تازہ ترین

کولکتہ میں ڈاکٹرس پر حملہ،تلنگانہ میں ڈاکٹرس کا احتجاج

17 جون 2019 (13 : 09 PM)   
(      )

حیدرآباد// کولکتہ میں جونیر ڈاکٹرس پر حملوں کے واقعات کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں تلنگانہ کی جونیر ڈاکٹرس ایسوسی ایشن (جوڈا)کے ارکان نے مختلف اسپتالوں میں احتجاج کیا۔حیدرآباد کے عثمانیہ جنرل اسپتال میں ڈاکٹرس نے احتجاجی دھرنے دیئے جس میں ڈاکٹرس کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ڈاکٹرس نے کولکتہ واقعہ اور سرکاری میڈیکل کالجس میں ٹیچنک فیکلٹی کی وظیفہ کی حد عمر میں مجوزہ اضافہ کی حکومت کی تجویز کے خلاف بھی احتجاج اور ہڑتال میں حصہ لیا۔ڈاکٹرس کی بڑی تعداد اسپتال کے اصل باب الداخلہ کے قریب جمع ہوئی جس نے اپنے مطالبہ کی حمایت میں حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔جونیر ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدرنشین ڈاکٹر پی ایس وجیندر نے کہاکہ گورنمنٹ میڈیکل کالجس کے ٹیچنگ فیکلٹی کے وظیفہ کی حد عمر میں اضافہ سے ریاست کے پی جی ڈاکٹرس سے شدید ناانصافی ہوگی۔جونیر ڈاکٹرس نے گاندھی اسپتال میں بھی احتجاج کیا اور جونیر ڈاکٹرس کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔جونیر ڈاکٹرس نے ورنگل ضلع کے ایم جی ایم اسپتال میں بھی احتجاج کیا تاہم ڈاکٹرس نے واضح کیا کہ ان کے اس احتجاج کے باوجود ایمرجنسی اور کیزولٹی خدمات متاثر نہیں ہوں گی۔اس اسپتال میں جونیر ڈاکٹرس نے اپنی ڈیوٹی کا بائیکاٹ کیا اور کولکتہ کے جونیر ڈاکٹرس سے یگانگت کا اظہارکیا۔ احتجاج میں ڈاکٹرس کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔احتجاجی ارکان نے ریاستی محکمہ صحت کے حکام پر زور دیا کہ وہ ڈاکٹرس پر وقفہ وقفہ سے حملوں کے واقعات کو روکنے کے لئے اس کا مستقل حل تلاش کرے ۔ ڈاکٹرس کی تنظیموں کی ہڑتال کی وجہ سے طبی خدمات جزوی طور پر متاثر رہیں۔ذرائع نے بتایا کہ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے ) کے ملک بھر میں 24 گھنٹے کی ہڑتال سے پرائیوٹ اور سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی خدمات متاثر نہیں ہوئی ہیں۔ ہڑتال صبح چھ بجے شروع ہوئی۔دریں اثناجوڈانے بھی ہڑتال کو اپنی حمایت دی ہے اور یہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے خلاف حملوں سے نمٹنے کے لئے قانون بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔یواین آئی
 

سپریم کورٹ ڈاکٹروں کی سلامتی سے متعلق عرضی پر سماعت کرے گا

نئی دہلی//ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی سلامتی کو یقینی بنانے سے متعلق مفاد عامہ کی ایک عرضی پر سپریم کورٹ نے منگل کو سماعت کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ یہ عرضی وکیل آلوک سریواستو نے دائر کی تھی اور جسٹس دیپک گپتا کی قیادت والی بنچ نے آج اس پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی عرضی پر منگل کو باضابطہ سماعت ہوگی۔ انہوں نے اپنی عرضی میں کہا کہ مریضوں کے تیمارداروں کی طرف سے ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی مارپیٹ اور بدسلوکی غیر قانونی اور سپریم کورٹ کے ذریعہ باضابطہ ہدایت دے کر اس طرح کے واقعات پر روک لگانی چاہئے ۔ مسٹر سریواستو نے کہا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں جانے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس عرضی میں مرکزی وزیر داخلہ’ وزیر صحت اور مغربی بنگال حکومت کو تمام سرکاری اسپتالوں میں سیکورٹی اہلکار وں کی تعیناتی یقینی بنانے کی ہدایت دینے کی بھی بات کہی گئی ہے ۔یو این آئی 
 

