انڈیا ایجوکیشن کانکلیو

اپنے مقصد براری میں کس حد تک کامیاب

18 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
حیدر  آباد میں کل ہند تعلیمی کانفرنس کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ایک ایسے وقت جب کہ حالیہ واقعات کے پس منظر میں مسلمان مایوس نہیں تو کم از کم شش و پنج میں مبتلا ہیں۔ اس کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ آیا اس کا کوئی مقام ہے یا نہیں۔ کل تک ہر شعبہ حیات میں اس کی اہمیت رہی۔ حکومتیں بھی اس کے تعاون کے بغیر تشکیل نہیں پاسکتی تھیں‘ مگر حالیہ عرصہ کے دوران جو سیاسی حالات پیدا ہوئے۔ جو منظر نامہ تبدیل ہوا اس میں اسے اپنی سیاسی بے وزنی کا احساس شدت سے ہونے لگا۔ شاید اس لئے کہ مسلمانوں نے جس کا ساتھ دیا اس میں سے اکثریت کو فائدہ نہیں ہوا۔ اور جہاں مسلمانوں اکثریت میں ہیں‘ وہاں سے بھی ان کے نمائندے ناکام رہے۔ سیکولرزم پر یقین رکھنے والے مسلمانوں کا سیکولرزم پر سے بھرم ختم ہونے لگا۔ کیوں کہ الیکشن 2019ء کے دوران ایسے کئی چہروں سے سیکولرزم کے نقاب  اترگئے۔ سبھی چہرے ایک جیسے عیار و مکار نظر آئے۔ مسلمانوں کی اکثریت کو یہ احساس ضرور ہوا کہ سیکولرزم کے نام پر ان سے فریب کیا گیا۔ سیکولرزم کا لبادہ سب نے اوڑھ رکھا تھا مگر اندر سے سبھی نے خاکی نیکر پہن رکھی تھی۔ اس مایوسی کے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے حیدرآباد میں مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے امکانات تلاش کرنے کے لئے ایک کل ہند کانفرنس ’’انڈیا ایجوکیشن کانکلیو‘‘ کا میسکو اور انڈیا ایجوکیشن موومنٹ نے اہتمام کیا ہے جس میں تمام شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی نامور ہستیاں، ماہرین تعلیم، دانشور، علمائے کرام، ماہرین قانون شرکت کررہے ہیں۔ چار روزہ کانفرنس میں تقریباً ہر ایک موضوع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یوں تو آئے دن کوئی نہ کوئی تنظیم اس قسم کے کانفرنسوں کا اہتمام کرتی ہے۔ قراردادیں منظور ہوتی ہیں‘ تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔ مستقبل کی منصوبہ سازی کی جاتی ہے اور پھر رات گئی بات گئی۔
میسکو ایک باوقار ادارہ ہے۔ 40برس پہلے نوجوان ڈاکٹرس نے اپنی قوم کی خدمت کے جذبے کے ساتھ اس کی بنیاد ڈالی تھی۔ 40برس کے دوران میسکو نے غیر معمولی ترقی کی۔ ایک ڈائیگناسٹک سنٹر سے کے جی تا پی جی تعلیمی اداروں کا جال پھیلایا۔ اسکالر شپس سے لے کر شخصیت سازی، کردار سازی، کے ورکشاپس کا اہتمام کیا۔ قرآن فہمی، عربی زبان دانی کی تحریک کو عام کیا۔ رفاہ عامہ اور انسانیت نوازی کے کشمیر سے کنیا کماری تک اَنمٹ نقوش مرتب کئے۔ ہر ادارے اور تحریکات کو نشیب و فراز سے گزرنا پڑتا ہے۔ میسکو بھی اِن حالات سے دوچار ہوا۔ تاہم اس کے ذمہ داروں کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی۔ انہوں نے اپنی خدمات اور جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا۔ میسکو نے 2000ء میں درشہوار ہاسپٹل کے تعاون سے حیدرآباد میں پہلی عالمی طبی کانفرنس کی میزبانی کی تھی جس میں تمام مذاہب کے ماننے والے اسکالرس، سیاست دان اور دانشوروں نے شرکت کی تھی۔ قرآن کی تعلیمات، اسلام سے واقفیت، طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصولوں کو نہ صرف قومی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر عام کرنے میں یہ کانفرنس کامیاب رہی تھی۔ اس کے بعد تحفظات کے مسئلہ پر بھی ایک سمینار کی میزبانی کی میسکو نے ہمت کی تھی کیوں کہ یہ وہ دَور تھا جب کئی اہم جماعتیں تنظیمی اور تحریکات مسلم تحفظات کی مخالفت کررہی تھیں۔ میسکو کے اس سمینار میں پہلی مرتبہ تحفظات کے فوائد سے واقفیت حاصل ہوئی اور تحفظات کس طرح سے حاصل کئے جاسکتے تھے۔ تحفظات کا قانونی طور پر تحفظ کیسے کیا جائے ایسے اہم امور پر مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں کی ماہرین تحفظات نے روشنی ڈالی تھی۔ غرض یہ کہ میسکو نے ماضی میں اپنی قوم کے لئے بہت کچھ کیا اور اب انڈیا ایجوکیشن کانکلیو ایک اہم اقدام ہے‘ اس میں جن امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور جن مستقبل سے متعلق جو فیصلے کئے جائیںگے‘ سنجیدگی کے ساتھ اس پر عمل کیا جائے تو مسلمانوں کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ تعلیم‘ کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پہلے کے مقابلے میں آج مسلمانوں میں تعلیمی شعور بیدار ہوا ہے۔ اچھی خاصی تعداد اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہے۔ مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ اور نئی نسل کو ہم اعلیٰ تعلیم تو دلارہے ہیں مگر اخلاقی تربیت سے وہ محروم ہیں۔ اس لئے کہ جن تعلیمی اداروں میں ہمارے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں‘ وہاں درس اخلاقیات کا کوئی نظم نہیں۔ مسلم انتظامیہ کے تحت قائم بعض تعلیمی اداروں نے ایک حد تک جونیئر کالج کی سطح تک طلباء اور طالبات کو ڈسپلن کا پابند بنارکھا ہے۔ تاہم گریجویشن کے سطح پر آنے کے بعد اِن اداروں کے انتظامیہ کی گرفت کمزور ہوجاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ڈونیشن کی بنیاد پر جو طلبہ داخلہ لیتے ہیں‘ ان سے انتظامیہ آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ بعض اداروں میں انتظامیہ طلباء اور طالبات کی اخلاقی گراوٹ کا ذمہ دار ہوجاتا ہے۔ کیسے یہ آپ خود جائزہ لیں۔گذشتہ 30-35برس کے دوران مسلم انتظامیہ کے تحت نرسری تا ہائی اسکول کی سطح تک کئی ادارے قائم ہوئے۔ ان میں داخلہ دلانے کا رجحان بھی ہے اور بعض اداروں نے واقعی نئی نسل کو سدھارنے ان کے اخلاق کو سنوارنے میں نمایاں رول ادا کیا۔ مگر آج بھی اکثریت مشنری اسکولس کا رخ کرتی ہے اور اُن میں داخلہ دلانے کے لئے ہم ہر قسم کا سمجھوتہ کرلیتے ہیں۔ اپنی مادری زبان اردو کے بجائے کوئی اور زبان اختیار کرنے کے لئے راضی ہوجاتے ہیں۔ اِن مشنری اسکولس میں یقینا تعلیمی معیار بہتر ہوتا ہے۔ اس لئے وہ ایک مقصد کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ مگر بچوں کے بنیادی عقائد متزلزل ہوتے ہیں۔ اگر گھریلو ماحول اچھا اور دینی ہو توپھر بھی ان بچوں کے عقائد محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ورنہ گھر میں تو عربی پڑھانے والے مولوی صاحب ’’قل ہو اللہ احد۔۔۔ لم یلد ولم یولد‘‘ کا درس دیتے ہیں اور مشنری اسکولس میں ہر دن کی شروعات ’’آسمانی باپ‘ خدا کے بیٹے۔۔۔ (نعوذباللہ)‘‘ سے ہوتی ہے۔ بنیادی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک اخلاقی تعلیم کے فقدان نے معاشرہ کو منتشر کردیا۔ مشترکہ خاندانوں کا رواج ختم ہوگیا۔ماں باپ اور اِن جیسے رشتوں کا احترام باقی نہیں رہا۔ جب ایک خاندان متحد نہیں رہ سکتا تو ملی اتحاد کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟
دینی مدارس جو خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اِن مدارس کا طفیل ہے کہ مسجدوں سے اذانیں گونج رہی ہیں۔ جمعہ کے خطبات ہورہے ہیں۔ ہمارے بچے کسی نہ کسی حد تک اپنے دین سے جڑے ہوئے ہیں۔ دینی مدارس کا المیہ یہ ہے کہ چندایک کو چھوڑ کر بیشتر اب بھی صدیوں پیچھے ہیں‘ جبکہ قرآن مجید میں 700 سے زائدعلوم کا ذکر کیا گیا ہے‘ تدبر پر زور دیا گیا‘ نئی راہوں کو تلاش کرنے کی تاکید کی گئی‘ عقل کے استعمال کی بات کی گئی‘ اکثر ہم اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیںکہ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘۔ کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ چین کا حوالہ کیوں دیا گیا۔ یقینا اُس دور میں سرزمین عرب سے چین کا فاصلہ اور مسافت بہت طویل تھی مگر اُس دورمیں یعنی چھٹی صدی عیسوی میں چین سائنس و ٹکنالوجی کا مرکز تھا۔ دینی مدارس میں آج یقینا کمپیوٹر، انگلش اور دیگر علوم سکھائے جارہے ہیں‘اور دینی مدارس کے فارغ طلبہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ انجینئر، ڈاکٹر اور سیول سرویس بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی مدارس کو حکومت کی مداخلت کے بغیر اِن اداروں کے انتظامیہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرے تاکہ اِن مدارس کے فارغ التحصیل مسجد کی امامت بھی کریں اور کسی ہاسپٹل میں یا اپنے مطب میںپریکٹس بھی۔ وہ اذان بھی دیں تعمیراتی پراجکٹس کی تکمیل بھی کریں۔ دین کی تبلیغ بھی کریں‘ اور سیول سرویسس کے امتحانات بھی شریک ہوں۔ریاستی حکومتوں کے امتحانات میں حصہ لیں۔
انڈیا ایجوکیشن کانکلیو میں تعلیم تربیت کے ساتھ ساتھ سیاسی شعور کو بیدار کرنے کی تحریک کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ حالات سے نمٹنے کے طریقوں سے بھی آگاہی ہو۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے موضوع پر بھی ایک سیشن ہونے والا ہے‘ یہ اتفاق ہے کہ انڈیا ایجوکیشن کانکلیو کے آغاز سے ایک دن پہلے مرکزی کابینہ میں 3طلاق بل کو منظوری دی گئی‘ اس سے متعلق قانون سازی کی راہ میں اب زیادہ رکاوٹیں نہیں ہیں۔ اسلامی ذہن ومزاج کی حامل خواتین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عام خواتین میں یہ شعور بیدار کریں کہ کسی وجہ سے خاندانی تنازعات پیدا ہوجائیں تو اس کی یکسوئی شرعی پنچایتوں کے ذریعہ کی جائے۔ اگر ہمارے آپسی معاملات آپس ہی میں طئے ہوجائیں تو لاکھ قوانین بن جائیں‘ کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ چوں کہ مفادات کی خاطر ہم خود عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں جہاں انصاف تو کیا ملتا ہے‘ اکثر خواتین کو سیاہ لبادہ والوں سے ایسے تلخ تجربات ہوجاتے ہیں‘ کہ اُسے زبان پر نہیں لایا جاسکتا۔ ہم بار بار کہتے ہیں کہ قرآن مجید ہمارے لئے ضابطہ حیات ہے مگر ہم میں سے اکثر قرآن فہم نہیں ہیں۔ قرآن فہمی کو عام کرنے کی مہم چلائی جائے مایوسی اور بزدلی کو دور کرنے کے لئے اپنے اسلاف کے واقعات سے واقف کروایا جائے۔ کم از کم مسلم انتظامیہ کے تحت جو ادارے ہیں‘ ان میں قرآن اور حدیث فہمی اور سیرت صحابہ رضی اللہ عنہم سے متعلق ایک پریڈ ضرور رکھا جائے تاکہ موجودہ حالات سے نمٹ سکیں۔ مقابلہ کرسکیں۔ خدا کرے کہ یہ کانفرنس اپنے مقصد میں کامیاب ہو۔
رابطہ : ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد۔
 فون: 9395381226
 
 

تازہ ترین