قطعات

16 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

تیغ ہیں اور بے نیام ہیں آنکھیں
کس کے قتل کا انتظام ہیں آنکھیں
کچھ توازن تو ہو معرکے میں
اک نظر میں ہی انتقام ہیں آنکھیں
�۔�۔�۔�
اپنی نظر سے اُتر جانا، تم نہ سمجھو گے
کیا ہے غم میں مر جانا، تم نہ سمجھو گے
تم نے راہیں چھانٹی ہیں،تم ڈراؤ راہوں سے
کیا ہے خود سے ڈر جانا، تم نہ سمجھو گے
 
 شھزادہ فیصل منظور خان
موبائل نمبر؛ 8492838989

تازہ ترین