تازہ ترین

محبوس مصری صدر محمد مرسی

قید ِحیات سے آزاد

19 جون 2019 (13 : 01 AM)   
(      )

مرسلہ : حاجی بشیرا حمدو انی۔۔۔ شہر خاص
 سال   جیل وزندان میں گزارنے کے بعد آخر کار سابق مصری صدر اور الاخوان ا لمسلمون کے سنیئر قائد ڈاکٹرمحمد مرسی قاہرہ کی ایک عدالت میں اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ ۶ ؍سال سے قاہرہ جیل میں محبوس ملک کے سابق منتخبہ سربراہِ حکومت کا تختہ جنرل السیسی نے پلٹ دیا تھا ۔انہوں نے فوجی بغاوت کر کے خود قاہرہ کی زمام ِاقتدار سنبھالی، صدر مرسی کو معزول کر کے جیل میں ٹھونس دیا اور ان کے سینکڑوں حامیوں کا قتل عام کیا ، اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردے کر اس پر پابندی عائد کی ، تنظیم کی بالائی قیادت سمیت نچلی سطح کے اراکین کو غداری ، ملک دشمنی اور ایسے ہی دیگر سنگین الزامات میں مقدمات  درج کر کے پابہ زنجیر کیا گیا ۔دم ِواپسیں محمد مرسی عدالتیسماعت کے دوران بے ہوش ہو کر گرگئے اور بر سر موقع انتقال کر گئے۔ معزول صدرموت سے قبل اپنے خلاف جاسوسی کے الزام کے بارے میں جج کے سامنے اپناموقف بیان کر رہے تھے کہ آہنی پنجرے میں بولتے ہوئے بے ہوش ہوکر گر گئے، انہیں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق صدر 20 منٹ تک جج کے سامنے پورے ہوش وگوش سے بولتے رہے۔ حسنی مبارک کی آمریت کا خاتمہ ہونے کے بعد صدر مرسی جمہوری طور منتخب پہلےمصری صدر تھے۔ انہوں نے ایک سال تک حکومت کی اور نظم مملکت میں کئی اصلاحات جاری کیں، 2013میں مصری فوج نے السیسی کی قیادت میں ان کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا تھا۔محمد مرسی کے انتقال پر سب سے پہلا تعزیتی پیغام ترک صدر نے جاری کیا۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوعان نے سابق صدر کو شہید قرار دیتے ہوئے ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں سابق صدر کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ’ ’اللہ ہمارے بھائی مرسی کی بخشش کرے۔‘‘ دائیں بازو کے اخوانی رہنما محمد مرسی کو فوج کی جانب سے اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد ان پر متعدد مقدمات بنائے گئے جن میں ایران کے لیے جاسوسی اور فلسطینی تنظیم حماس کی حمایت کے الزامات لگائے گئے تھے۔
محمد مرسی کی زندگی پر ایک اجمالی نظر:
سابق صدر کا مکمل نام محمد مرسی عیسیٰ العیاط تھا۔ وہ مصر کے پانچویں صدر کے طور پر منتخب ہوئے تھے۔ 25 جنوری کے تحریرا سکوائر انقلاب کے بعد مصر کے پہلے منتخبہ صدر تھے۔ انہیں مصر کا پہلا عوامی منتخب صدر مانا جاتا ہے۔ ان کی کامیابی کا اعلان 24 جون 2012ء کو کیا گیا تھا۔ انہیں 24جون 2012ء کے انتخابات میں 51.73 فیصد ووٹ ملے تھے۔ 30 جون 2012ء کو حلف اٹھانے پر منصب صدارت پر فائز ہوئے تھے۔ انہیں 30جون 2013ء کو مصر میں بغاوت کے ذریعے معزول کر دیا گیا تھا۔ تب سے وہ جیل میں قید تھے۔ محمد مرسی الحریہ ولعدالہ پارٹی قائم کرکے اس کے سربراہ بنے تھے۔ وہ الاخوان المسلمین جماعت کے دعوتی ادارے کے رُکن تھے، وہ 2000ء تا 2005ء میں مصری پارلیمنٹ کے رُکن رہے۔ پیشے کے اعتبار سے مکینکل انجیئنر تھے اور یونیورسٹی میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے تھے۔ سابق صدر نے انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی تھے۔ محمد مرسی کا بچپن مصر کے معروف علاقے الشرقیہ میں گزرا۔ ان کے والد کاشت کار اور والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ وہ اپنے والدین کے بڑے بیٹے تھے۔ ان کی 2 بہنیں اور 3 بھائی تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم الشرقیہ کے اسکولوں میں حاصل کی۔ وہاں سے وہ یونیورسٹی کی تعلیم کےلیے قاہرہ منتقل ہو گئے تھے۔ انہوں نے مصری فوج میں 1975-76ء کے دوران فوجی تربیت بھی لی تھی، یہ تربیت مصر میں لازمی ہوتی ہے۔محمد مرسی نے 30نومبر 1978ء کو نجلاء محمود سے شادی کی تھی۔ ان کے بچوں میں احمد ، شیماء، اُسامہ ، عمر اور عبداللہ ہے۔
