تازہ ترین

رفیق رازؔکا شعری نخلستان

۔۔۔۔۔نخلِ آب کے عکس میں

16 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ کشمیر
چند حرفوںنے بہت شور مچا رکھا ہے 
یعنی کاغذ پہ کوئی حشر اٹھا رکھا ہے
(نخل ِ آب۔۔۔ص ۱۵۴)          
شاعر کا مقام متعین کرنے میں مخصوص شعری بصیرت (Poetic Vision) بنیادی اہمیت رکھتی ہے‘جسکی پہچان منفرد شعری لہجہ‘تخئیل آفرینی ‘ تخیلقیی اسلوب   (Creative style)  اور فنی  ہنرمندی وغیرہ جیسے خصائص میں پوشیدہ ہوتی ہے‘ نہیں تو کتنے لوگ شعر کہتے آئے ہیں اور کتنے شعر کہہ کے چلے بھی گئے لیکن صرف چند ہی اس تخئیلی سلطنت میں اپنی نشستیں سنھبالنے میں کامیاب رہے۔ عصری اردو شعری منظرنامے میں رفیق رازاپنے منفرد شعری لہجے‘ تخئیل آفرینی ‘تخلیقی اسلوب اور فنی ہنر مندی کے خصائص کی بدولت مخصوص مقام بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں ۔ رفیق رازصاحب کے فنی اختصاص پر معروف نقاد جناب شمس الرحمن فاروقی گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’غزل کے بار ے  میں مدت  تک یہ غلط فہمی رہی کہ اسے سادہ اور میٹھا اسلوب ہی در کار ہے، بعض لوگوں نے غزل سے تقاضا کیا کہ اس میں صرف آپ بیتی اور ذاتی داخلی وارداتو ںپر مبنی مضامین ہوں۔رفیق راز ان شعرا میں  نمایاں ہیں جنہوں نے غزل کے اس روایتی پیکر کو توڑنے اور غزل کی آواز میں توانائی ڈالنے کی کامیاب کوششیں کی ہیں۔‘‘
(مجموعہ انہار۔۔۔سرورق)
   منفرد اسلوب و لہجے کا یہ نمایاں مقام چند برسوں کی ریاضت کا ثمر نہیں بلکہ اس مقام کی بنیاد کئی دہائیوں کی فنی ریاضت ‘تخلیقی جگرسوزی اور مشاہداتی و تجرباتی عرق ریزی پر قائم ہے ‘جس کااندازہ ’’نخلِ آب‘‘کے تخئیلی عالم سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ مجموعہ ’’انہار‘‘   اور’’مشراق‘‘ کے بعد ’’نخلِ آب ‘‘ راز صاحب کی شعری بصیرت کے کئی تخلیقی رازوں کو منکشف کررہا ہے:
ترتیب ہی الگ ہے مرے شہرِذات کی
شعلہ تو اک ثمرہے یہاں نخلِ آب کا
دنیا کی ان مثالوں میں رکھا ہے کیا جناب
اک دو حوالے دیجئے دل کی کتاب سے
لوٹا رہا ہوںوقت کو اپنی امانتیں
شاعر نہیں امیں ہوں میں دردِ عظیم کا    
   کسی بھی تخلیقی متن کا تخلیقی برتاؤ متن کو ادبی اعتبار بخشنے میں بنیادی رول نبھاتا ہے  اور قاری جب تنقیدی نقطٔ نگاہ سے تخلیقی متون پر ارتکاز کرتا ہے تو’اکتشافی تنقید‘ کے پیش نظر قرأت کے دوران تخلیق کارکا یہی تخلیقی برتاؤ (Creative treatment) لفظ و معنی کے دلچسپ تجربے سامنے لاتا ہے اور معیاری تخلیق تفہیم کی متنوع جہتیں کھول دیتی ہے۔ لسانی سطح پر دیکھیں تو لفظوں اور تراکیب کا استعمال ایک قسم کالسانی عمل (Language proccess)  ہوتا ہے اور یہ عمل ہر زبان کے بڑے تخلیق کاروں کی تخلیقات میں نظر آتا ہے۔اب اس توضیح کے پیش نظر پہلے شعر کو زیر بحث لائیں :
