تازہ ترین

اُڑن طشتر ی

افسانہ

16 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شبنم
جشن کی تیاریاں زور وشور سے جاری تھیں ،شاہی محل کے خاص مشیر اور درباری خود جشن کی تیاریوں کی نگرانی کر رہے تھے کیوں کہ دھرتی پر رہنے بسنے والے انسانوں کا صدیوں پرانا سنہری خواب پورا ہونے والا تھا ۔ ہاں! وہی خواب جس کی تعبیر ڈھونڈتے ڈھونڈتے انسان نے بے پناہ محنت کے ساتھ ساتھ کافی سرمایہ بھی خرچ کیا ہے ۔ اس خواب کی تعبیر سے یقینًا انسانی زندگی کے ایک نئے ناقابل فراموش انقلاب کی شروعات ہوگی۔اسی عظیم انسانی خواب کے پورا ہونے کی خوشی میں دھرتی پر ایک شاندار جشن کا اہتمام کیا گیا تھا،دھرتی کے شاہی محل کو دلہن کی طرح سجایا اور سنوارا گیا تھا ۔جشن میں شرکت کے لئے دھرتی کے شہنشاہ کے ساتھ ساتھ تمام بادشاہ اور وزیر موجود تھے۔
دفعتاًشاہی محل بارودی دھماکوں کی گن گرج سے گونج اٹھااور درجنوں توپوں کی سلامی سے باضابطہ طورجشن کا آغاز ہو گیا،جس کے ساتھ ہی شہنشاہ، بادشاہ، وزیر ، بڑے بڑے سائینس دان اور وہاں موجود دھرتی کے دیگر ذہین ترین لوگ فرط نشاط وانبساط سے جھوم اٹھے ۔رقص وسرور کی محفل،رنگ و نور کی بارش ، زرق وبرق لباسوںمیں مچھلیوں کی طرح پھدکتی ہوئی نازک اندام تتلیاںاور مست ومدہوش کرتی ہوئی موسیقی کا دور چلنے کے بعد شہنشاہ دھرتی بہ نفس نفیس سٹیج پر جلوہ افروز ہو گیا۔
’’ پیارے دھرتی واسیو ۔۔۔۔۔۔ ہم نے اپنی ذہانت ،تدبراور محنت سے دھرتی پر ترقی کی آخری حدوں کو چھو لیا ہے ۔ اب ایک اور سیارے مریخ پر قدم رکھ کر وہاں انسانی زندگی شروع کرنے اور ترقی کے نئے جھنڈے گاڑھنے کا وقت آپہنچا ہے ۔مجھے اپنے دھرتی واسیوں سے یہ بات شیئر کرتے ہوئے بے انتہا فخر اور خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ہمارا یہ صدیوں پرانا خوب صورت خواب بہت جلد پورا ہونے والا ہے ۔۔۔۔‘۔‘۔
شاہی محل تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھا۔ وہاں موجود لوگ شاداں وفرحان اٹھ کر رقص کرتے ہوئے جھومنے لگے،جنہیں شہنشاۃ نے ہاتھ ہلا ہلا کر خاموش ہونے کے لئے کہا ۔
’’ اسی عظیم اور قابل رشک خوشی کے تناظر میں ہم نے اس شاندار اور پر وقار جشن کا انعقاد کیا ہے ۔آپ لوگوں کی خوشی یہ جان کر دوبالا ہوگی کہ اس جشن کو رونق بخشنے کے لئے ہم نے سیارہ مریخ پر راج کرنے والی ملکہ امن کو مدعو کیا ہے ۔جن کے سامنے ہم دھرتی پر ہونے والی اس بے پنا ہ و لازوال ترقی کے سارے راز کھول کر مریخ پر انسانی زندگی شروع کرنے کے اس بڑے محادے کو حتمی شکل دینگے پھر ہمیں دھرتی کے ساتھ ساتھ مریخ پر راج کرنے اور دیگر سیاروں پر پائوں پسارنے سے کوئی بھی طاقت نہیں روک سکتی۔۔۔۔۔۔‘‘۔
شہنشاہ دل و دماغ میں تکبر کے بلند وبالا پہاڑ لئے دیکھتے ہی دیکھتے تخت سلیمان پر جا بیٹھا اور بڑے ہی فخریہ انداز میں دھرتی پر آباد دنیا کی ترقی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرنے لگا ۔ ساتھ ساتھ ایک بڑے پردے کے پر انسانی ترقی کے مختلف رنگوں کی نمائیش بھی ہوتی رہی۔جس کا لب لباب یہ تھاکہ اگلے وقتوں میں زمین پر رینگنے والا یا بیل گاڑیوں میں سفر کرنے والا انسان آج بغیر کسی خوف کے خلائوں میں اڑ رہا ہے ۔جنگلوں،غاروں اور معمولی سے کچے مکانوں میں رہنے کے بجائے اب اونچے اونچے شاندار محلوں میں عیش وعشرت کی زندگی گزار رہا ہے۔ درختوں کے پتے اور جنگلی پھلوں پر گزارا کرنے کے بجائے قسم بہ قسم کی اعلیٰ سے اعلیٰ ضیافتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ کروڑوں انسان ضرورت سے زیادہ غذاکھانے کی وجہ سے نہ صرف موٹاپے بلکہ سخت ترین بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں ۔لیکن نئی نئی بیماریوں کے وجود میںآنے کے ساتھ ساتھ سائینس کی ترقی کی بدولت ان کابہتر علاج ومعالجہ دستیاب ہے،جب کہ بڑے بڑے ہوٹلوں اور دیگر تقریبات میں لاکھوں کروڑوں کی خوردنی اشیاء کوڑے دانوں کی نذر ہو جاتی ہیں ۔جہالت اور ناخواندگی کی جگہ علم کے نورنے لے لی ہے اور چاروں اور اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیمی دانشگاہوں کا جال پھیلا ہوا ہے ۔اونچے اونچے پہاڑوں کو چیر کر شاہراہیں اور ریلوے پٹریاں تعمیر ہوچکی ہیں۔اطلاعاتی ٹیکنالوجی نے ا نسانی زندگی میںایک نیا نا قابل فراموش انقلاب بھرپا کردیا ہے ۔غرض ہ دھرتی واسیوںنے ترقی کی جن حدوں کو چھو لیا ہے، یہی ترقی کی معراج ہے ۔۔۔۔۔۔ شہنشاہ نے سینہ پھُلا کر اس بات کا بھی خلاصہ کیا کہ ہمارے خلائی ماہرین مریخ پر گاف کلب ، سوئمنگ پول، بڑے بڑے شاپنگ مال اور ہوٹل تعمیر کرنے کے منصوبے مکمل کر چکے ہیں ۔پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا سلسلہ جاری ہے اور بہت جلد وہاں مکانات تعمیر کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جا ئینگے۔
دھرتی کا شہنشاہ الف لیلیٰ کے جادو گھر بادشاہ کی مانندبڑی ہی چابک دستی اور فنکاری سے انسانی ترقی کے گن گانے میں مصروف تھا کہ اچانک زور دار سائیرن بج اٹھااور شہنشاہ اپنی بات کا موضوع بدلتے ہوئے یوں گویا ہوا۔
’’ حاضرین محفل ۔۔۔۔۔۔دل تھام کے رہیے ،وہ مبارک گھڑی آگئی جس کا ہمیں شدت سے انتظار تھا ۔۔۔۔۔مریخ کی سلطنت کی ملکہ امن دھرتی پر قدم بہ رنجیدہ ہورہی ہیں‘‘۔
اس کے ساتھ ہی شہنشاہ اور سارے درباری ملکہ کے استقبال کے لئے شاہی محل سے باہر آگئے ۔کچھ لمحوں میں ہی ملکہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ محل میں داخل ہوگئی ،وہاں موجود حاضرین نے بھی کھڑے ہو کر اس کا پر جوش استقبال کیا جب کہ کئی توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔توپوں کے دھماکوںگن گرج سے ملکہ کے چہرے پر خوف اور رنج کی لکیریں نمودار ہوگئیں۔تنگ آکر اس نے انگلیاں کانوں میں ٹھونستے ہوئے پریشان لہجے میں شہنشاہ سے سوال کیا ۔
’’ یہ بارود کے دھماکے کہاں اور کیوں ہو رہے ہیں ؟‘‘
’’ملکہ ۔۔۔۔۔۔ یہ دھماکے آپ کے اعزاز میں کئے جا رہے ہیں‘‘۔
’’ دھماکے اور اعزاز۔۔۔۔۔۔‘‘۔
وہ حیرت زدہ سی ہوگئی۔
’’ اس ترقی یافتہ دھرتی پر دھماکہ خیز مواد بھی موجود ہے ؟‘‘
’’ ملکہ ۔۔۔۔۔۔ہمارے پاس ایٹم بم،ہائیٹروجن بم اور دیگر کیمیاوی بموں کے علاوہ بے شمار قسم کا گولہ بارود موجود ہے ۔
شہنشاہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا‘‘۔
’’ یہ سب تو تباہی اور بربادی کا سامان ہے ۔۔۔۔۔۔میری اطلاع کے مطابق ایک زمانے میں اس کا استعمال کرکے دھرتی کے کئی خوب صورت شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کرکے زندگی کو نیست ونابود کیا گیا تھا۔ترقی کے اس دور میں بھلا ان جان لیوا تباہ کن ہتھیاروں کی ضرورت کیا ہے ؟‘‘
’’ملکہ ۔۔۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔۔۔یہ ہٹھیار ہماری ترقی کا حصہ ہیں‘‘ ۔
