سوغات

افسانہ

16 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عرفا ن عارفؔ
ننھی زیبا کے لئے اس کی ساری دنیا چھو ٹی سی پہا ڑی پر ہی بسی ہو ئی تھی۔پہاڑی پر بھی اس کی حدیں محدود تھیں ۔ نا نی کے گھر سے وہ سامنے والے سیب کے با غات تک۔۔۔ہا ں نا نی کے گھر ۔۔۔ ننھی زیبا اپنی نا نی کے گھر رہتی تھی ۔وہ کو ئی پا نچ برس کی تھی جب اس کے امی ابو دونو ں چلے گئے تھے۔ اس کے بعد نا نی اسے اپنے گھر لے آئی تھی۔کوئی تین برس بعد جب زیبا آٹھ برس کی ہوئی تواس نے نا نی سے امی ابو کے با رے میں پوچھا تھا۔نا نی نے اسے بتا یا تھا کہ اُس کے امی ابو اللہ کے پا س چلے گئے ہیں۔لیکن نا نی ۔۔ ۔۔پڑوس والے فیضان انکل تو کہہ رہے تھے کہ امی ابو کو پولیس نے گولی ما ری ہے۔
زیبا کے اس سوال پر نا نی نے اسے روتے ہوئے سینے سے لگا لیا تھا اور کہا کہ وہ بھی اللہ کی مرضی تھی میری بچی۔۔۔ننھی زیبا یہ نہیں سمجھ پا تی تھی کہ کوئی اس چھوٹی سی بچی کے امی ابو کو گولی ماردے ۔۔یہ بھی اللہ کی مرضی۔۔۔ کیسے ہو سکتی تھی لیکن اس نے یہ سوال نانی سے نہیں پوچھا کیوںکہ اسے ڈر تھا کہ یہ پوچھنے پر نا نی اور روئے گی اور روتی ہو ئی نا نی اسے اچھی نہیں لگتی تھی۔۔۔دراصل زیبا کو شروع سے نا نی امی جیسی لگنے لگی تھی بلکہ اس سے بھی زیا دہ پیاری۔۔امی کبھی کبھی ڈانٹتی بھی تھی لیکن نا نی بالکل بھی نہیں ڈانٹتی تھی۔۔۔زیبا کو رات میں نا نی سے چپک کر سونا اچھا لگتا تھا۔۔۔ایسا کرنے پر اسے امی والی گرمی ملتی تھی ۔امی ابو سے دور ہوجانے کے بعد سے زیبا کودنیا میں نا نی اس کو سب سے زیا دہ عزیز تھی۔اس کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔ایک با ر سامنے والے سیب کے با غ میں چھوٹے چھوٹے تین چا ر سیب، جو زمین پر گرے ہوئے تھے، زیبا اپنے فراک میں رکھ کر لے آئی تھی۔ نا نی نے کہا دوسروں کے با غ سے بنا پوچھے کچھ نہیں لا تے بچی اور اس کے بعد زیبا نے کچھ کبھی ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔ کچھ نہیں  ۔۔اسے نانی کی ہر با ت ماننی اچھی لگتی تھی۔نا نی سے وہ اپنے ہر جنم دن پر اور ہر تہوار پر ۔۔بس ایک ہی چیز مانگتی تھی ۔۔ ایک ہی خواہش تھی  اس کی ۔۔وہ اپنے امی ابو سے ملنا چاہتی تھی ۔۔۔نانی اس کی خواہش سن کر آسما ن کی طرف دیکھتی اور دوپٹے  سے اپنی آنکھیں پونچھتی اور کہتی کہ وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔۔زیبا بھی اُوپر دیکھتی اسے کچھ نہیں دکھا ئی دیتا ۔۔پھر وہ نیچے دیکھتی نا نی رو رہی ہوتی۔۔۔ایک با ر اس نے نا نی سے کہا تھا کہ وہ امی ابو سے ملنے جا نا چا ہتی ہے۔اس کے بعد نا نی گھنٹوں اسے لپٹاکر روتی رہی تھی۔نا نی کو روتے دیکھنا اسے کبھی اچھا نہیں لگتا تھا ۔ اس لئے دھیرے دھیرے اس نے نانی سے یہ بات کہنی ہی چھوڑ دی۔
لیکن من ہی من میں وہ سوچتی تھی کہ ایک با ر امی ابو سے مل لے۔ایک روز ایک عجیب سی با ت ہوئی جب وہ سامنے والے سیب کے باغ میںکھیلنے گئی تو اسے وہاں ایک ننھا سا میمنا دیکھا ئی دیا، جو شاید اپنے ریوڑ سے بچھڑ گیا تھا۔بالکل چھوٹا سا، روئی کا گالہ جیسا سفید میمنا ۔۔۔زیبا کو لگا جیسے کوئی چھوٹا سا کھلونا ہو۔وہ دوڑ کر گئی ۔میمنے کو اپنی ننھی ننھی با ہوں میں بھر لیا اور دوڑ کر اپنے گھر لے آئی ۔نانی نے حیرا ن ہو کر پوچھا ۔تو اس نے پوری کہا نی سنا ئی اور کہا کہ نانی اب میں اسے اپنے ساتھ رکھوں گی ۔۔۔اب یہ میرا دوست ہے ۔۔۔