ترتیب ہی الگ ہے مرے شہرِ ذات کی
شعلہ تو اک ثمر ہے یہاں نخلِ آب کا
  تو یہاں پر بھی لسانی عمل کا یہ تخلیقی وتصریفی برتاؤ دلچسپ تجربے کی عکاسی کرتا ہے۔شعری کردار پہلے ہی مصرعے میں ’شہر ِذات ‘کی ترتیب یعنی اپنے قلبی احوال اورافکار کی انوکھی ترتیب کا دعویٰ کرتا ہے اور تخئیل کی بنیادپر اپنے دعوے کا راز دوسرے مصرعے میں’ نخلِ آب ‘کی نرالی ترکیب اور شعلہ وثمر جیسے مانوس الفاظ کے وجدانی تجربے میں پوشیدہ رکھتا ہے تاکہ باذوق قاری شعرکی تہہ داری میں کھو کر تفہیم کی شروعات کرے۔اب یہاں پر پہلے’ نخلِ آب‘ کی تصوراتی امیج  یا فینٹسی (Fantasy)  پرغور کریں تو یہ لسانی عمل کاخوشگوار تاثر چھوڑرہا ہے۔بظاہر یہ ترکیب مانوس الفاظ یعنی نخل(کھجور کادرخت یا اردو لغت میں عام درخت)اور آب (پانی)کا مرکب معلوم ہوتی ہے اگر چہ عربی میں بھی نخل بطور فعل’’ نخل السحاب المطر ‘‘یعنی بادل کا پانی برسانا‘ استعمال ہوتا ہے لیکن جب بحیثیت ترکیب ’’نخلِ آب‘‘اور پھر شعر میں اس کے تخلیقی استعمال پر غورکریں تو تفہیم کا مسئلہ ذرا  سانازک بن جاتا ہے۔نخل ِ آب کی ترکیب پر مجھے یورپی ملک مانٹی نیگرو (Montenegro)  کا ایک پیڑ یاد آیا جو آبشار کی طرح پانی چھوڑتا ہے جوکہ  Water Tree کے نام سے مشہور ہے اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا رہتاہے تو لفظی معنی کے طور پر دونوں تراکیب میں گرچہ مماثلت نظر آتی ہے تاہم ممکن ہے کہ یہ تصور شاعر کے تخئیل میں کسی فوارہ کا نظارہ کرنے کے دوران ابھراہو کیونکہ آج کل فواروں کی ڈئزائنگ بھی ایسی ہوتی ہے کہ لگتا ہے جیسے پیڑ کی شاخیں پانی اُگل رہی ہوں ‘اس کے باوجود شعر میں یہ ترکیب جس ممکنہ مفہوم  یا تجربے کی عکاسی کرتی ہے ‘اس  سے لگتا ہے کہ یہ شاعر کی ذہنی اخترع ہے جس کو شعر کے اندرتخلیقی انداز میں بڑی ہنرمندی سے برتاگیا ہے اور’ نخلِ آب‘ کے قرین قیاس استعاراتی معنی دیدۂ تر بن جاتا ہے ‘اب اس شعری ترکیب کے تصوراتی اور تخلیقی معنویت پر ارتکازکریں  تو نخلِ آب بمعنی دیدۂ تر (بھیگی آنکھیں)جو کہ اب جوروستم سے تنگ آکر شعلہ بن گئی ہیں  یعنی جب کسی کمزور انسان پر بار بار ظلم کے پہاڑ توڑے جائیں تو صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کے بعد وہ بھی دفاع کرنے یا بدلہ لینے پر مجبور ہوجاتا ہے اور وہ پانی سے شعلہ بن جاتا ہے۔