تازہ ترین

فعال حزب اختلاف جمہوریت کیلئے ضروری :مودی

18 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
نئی دہلی//وزیر اعظم نریندر مودي نے جمہوریت میں اپوزیشن کے فعال کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے پیر کو کہا کہ اپوزیشن کو ایوان میں اپنے نمبر کی طاقت کی فکر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ حکومت کے لئے اس کا ہر لفظ اور احساس قابل قدر ہے ۔  انہوں نے 17 ویں لوک سبھا کے پہلے سیشن کے پہلے دن پر پارلیمنٹ کے کیمپس میں میڈیا سے بات چیت میں یہ بات کہی۔ انہوں نے تمام اراکین سے ایوان میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے جذبہ کے بجائے غیرجانبدرانہ جذبہ سے عوامی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے کی اپیل کی۔  انہوں نے کہا کہ اگلے پانچ سال کے دوران ایوان کی عظمت کو اوپر اٹھانے کی کوشش کی جائے گی۔ انھوں نے اپوزیشن کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے کہا، ‘‘جمہوریت میں اپوزیشن کا ہونا، اپوزیشن کا فعال ہونا، اپوزیشن کا مضبوط ہونا یہ جمہوریت کی لازمی شرط ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اپوزیشن کے لوگ نمبر کی فکر چھوڑ دیں۔ ملک کے عوام نے جو ان کو نمبر کو دیا ہے وہ دیا ہے ، لیکن ہمارے لئے ان کا ہر لفظ قابل قدر ہے ، ان کا ہر جذبہ قابل قدر ہے ’’۔ مسٹر مودی نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ اچھے خیالات رکھتے ہیں اوربحث کو زندہ جاوید بناتے ہیں ۔ اگر رکن پارلیمان ایوان میں مدلل طریقے سے حکومت پر نقید کرتا ہے تواس سے جمہوریت کو طاقت ملتی ہے ۔ انہوں نے کہا، ‘‘اس جمہوریت کو مضبوط بنانے میں آپ سب سے میری زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شروع میں تو ضرور ان توقعات کو پوراکریں گے ، لیکن پانچ سال تک،اس جذبے کو طاقتور بنانے میں آپ بھی بہت مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اگر مثبت کردار ہوگا اور مثبت سوچ کو طاقت دیں گے تو،ایوان میں بھی مثبت کی سمت میں جانے کاموقع دل کرے گا۔ انہوں نے نئے ممبران پارلیمنٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ 17 ویں لوک سبھا میں ہم اسی نئی توانائی، نئے اعتماد، نئے عہد ، نئے خواب کے ساتھ، ساتھ مل کر آگے چلیں گے ۔ ملک کے عام لوگوں کی خواہشات کو پورا کرنے میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہئے ۔  مسٹر مودی نے 'سب کا ساتھ سب کا وکاس ' نعرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران جب ایوان صحت مند ماحول میں چلا تو ملک کے مفاد کے اچھے فیصلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘‘ان تجربات کی بنیاد پر میں امید کرتا ہوں کہ تمام جماعتیں کو بہت اچھی بحث ، عوامی فیصلے اور عوامی خواہشات کی تکمیل کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘سب کا ساتھ سب کا وکاس’ نے ملک کے عوام میں بہت اچھا اعتماد پیدا کیا ہے اوراس پر اعتماد کو لیکر عام لوگوں کی امیدوں توقعات اور خوابوں کو پورا کرنے کے لئے آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے ۔ انہوں نے نئے اراکین پارلیمان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ 17 ویں لوک سبھا میں، ہم نئی توانائی، نئے اعتماد، نئے عہد اور نئے خوابوں کے ساتھ ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے ۔ ملک کے عام لوگ کی خواہشات کو پورا کرنے میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہئے ۔
 

۔17ویں لوک سبھا پہلا اجلاس شروع

یو این آئی
 
نئی دہلی// سترھویں لوک سبھا کا پہلا اجلاس نو منتخب اراکین کی حلف برداری کے ساتھ یہاں شروع ہوگیا۔عبوری اسپیکر ویریندر کمار نے ایوان زیریں کے نئے قانون سازوں کو حلف دلایا ۔وزیراعظم نریندر مودی نے جو ایوان کے رہنما بھی ہیں، سب سے پہلے حلف لیا۔ انہوں نے ہندی میں حلف اٹھایا۔ اس کے بعد کوڈی کونیل سریش (کانگریس) بھتروہری مہتاب (بی جے ڈی) اور برج بھوشن شرن سنگھ (بی جے پی) نے حلف اٹھائے ۔ مہتاب نے اڑیہ زبان میں حلف لیا۔اس کے بعد مرکزی وزیروں میں راجناتھ سنگھ، امیت شاہ، نتن گڈکری اور دوسروں نے حلف لئے ۔مسٹرمودی جب ایوان میں داخل ہوگئے تو مودی مودی کے نعروں سے ان کا استقبال کیا گیا اور جب وہ حلف لینے کے لئے پکارے گئے تو ایک بار پھر میزیں تھپتھپاکر اور مودی مودی کے نعروں کے ذریعہ ان کا خیرمقدم کیا گیا۔اجلاس کے آغاز سے قبل مودی نے تمام اراکین کی اولین صف کے سامنے سے گذرتے ہوئے انہوں نے سب کا خیرمقدم کیا اور اپوزیشن کے حلقے میں بھی گئے جہاں انہوں نے کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی کا ہاتھ جوڑ کر آداب کہا، نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے مصافحہ کیا ، سماجوادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ سے بھی ملے ۔ایوان آراستہ ہونے کے بعد عبوری اسپیکر ویریندر کمار نے تمام نومنتخب اراکین کو مبارکباد دی اور کہا کہ انہیں بھروسہ ہے کہ اراکین ذمہ دارانہ طور پر اپنے فرائض انجام دے گی۔دیگرحلف لینے والوںمیں مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن، اشونی کمارچوبے اور شری پد نائک نے سنسکرت میں حلف لئے ۔امیٹھی میں کانگریس کے صدر کو ہرانے والی اسمرتی ایرانی نے جب حلف لیا تو اس وقت حکمراں حلقے کے اراکین بشمول وزیراعظم نے میزیں تھپتھپائیں۔