اسمبلی نشستوں کی نئی حد بندی!

۔۔۔کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

15 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر جاوید اقبال
ریاست   جموں و کشمیر کو حالیہ ایام میں جس نئی صورت حال کا سامنا ہے اُس کا تعلق ریاستی اسمبلی میں سیٹوں کی حد بندی سے متعلق چونکا دینے والی خبریںہیں ، اسے عرف عام میں ڈی لیمی ٹیشن (Delimitation) عنوان دیا جاتا ہے ۔ بھارت میں پارلیمانی انتخابات کی مہم کے دوران حکمران پارٹی بھاجپا نے شد و مد سے تکراراََ دفعات 370اور 35A کی منسوخی کا ذکر چھیڑا بلکہ یہ بھی کہا جانے لگا کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں جتنی جلدی ہو سکے، اس بارے میں اقدامات رو بعمل لائیں جائیں گے۔اِس ضمن میں کشمیر میں نگرانی کی کیفیت طاری ہونا ظاہر ہے ایک متوقع رد عمل تھاچونکہ اِن دونوں دفعات کا تعلق ریاست کی داخلی خود مختاری سے ہے۔ریاست جموں و کشمیر میں ایک جانب مزاحمتی تحریک جاری ہے جسے علحیدگی پسندی کی تحریک بھی مانا جاتا ہے جبکہ دوسر ی جانب سیاسی دھارا میں مین اسٹریم کا وجود بھی ہے جن کا الحاق کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں البتہ ریاست کی داخلی خود مختاری کی ضمانت کا اُنہیں دعوہ ہے۔ مین اسٹریم کے ناقدین کا یہ دعوہ ہے کہ ریاست کی داخلی خو دمختاری کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں اُنکا سیاسی کردار مخدوش ہے۔ناقدین کا یہ بھی ماننا ہے کہ جب بھی ریاستی آئین میں ترمیمات کر کے بھارتی آئین کی گوناگوں دفعات و شقوں کو ریاست میں نافذ کرنے کا مرحلہ آیا تو مین اسٹریم نے بدوں چوں و چرا ساتھ دیا۔ اِس کے باوجود مین اسٹریم کو داخلی خو د مختاری کے محافظ ہونے کا دعوہ ہے۔ مین اسٹریم کے بارے میں یہ بھی ایک جانی مانی حقیقت ہے کہ یہ ریاست میں انتخابی عمل میں شریک رہتی ہے جبکہ مزاحمتی تحریک آج تک انتخابی عمل کے بائیکاٹ پہ ڈٹی ہو ئی نظر آتی ہے۔ 
بھارت میں حالیہ انتخابات میں بھاجپا کی بھاری کامیابی کے بعدریاست جموں و کشمیر کے جانکار حلقوں میں دفعات 370اور 35Aکے ضمن میں بھاجپا سرکار کے ممکنہ اقدامات   کے بارے میں جانکار حلقوں میں بحث و مباحثہ جاری تھا کہ بھارت کی نئی کابینہ کی تشکیل نے ایک اور اُلجھن کو جنم دیا۔یہ اُلجھن جیسا کہ پہلے ہی ذکر ہوا ہے ریاستی اسمبلی میں نشستوں کی حد بندی سے ہے۔یہ اُلجھن تب منظر عام پہ آئی جبکہ جب بھارت کی نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد مطبوعات میں یہ خبر سر فہرست رہی کہ ریاست جموں و کشمیر میں ڈی لیمی ٹیشن (Delimitation) کے بارے میں وزارت داخلہ غور و فکر کر رہی ہے۔ہمارے آج کے تذکرے میں ریاستی اسمبلی میں نشستوں کی حد بندی کے ضمن میں ریاستی آئین میں جو مقررات ہیں اُن پہ بحث ہو گی۔ ریاستی آئین میں اِس ضمن میں کیا ترمیماتی اقدامات رو بعمل آئے ہیں اُنکا ذکر بھی تفصیلاََ ہو گا ۔اِس کے ساتھ ساتھ ڈی لیمی ٹیشن (Delimitation) کے بارے عدالتی احکامات پر بھی نظر مرکوز رہے گی۔ 