محمد مرسی نے 1982ء میں امریکہ ساؤتھ کیلیفورنیا یونیورسٹی سے پروفیسر کروگر اسکالر شپ پر پی ایچ ڈی کی تھی۔ مصر کے سابق صدر کو سخت سرکاری نگرانی میں مشرقی قاہرہ کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔۔مصر ی پبلک پراسیکیوشن نے پوسٹ مارٹم کی کارروائی مکمل ہوجانے کے بعد تدفین کا اجازت نامہ جاری کیا تھا۔ اس موقع پر سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے۔ مصری حکام نے متوفیٰ کی عوامی جنازے کی اجازت نہیں دی تھی۔ محمد مرسی کے وکیل عبدالمنعم عبدالمقصود نے بتایا کہ تدفین میں مرسی کے اہل خانہ اور وکیل شریک ہوئے۔ مرحوم کے صاحبزادوں احمد اور عبداللہ نے اس سے قبل فیس بک اکاؤنٹ پر اطلاع دی تھی کہ ان کے گھر والوں کو تدفین کی کارروائی کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں۔ انتقال سے قبل مصر کے سابق صدر محمد مرسی نے جج سے اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ مرسی کے بیٹے احمد اور عبداللہ نے اخباری رپورٹوں پر تبصرے کے طو رپر کہاکہ جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصری حکام نے خاندان کے قبرستان میں ان کے والد کی تدفین کی اجازت نہیں دی۔
 انتقال سے قبل مرسی نے کیا کہا؟
 انتقال سے قبل مصر کے سابق صدر محمد مرسی نے جج سے اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت حاصل کی تو انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں اپنا موقف پیش کیا۔ بیان دینے کے بعد ان کے چہرے پرتھکاوٹ نظر آرہی تھی۔ انہوں نے خود پر جاسوسی کے الزام کی تردید کی اور جیل میں بعض سرگرمیوں کی شکایت بھی کی۔ سابق صدر کے وکیل عبدالمقصود نے میڈیا سے اپنی گفتگومیںبتایا کہ محمد مرسی نے عدالت میں سات منٹ تک اپنا بیان دیا۔ اس کے ایک منٹ بعد ڈاکٹر مرسی بے ہوش ہوکر گر گئے۔عینی شاہدین کا کہنا تھاکہ عدالت کے پنجرے میں موجود الاخوان کے کئی رہنما اپنے قائد محمد مرسی کی موت کا یقین ہونے پر بے ہوش ہوگئے تھے۔ عدالت میں موجود طبی عملے نے ان کا فوری معائنہ کیا۔ اسی دوران جج نے سماعت ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔عبدالمقصود نے یہ بھی بتایا کہ محمد مرسی نے اپنے بیان میں مقدمے کی کارروائی کی بابت اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی کوئی بات نہیں کہی ۔ مرسی نے اپنا بیان ایک شعر پر ختم کیا، اس کا مفہوم یہ ہے     ؎
 میرا وطن مجھ پر ظلم ڈھائے تب بھی مجھے عزیز ہے
 میرے اپنے میرے ساتھ بُرا کریں تب بھی وہ میری نظر میں صاحبِ کرم ہیں
عبدالمقصود کے مطابق مرسی کو اپنے وکیل سے ملنے یا بیرونی دنیا یا اہل خانہ سے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہیں جیل میں الگ کمرے میں رکھا گیا۔
 ہیومن رائٹس واچ کے بیان پر مصری ردعمل :
مصری جریدے ’’الاہرام‘‘ کے مطابق مصر کے محکمہ اطلاعات نے سابق صدر محمد مرسی کی وفات سے متعلق ہیومن رائٹس واچ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ہیومن رائٹس واچ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ادارے کی چیئرپرسن سارہ لیا ویٹسن نے کئی ٹویٹ کئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ مصری حکومت مرسی کی موت کی ذمہ دار ہے۔ حکومت نے صحت نگہداشت کے سلسلے میں لاپرواہی برتی۔ مصری محکمہ اطلاعات نے ردعمل میں کہا کہ ہیومن رائٹس واچ نے اس قسم کی دروغ بیانی پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ کام پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے۔مصر کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ محمد مرسی کو مکمل صحت نگہداشت فراہم کی جاتی رہی ہے اور کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی۔ فروری 2017 میں مرسی نے اپنے بائیں بازو میں مسلسل تکلیف کی شکایت کی تھی جس کے بعد انہیں العجوزہ کے پولیس ہسپتال میں داخل کرکے مکمل معائنہ کرایا گیا تھا۔ مصری جج نے 29 نومبر2017 کو طرة جیل کے ہسپتال میں طبی معائنہ کرایا تھا۔ دس ڈاکٹروں پر مشتمل ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ بھی سابقہ طبی معائنے کی رپورٹ جیسی تھی۔ وہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریض تھے۔ پابندی سے ان کا علاج کیا جا رہا تھا۔مصری پبلک پراسکیوشن کے مطابق محکمہ جیل خانہ جات مرسی کی طبی نگہداشت کے لیے متعدد ہسپتالوں کی خدمات حاصل کیے ہوئے تھے۔ تمام طبی دستاویزات متعلقہ اداروں کو جلد پیش کردی جائیں گی۔ ان کے جسم پر کسی طرح کا کوئی زخم کا نشان نہیں تھا۔ انہیں مقامی وقت کے مطابق چار بج کر 50 منٹ پر ہسپتال پہنچایا گیا تو ان کی وفات ہوچکی تھی۔ الاخوان نے مرسی کی موت کا الزام مصری حکومت پرعائد کیا ہے۔