شہنشاہ نے شرمندہ ہو کر گول مول سا جواب دیا ۔
’’ اس پر تو بہت سرمایہ خرچ ہوتا ہوگا ؟‘‘
’’ ملکہ ۔۔۔۔۔۔ آپ کا اندازہ بالکل درست ہے ،لیکن ہمارے پاس بھلاکس چیز کی کمی ہے۔ اب ہم ہر لحاظ سے خود کفیل ہیں ‘‘۔
’’ سامعین کرام ۔۔۔۔۔۔دل تھام کے رہیے۔۔۔۔۔۔اب آپ کے سامنے آرہی ہیں مریخ پر راج کرنے والی ملکہ امن‘‘۔ 
کچھ وقت تک شہنشاہ سے محو گفتگو رہنے اور دھرتی پر ہوئی قابل رشک تر قی کا بچشم خود مشاہدہ کرنے کے بعد تالیوں کے گونج کے ساتھ ملکہ سٹیج پر جلوہ افروز ہوئیں۔
’’ پیارے دھرتی واسیو ۔۔۔۔۔۔بے شک آپ نے اپنی ذہانت اور محنت سے ترقی کی آخری حدوں کو چھو لیا ہے ۔مجھے یہ جان کر بہت مسرت ہوئی کہ دھرتی پر اب کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہے اور سارے دھرتی واسی خوشحالی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’ بھوکوں کو روٹی دو۔۔۔۔۔۔ننگوںکو کپڑا دو۔۔۔۔۔۔‘‘۔
’’ شہنشاہ تیرے راج میں ۔۔۔۔۔۔بچے بھوکے مرتے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘۔
دفعتاً شاہی محل کے چاروں اطراف ایک شور سا برپا ہو گیا ،جو ہر لمحے کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔شور سن کر شہنشاہ کے عقل کے طوطے اُڑ گئے جب کہ ملکہ بھی پریشان سی ہوگئی اور بے قراری کے عالم میں شہنشاہ سے مخاطب ہوئی ۔
’’ شہنشاہ ۔۔۔۔۔۔دھرتی پر یہ کیسا شور ہے ‘‘۔
’’ ملکہ ۔۔۔۔۔۔یہ لوگ ہماری ترقی کے دشمن ہیں۔۔۔۔۔۔آپ اپنی بات جاری رکھیے۔۔۔۔۔۔میں سب سنبھا لوں گا‘‘۔
ملکہ نے اگر چہ اپنی بات جاری رکھنی چاہی لیکن شور شرابے میں وہ خود بھی اپنی بات نہیں سن پا رہی تھی ۔
جب  بادلوں کی طرح گرجتے نعروں کی گونج اور سخت شور سے ملکہ کے کانوں کے پردے پھٹنے لگے تو اس نے اپنے ذاتی سیکریٹری،جو دیکھنے میںجاسوسی ناولوں کا پر اسرار کردار سا لگتا تھا، کو حالات کا جائیزہ لینے کا حکم صادر فرمایا ۔
’’ ملکہ کا اقبال بلند ہو ۔۔۔۔۔۔دھرتی کے اس شاہی محل کو پھٹے پرانے چیتھڑوں میں ملبوس بے شمارفاقہ مست دھرتی واسیوں نے گھیر لیا ہے‘‘ ۔
’’مگر کیوں؟‘‘
’’ملکہ عالی جان۔۔۔۔۔۔وہ انصاف مانگتے ہیں‘‘ ۔
’’ انہیں کیا پریشانی ہے؟‘‘
’’ اس ترقی یافتہ دھرتی پر کروڑوں لوگ بے انصافی کی تپش میں نڈھال غربت ،ا فلاس اور بھکمری کے شکار ہیں۔۔۔۔۔۔ بھوک کی اس منڈی میںروزانہ بہت سے معصوم بچے اور بزرگ انساںبلک بلک کر موت کا نوالہ بن جاتے ہیں‘‘۔
ملکہ کے خوش وخرم چہرے پر ایک دم تاسف و افسردگی کی برف جم گئی اور جھیل سی اتھاہ گہرائیوں والی آنکھوں میں اُداسی پھیل گئی۔
’’ او مائی گارڈ ۔۔۔۔۔۔ اس قدر گھمبیر صورت حال ۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘۔ 
اس نے شہنشاہ پر ایک اُچٹتی ہوئی ڈالتے ہوئے کہا اور غصے کی حالت میں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ایسے جانے لگی جیسے کوئی تتلی مکڑی کے جالے سے آزاد ہو کربھاگ رہی ہو۔
’’  ملکہ امن۔۔۔۔۔ملکہ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
شہنشاہ اور اس کے درباری بوکھلاہٹ کے عالم میں اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے اس کو روکنے کے لئے آوازیں دیتے رہے لیکن اس نے کسی کی ایک نہ سنی اور اپنی اڑن طشتری میں بیٹھ کر فضائوں میں گُم ہوگئی۔    
 
٭٭٭
رابطہ ؛اجس بانڈی پورہ(193502)کشمیر 
ای میل؛tariqs709@gmail.com
موبائل  نمبر9906526432