نانی نے اس ننھے سے سہمے ہو ئے میمنے کو ایک اونیٰ کمبل سے ڈھانپ لیا،کھانے کے لئے کچھ نرم پتے دیئے اور زیبا سے کہا ٹھیک ہے اب تم اس کی دیکھ بھا ل کرنا ۔۔۔ننھی زیبا کو اور کیا چا ہیے تھا ۔۔جتنی نا زک وہ خود تھی اتنا ہی نرم دوست مل گیا اسے۔۔۔دو دن دیکھتے ہی دیکھتے نکل گئے۔زیبا نے دل لگا کر اس کی دیکھ بھال کی۔ہا تھوں سے کھلایا پلا یا ۔۔۔یہا ں تک کہ اس کو اپنا سویٹر بھی پہنا دیا ۔۔۔جیسے اسے جنم جنم کا ساتھی مل گیا تھا۔۔یہ ساتھی بھی اب زیبا کو پہچانے لگا تھا ۔ زیبا نے اس کا نام بھی رکھ دیا۔سوغات۔۔۔ دو دن بیت گئے تیسرے دن زیبا اس ننھے سوغات کو اپنے سامنے والے سیب کے باغ میں گھمانے  لے گئی وہیں، جہا ں سے اسے پا یا تھا ۔باغ میں دونوں خوب کھیلے ،جیسے پکڑا پکڑی کھیل رہے ہوں۔۔ اچا نک ایک آواز آئی۔میں میں میں ۔۔زیبا نے دیکھا  سوغات آواز سن کر رک گیا تھا اور آواز کی طرف دیکھ رہا تھا اور زیبا نے بھی ادھر دیکھا ۔۔۔سامنے ایک بھیڑ کھڑی تھی دیکھتے ہی دیکھتے زیبا کا ننھا سا دوست چھلا نگیں مارتا ہوا بھیڑ کے پا س جا پہنچا ۔۔۔زیبا یہ منظر دیکھ کر حیرا ن ہو گئی اور کچھ دیر بعد سمجھ میں آیا کہ یہ سوغات کی ما ں تھی۔جس سے وہ دو دن پہلے بچھڑ گیا تھا۔۔۔ اب وہ ماں اسے لینے آئی تھی۔ زیبا کا دل  دھک کر رہ گیا۔تو کیا اب  یہ چلا جا ئے گا ۔نہیں۔۔ وہ دوڑ کر گئی اور اسے واپس ننھی ننھی با ہوں میں بھرا اور گھر کی طرف بھاگا ۔اس با ر وہ ننھا میمنا اس کی پکڑ سے چھوٹنے کی بہت کو شش کر رہا تھالیکن زیبا کو اسے چھوڑنا نہیں تھا۔دو دن میں کتنے رشتے بنا ئے تھے ۔بھا ئی دوست سب کچھ بنا لیا تھا۔دکھ سکھ کی نہ جانے کتنی کہا نیا ں اسے سنا ئی تھیں۔ اب اس کے بغیر زیبا نہیں رہ سکتی تھی۔گھر کے اندر ہانپتے ہا نپتے گھسی اور نا نی سے بولی اسے پکڑو اور کہیں چھپا دو۔۔۔ یہ کہیں نہیں جا ئے گا ۔نا نی جب تک کچھ سمجھ پاتی ایک بھیڑ گھر کے دروازے پر آگئی تھی۔بھیڑ کی میں ۔۔میں۔میں۔میں۔۔ نا نی نے سنی اورسارا  ماجرا سمجھ میں آگیا۔انہوں نے زیبا کو دیکھا کہ وہ زار زار رو رہی تھی۔ زیبا نے کَس کے میمنے کو پکڑکر ایک ٹوکری میں دبا دیا تھا۔وہ اسے نہیں جا نے دونگی۔ نا نی نے پیچھے سے آکر زیبا کے سر پر ہاتھ رکھا۔زیبا  اس کی ما ں اسے لینے آئی ہے۔ نہیں نا نی۔۔ میں اسے نہیں جا نے دو ں گی۔جا نے دو زیبا ۔۔۔وہ ما ں کے بغیر اکیلا ہو جائے گا ۔۔اداس ہو جا ئے گا ۔۔نہیں نا نی۔۔ میں اسے پیا ر کروں گی۔۔۔ لیکن  اس کی ما ں نہیں بن پا ؤ گی زیبا ۔۔ہر بچے کو اس کی ما ں کی ضرورت ہوتی ہے۔تم اسے یہاں رکھو گی تو اسے اپنی ماں یا د آئے گی، جیسے تمہیں یا د آتی ہے ۔اور اس کی تو کوئی نا نی بھی نہیں۔زیبا نے آنسوؤں سے ڈبڈبائی اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے نا نی کی طرف دیکھا ،نا نی نے پیار سے زیبا کے سر پر ہا تھ پھیرا۔ جانے دو زیبا ہر بچے کو اس کی ما ں کی پاس جا نے کا حق ہے۔ہر بچے کو اس کی ما ں کا پیار پانے کا حق ہے۔زیبا نے دھیرے سے ٹوکری اٹھائی۔۔۔ ننھا میمنا دوڑ کر بھیڑ کے پاس چلا گیا ۔ زیبا آنسوں بھری آنکھو ں سے میمنے کو دیکھ رہی تھی۔نانی نے جا کر دروازہ بند کر دیا۔
زیبا نے کھڑکی سے جھانکامیمنا بھیڑ کے ساتھ جنگل کی طرف  خوشی خوشی جا رہا تھا ۔زیبا دکھی تو ہوئی، پر نا نی کی یہ بات اسے تھوڑا سکون دے رہی تھی کہ ہر بچے کو اس کی ماں کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اس وقت اس کا دوست سوغات  اپنی ماں کے پاس لوٹ گیا تھا۔
 
اسسٹنٹ پروفیسر اُردو، جموں
موبائل نمبر؛9858225560
 

تازہ ترین