ممتا کی ہڑتالی ڈاکٹروں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ

کلکتہ //وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہڑتال کرنے والے جونیئر ڈاکٹروں کے نمائندوں کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹے سے زاید وقت تک میٹنگ کرنے کے دوران کہا کہ ہم لوگ ڈاکٹروں کا احترام کرتے ہیں اورسماج میں استاذ کے بعد ڈاکٹروں کو خدا کادرجہ دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کو لے کر ڈاکٹروں نے مطالبات پیش کیے ہیں وہ صحیح ہیں، اسپتال میں مارپیٹ کا واقعہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے ، ہم سماج کے لوگوں سے اپیل کریں گے وہ اس طرح کی اشتعال انگیزی سے گریز کریں تاہم وزیرا علیٰ نے جونیئر ڈاکٹر کے نمائندوں سے کہا کہ آپ کو سمجھنا چاہیے کہ ہماری ہدایات کے فیصلے کو نافذ کرنا کام پولس کا ہے اور یہ لوگ کررہے ہیں۔مگر ہڑتال کی وجہ سے عام مریض پریشان ہورہے ہیں، تمام مریض خراب نہیں ہے اس لیے جلد سے جلد ہڑتال ختم کرکے اسپتال میں خدمات کوبحال کیا جائے ۔اس سے قبل جونیئر ڈاکٹروں کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے پاس کے سامنے کھل کر اپنے مطالبات اور سوال رکھا اور وزیر اعلیٰ نے جواب دیا،میٹنگ کے بعد جونیئر ڈاکٹروں نے وزیرا علیٰ پر اعتماد کا اظہار کیا۔امید ہے کہ اگلے گھنٹے تک جونیئر ڈاکٹر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیں۔اس میٹنگ میں بنگال حکومت کے سینئر اہلکار اور سینئر پولس افسران موجود تھے ۔
 

مدھیہ پردیش میں ڈاکٹروں کی ہڑتال

بھوپال//انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کی ملک گیر تحریک کی اپیل پر آج مدھیہ پردیش میں بھی ڈاکٹرہڑتال پر چلے گئے ۔دارالحکومت بھوپال سمیت اندور ،جبل پور،گوالیار اور دیگر مقامات پر میڈیکل کالجوں اور دیگر اسپتالوں میں حکومت نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے مریضوں کو ہونے والی پریشانیوں سے بچانے کے لئے خصوصی انتظام کئے ہیں۔مغربی بنگال کے کولکاتہ شہر میں ڈاکٹروں کے ساتھ ہوئے مبینہ مارپیٹ کی وجہ سے اس سے پہلے تین دنوں سے اندور ضلع کے سرکاری سینئر اور جونیئر ڈاکٹرمظاہرہ کررہے ہیں۔اسی فہرست میں آج اندور ضلع کے بھی تقریباً سبھی ڈاکٹر دوپہر دو بجے تک ہڑتال پر چلے گئے ۔ہڑتال کی مدت کا اثر ایمرجنسی خدمات پر نہیں رہے گا۔سبھی ایمرجنسی خدمات کو جوں کا توں جاری رکھنے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔ریاست کے مختلف میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں آج صبح سیکڑوں ڈاکٹروں کے نعرے بازی کرنے کی خبریں ہیں۔ڈاکٹروں نے کولکاتہ میں ہوئی مارپیٹ کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔اسی دوران اندور میں واقع دایم جی ایم کالج کے ڈاکٹر ترجمان راہل روکڑے نے کہا کہ سبھی ڈاکٹروں کو معقول سکیورٹی مہیا کرائی جائے ۔ڈاکٹر پروٹیکشن ایکٹ نافذ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سرکاری خدمات کے ڈاکٹروں کو وسائل کی کمی میں کئی بار مریضوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ایسے میں حکومت کو سکیورٹی یقینی بنانی چاہئے ۔یواین آئی۔