ریاست جموں و کشمیر کے آئین میں قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کے بارے میں آئین کے چھٹے حصے (Part VI) کے سیکشن سینتالیس (47) میں ذکر ہوا ہے۔سیکشن 47کے مطابق جموں و کشمیر کے ممبراں کی کل تعداد 111ہو گی ۔ سیکشن 48 کے تحت اسمبلی کی منجملہ نشستوں میں سے 24نشستیں ریاست کے اُن علاقوں کیلئے مخصوص رکھی گئی ہیں جو پاکستانی انتظامیہ کے تحت ہیں ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ پہلے اسمبلی میں کل نشستوں کی تعداد صرف 100تھی لیکن 1987ء میں آئین کی 20ویں ترمیم کے تحت یہ تعداد 111 مقرر کی گئی۔ سیکشن 48 میں جو 24 نشستیں ریاست جموں و کشمیر کے اُن علاقوں کیلئے مخصوس رکھی گئیں ہیںجو پاکستانی انتظامیہ کے تحت ہیں اُن کی تعداد پہلے 25تھی لیکن 19اگست 1975ء کے روز آئین کی 12ترمیم کے تحت اِن کی تعداد  24 مقرر ہوئی ۔ ریاستی گورنر کے صوابدید کے مطابق اگر اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی خاطر خواہ نہ رہے تو وہ زیادہ سے زیادہ دو خواتین کو نامزد کرسکتے ہیں۔ ریاستی آئین کی رو سے اسمبلی حلقوں کی حد بندی ایک ایسی اتھارٹی کے ذمہ رہے گی جس کا تعین قانون سازیہ قانو نی اعتبار سے کرے گی ۔ اِس ضمن میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اتھارٹی کا مدعا و مفہوم ایک کمیشن کا قیام ہے جسے ڈی لیمی ٹیشن کمیشن (Delimitation Commission)کا عنواں دیا جائے گا۔ سیکشن 47 میں یہ ذکر بھی ہوا ہے کہ ہر مردم شماری کے بعد اسمبلی حلقہ جات میں شامل ووٹروں کی تعداد اور حلقے کے حدود کا تعین مقرر شدہ اتھارٹی ایک ایسے قانونی طریقہ کار سے کرے گی جس کا تعین قانون سازیہ کرے گی۔ ا سمبلی میں 111 نشستوں میں سے ریاست جموں و کشمیر کے اُن علاقوں کی  24 نشستوں کو نکال کے جو پاکستانی انتظامیہ کے تحت ہیں باقی 87 نشستیں رہ جاتی ہیں۔ اِن 87 نشستوں میں سے کشمیر ڈویژن کیلئے 46جموں ڈویژن کیلئے 37 اور لداخ کیلئے 4نشستیں مخصوص ہیں۔ سنگھ پریوار سے وابستہ سیاسی تنظیموں کو البتہ سیٹوں کی اِس تقسیم پہ اعتراض ہے۔اِن تنظیموں میں بھاجپا پیش پیش ہے اور اصرار یہ ہے کہ جموں ڈویژن کی سیٹوں کی تعداد بڑھا دی جائے۔ اِن حلقوں کا دعوہ ہے کہ کشمیر ڈویژن کو اسمبلی سیٹوں کی حد بندی میں جموں کی نسبت زیادہ سیٹیں دی گئی ہیں۔در اصل اِن حلقوں کا حدف یہ ہے کہ جموں ڈویژن کے کچھ گنے چنے اضلاع ریاست کے 22اضلاع اور اکثریت مطلق پہ حاوی ہو جائیں۔ اِس ضمن میں ایک متوازی بیانیہ ہمیشہ ہی ریاست کے سیاسی افق پہ چھایا رہتا ہے۔ موجودہ مانگ کو بھی اِسی ضمن میں پرکھا جا سکتا ہے۔ 
