تازہ ترین

موسم کی تباہ کُن کروٹ: بادل پھٹے، بجلیاں گریں ،ژالہ باری سے تباہیاں

دوشیزہ سمیت 2لقمہ ٔ اجل،فصلوں کو بھاری نقصان

18 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ارشاد احمد +عازم جان
سرینگر //سوموار کو موسم نے ایک بار پھر کروٹ لی اور متعدد علاقوں میں تیز آندھی ، ژالہ بھاری اور بادل پھٹنے کے واقعات رونما ہوئے گاندبل میں بادل پھٹنے کی وجہ سے 3بچوں کا باپ لقمہ اجل بن گیا جبکہ سمبل میں ایک بچی آسمانی بجلی کی زد میں آکر موت کی آغوش میں چلی گئی ۔گاندربل علاقے میں اُس وقت رنج غم کی لہر دوڑ گئی جب وہاں آسمانی بجلی گرنے کے سبب 3بچوں کا باپ لقمہ اجل بن گیا ۔ضلع انتظامیہ کے مطابق 46سالہ محمد یوسف میر ولد عزیز میر ساکن باکورہ آلسٹنگ گاندربل اپنے گھر کے نزدیک کھیت میں دھان کی پنیری لگا رہا تھا کہ اس دوران اچانک آسمانی بجلی کی زد میں آنے کے سبب اس کی موت واقعہ ہوئی ۔ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل نے ٹیم کو علاقے میں روانہ کر دیا ہے جو حالات کا جائزہ لے رہی ہے ۔بانڈی پوری ضلع میں بھی آسمانی بجلی کی زد میں آکر  16 سالہ لڑکی موت کی آغوش میں چلی گئی ۔عینی شاہدین کے مطابق ناگن سمبل کے گاؤں میں محمد سکندر ملہ کے آنگن میں آسمانی بجلی گرگئی اس دوران فاطمہ نامی لڑکی ذد میں آکر موقعہ پر ہی لقمہ اجل بن گئی ۔معلوم رہے کہ سرینگر میں چار بجے کے قریب آسمان پر کالے بادل چھاگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمانی بر ق گرنے کے ساتھ ساتھ موسلادار بارشیں اورشدیدژالہ باری شروع ہوئی۔شہر سمیت ضلع کے بارہمولہ، بڈگام ، گاندربل ، بانڈی پورہ کے متعدد علاقوں میں بھی اچانک تیز آندھی ،بارشیں اور قہر انگیزژالہ باری شروع ہوئی جسکے نتیجے میں ان علاقوں میں میوہ جات ،فصلوں ،سبزیوں اوربجلی نظام کوسخت نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔بڈگام کے بیروہ ، خانصاحب کے متعدد دیہات سمیت قصبہ بڈگام میں بھی تیزہوائیں چلنے اورژالہ باری کی وجہ سے میوہ باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ۔بارہمولہ کے سوپور ،پٹن ، ہادی پورہ رفیع آباد میں بھی شدید ژالہ باری سے میوہ باغات اور فصلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔ شہر سرینگر میں بھی بارشوں اور شدید ژالہ باری کے سبب سڑکیں زیر آب آگئیں دوسری جانب علاقے میں شادی کی تقریبات کے لئے لگائے گئے خیموں کے اندر پانی داخل ہواجس دوران مہمانوں نے دسترخوان وہی چھوڑ کر محفوظ مقامات کی راہ لی ۔اسی طرح شہر کے لاچوک کی سڑکیں چند منٹوں کی بارش سے بھر گئیں اور پانی سڑکوں کے علاوہ گلی کوچوں میں جمع ہو گیا جس دوران لوگوں کو چلنے پھرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔محکمہ باغبانی کے ڈائریکٹر اعجاز احمد بٹ نے ژالہ باری سے متاثرہ لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ باغات میں یوریا کھاد کی سپرے کریں اور سپرے کو شیڈول کے حساب سے کیا جائے تاکہ فصلوں کو نقصان نہ ہو ۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ کی ٹیموں کو متاثر علاقوں میں روانہ کر دیا جائے گا تاکہ نقصان کا تخمینہ لگایا جا سکے۔