بعد جنگ بندی کااعلان کرنے پرزوردیا۔محبوبہ نے کل جماعتی اجلاس میں کہاکہ وزیراعظم کے’ سب کا ساتھ ،سب کا وکاس اور سب  کا وشواس ‘ریاست جموں وکشمیر میں عملایا جاناچاہیے کیونکہ اس کو عملانے کشمیر بہترین جگہ ہے  کیونکہ کشمیری الگ تھلگ محسوس کررہے ہیں،انہیں پشت بہ دیوار کیاگیا ہے اور وہ زخمی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر اور ملک کی عوام کے درمیان رشتوں کو استوار کرنے کیلئے راستہ نکالا جاناچاہیے ،کشمیر معاملہ کوحل کرنے کاواحد طریقہ بات چیت اور سیاسی طریقہ کار ہے ۔