اس طرح شعر میںشاعرانہ تدبیر کاری (Poetic Devices) کے استعمال اور شعر کی معنوی جہت کا احاطہ کریں تو شاعر کہتا ہے کہ میرے شہرِذات یعنی خوشگوار زندگی (کیونکہ شہر کا استعارہ بذات خود خوشگوار احساس یا زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ ) گزارنے کے طورطریقوں کو گردش زمانہ نے مثبت سے منفی بنادیا کیونکہ پہلے جو نخلِ آب فوارے کی طرح فرحت بخش نظارہ دکھاتا تھا اب وہی آگ کے شعلے برسا رہا ہے یا پہلے جن آنکھوں میں شبنمی چمک ہوتی تھی اب وہ شعلہ برسانے لگی ہیں۔تصوراتی طور پر شعر تجریدی اسلوب کی عکاسی کرتا ہے لیکن معنوی تناظر میں معنی خیزعلامتی تفہیم پیش کرتا ہے جو کہ ایک عمدہ شعرکی طرح متحدالمفہوم کی بجائے متنوع المفہوم معنی انگیز کرنے کی نشانی ہے۔
    رفیق راز کے بیشتر اشعار مشاہداتی تجربے کی دلکش فنی عکاسی کرتے ہیں۔ان میں جذبات انگیز سطحی خیالات نہیں بلکہ سنجیدہ فکر کا مدبرانہ اظہار ہوتا ہے۔ وہ خارجی یا ظاہری شور شرابے کے برعکس داخلی سکوت کی دنیا پسند کرتے ہیں‘ اسلئے ملائم لہجے میں دنیا کی مثال پر’ دل کی کتاب‘ کے حوالے کو فوقیت دیتے ہیں ۔کیونکہ جب انسان کا دل مطمئن ہو تو پھر دنیا کی شان وشوکت بھی اطمینان کا باعث بنتی ہے اور اگر یہ شان و شوکت دل کی ویرانی کا سبب بنے تو پھر صاحب بصیرت  روحانی کرب کا شکار ہوجاتے ہیں :                                       
دنیا  کی  ان  مثالوں  میں  رکھا  ہے  کیا  جناب
اک  دو  حوالے  دیجئے  دل  کی  کتاب   سے
  اسی قسم کے ایک حکمت آمیز اصلاحی شعر میں لسان العصر اکبر الہ آبادی نے بہت پہلے اشارہ کیا تھا:
نقشوں کو تم نہ جانچو‘ لوگوں سے مل کے دیکھو
کیا چیز جی رہی ہے ‘ کیا چیز مر رہی  ہے
بعض اوقات کسی تخلیق کار کی مخصوص ترکیب ‘استعارہ یا علامت کا مسلسل استعمال بڑا سود مند ثابت ہوتا ہے اور اس کی فنی شناخت کا استعارہ بھی بن جاتا ہے ۔کلامِ راز میں ایک مانوس لفظ’’سکوت‘‘ اور اس کے انسلاکات باربار اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔کبھی یہ متحرک صورت میں ’بوئے سکوت ‘بن جاتا ہے اور کبھی ’ گوشۂ سکوت ‘ سے نکل کر ’شعلۂ سکوت ‘ میں ڈھل جاتا ہے اور سکوت کا یہ تصوراتی عالم کلام ِ راز میں اس قدر چھایا ہوا ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ’ سکوت ‘ َ کلام ِ راز کا تخلیقی استعارہ بن گیا ہے :
 بوئے سکوت خانۂ افسردگاں سے آئے
موجِ نسیم شہرِ میں آئے جہاں سے آئے
اٹھتا نہیں ہے گر کے کبھی پردۂ  سکوت
ہوتانہیں ہر اک پہ عیاں گوشۂ سکوت
یا رب سیاہ پوش نہ ہو شعلہ ٔ سکوت
روشن تمام رات رہے خیمہّ سکوت
جاری
(دوسری قسط اگلی اتوار کو ملاحظہ فرمائیں)
 
وڈی پورہ ہندوارہ، کپوارہ
موبائل نمبر؛7006544358