تازہ ترین

چمکی بخار سے بچوں کی موت روکنے کے لئے کمیٹی تشکیل ہو:چراغ

19 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی//بہار کی جموئی لوک سبھا سیٹ سے لوک جن شکتی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان نے مظفرپور اور اس کے مضافاتی اضلاع میں دماغی بخار(چمکی بخار)سے 100سے زیادہ بچوں کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ بچوں کی موت کی صحیح وجہ ،ان کے علاج ،روک تھام کے اقدامات اور اس سلسلے میں بیداری پھیلانے کے لئے کمیٹی تشکیل کی جانی چاہئے ۔مسٹر پاسوان نے کہا کہ سال در سال بچے موت کے منہ میں جارہے ہیں،لیکن اس بیماری کی اصل وجہ پتہ نہیں چل پارہی ہے ۔پارلیمنٹ میں اس پر بھی بحث ہوئی تھی کہ اس بیماری کے بارے میں پورے معلومات اور اس کے روک تھام کے طریقوں پر کام کیا جانا ضروری ہے ۔حکومت کو اس کے لئے ایک طے مدت میں کام کرنا یقین بنانا چاہئے تاکہ طے مدت کے اندر اس بیماری کی وجوہات اور علاج کا پتہ لگایا جاسکے ۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیراعلی نتیش کمار کے آج مظفرپور جانے سے حالات میں بہتری ضروری ہوگی۔انہیں وزیراعلی پر پورا بھروسہ ہے ۔یہ پوچھے جانے پر کہ بچوں کی ذمہ داری کون لے گا؟انہوں نے کہا کہ صحت واضح طورپر ریاستی حکومت کا موضوع ہے ،لیکن بچوں کو موت سے بچانے کی ذمہ داری سب کی ہے ۔مسٹر پاسوان نامہ نگاروں کے کئی سوالوں کو سیدھا جواب دینے سے گریز کرتے نظر آئے ۔اس سوال پر کہ 100 سے زیادہ بچوں کی موت کے بعد وزیراعلی کا مظفرپور جانا ان کی نیند دیر سے کھلنے کی وجہ نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ یہ بہت حساس مسئلہ ہے اور اس وقت وہ ایسی کسی بات کا جواب دینا صحیح نہیں سمجھتے ۔مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن اور وزیرمملکت برائے صحت اشونی چوبے کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران بہار کے وزیر صحت منگل پانڈے کے ہندوستان -پاکستان کے کرکٹ میچ کا اسکور پوچھنے کے بارے میں سوال کرنے پر انہوں نے کہا کہ ایسے معاملے میں خاص حساسیت برتنی چاہئے ۔اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں کہنا چاہتے ۔انہوں نے کہا کہ جن والدین نے اپنے بچے کھوئے ہیں ،وہ بہت پریشان اور غصے میں ہیں۔ایسے میں سیاسی اور دیگر کسی قسم کے تبصرے سے حالات اور بگڑیں گے ۔فی الحال انہیں تعزیت ،ہمدردی اور سہارے کی ضرورت ہے ۔یہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ اب ایک بھی بچے کی موت نہ ہو۔اگر دواؤں،ڈاکٹروں ،اسپتالوں یا کسی بھی قسم کی کوئی ضرورت پڑتی ہے تو اسے فوراً پورا کیا جائے ۔انہوں نے ریاست اور مرکز دونوں ہی حکومتوں سے بچوں کی اموات کی وجہ پتہ لگانے اور پوری طرح سے اس کے روک تھام کے طریقے تلاش کرنے کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم از کم یہ عزم ضروری کیا جانا چاہئے کہ اگلے سال سے اس کی وجہ سے ایک بھی بچے کی موت نہ ہو۔یواین آئی