 ریاست جموں و کشمیر میں عوامی نمائندگی ایکٹ( پارٹ : Part II) سیکشن 3کے تحت گورنر ڈی لیمی ٹیشن کمیشن (Delimitation Commission)کا قیام ہر مردم شماری کے بعد عمل میں لائے گا ۔اِس کمیشن کے تین ممبراں ہونگے جن میں دو ممبراں ایسے جج ہونگے جو سپریم کورٹ یاہائی کورٹ کے موجودہ یا سابقہ جج رہے ہوں ایک اور ممبر ڈپٹی الیکشن کمیشنرہوگا جسے چیف الیکشن کمشنر نامزد کرے گا ۔ عوامی نمائندگی ایکٹ میں یہ سریحاََ ذکر ہوا ہے کہ جب تک سال 2026ء کے بعد کی مردم شماری عملی نہیں ہو گی تب تک کمیشن کا قیام اسمبلی نشستوں کی حد بندی کیلئے ضروری نہیں ہو گا۔ گورنر تین ممبراں میں سے ایک کو کمیشن کا چیر مین نامزد کرے گا۔ ڈی لیمی ٹیشن کمیشن (Delimitation Commission)اسمبلی نشستوں کی حد بندی گورنر کی جانب سے تعین کردہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔سیکشن 3-A کے تحت کمیشن کے ساتھ قانون ساز اسمبلی کے پانچ ممبراں وابستہ رہیں گے جن کو سپیکر اسمبلی کی تشکیل کو مد نظر رکھتے ہوئے نامزد کرے گا۔اِن وابستہ ممبراں کو کمیشن کے فیصلوں میں نہ ہی رائے دینے کا حق ہو گا نہ ہی حق امضا ہو گا۔در صورتیکہ کہ وابستہ ممبراں میں کسی کی موت واقع ہو جائے یا مستفعی ہونے کی صورت میں جلد از جلد کسی دوسرے ممبر کو نامزد کیا جائے گا۔  عوامی نمائندگی ایکٹ کے سیکشن 4 کے مطابق ڈی لیمی ٹیشن (Delimitation)کمیشن اسمبلی نشستوں کی حد بندی کرے گا۔شیڈولڑکاسٹس ( Scheduled Castes)یعنی نچلی ذاتوں کیلئے کتنی نشستیں ریزرو یعنی مخصوص رہیں گی اُسکا تعین بھی کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہو گا اور یہ ریاست کے متفرقہ علاقوں کے اُن حلقوں میں مخصوص رکھی جائیں گی جہاں اُنکی آبادی کا تناسب نفوس کی کل تعداد کی مناسبت میں زیادہ ہو ۔ کمیشن قانون ساز اسمبلی کی 87سیٹوں کی حد بندی کا تعین ہر ایک سیٹ کی جداگانہ ترکیب سے کر لے گاجس میں آخرین مردم شماری میں حلقہ انتخاب میں آبادی کی گنتی کو مد نظر رکھنے کے علاوہ جغرافیائی تسلسل ، حلقے کی قدرتی ساخت و رسل و رسائل کے امکانات کو نظر میںرکھنا ہو گا ۔
سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیموں کے اعتراضات کی فہرست میں یہ ذکر بھی ہوا ہے کہ جموں کا رقبہ کشمیر کی نسبت زیادہ ہے لہذا جموں کیلئے قانون ساز اسمبلی کی زیادہ نشستیں مخصوص ہونی چاہیں۔اگر رقبے کی بنیاد پہ اسمبلی کی نشستوں کی تقسیم ہونی چاہیے تو کہا جا سکتا ہے کہ لداخ کا رقبہ جموں اور کشمیر ڈویژن کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے ۔کونٹر کرنٹس آن لائن میگزین میں سول سوسائیٹی کی جانی مانی شخصیت اور معروف کالم نگار عبدالمجید زرگر صاحب کا ایک انگریزی مقالہ شایع ہوا ہے جس میں موصوف اپنے تیکھے و طنزیہ انداز میں رقم طراز ہیں کہ رقبے کے حساب سے لداخ کا رقبہ 59,000 sq. Kms  جبکہ جموں کا 26,000 sq. Kms اور کشمیر کا 16,000 sq. Kms  ہے ۔اگر رقبے کو بنیاد بنا کے قانون ساز اسمبلی کی  87 سیٹوں کی تقسیم کی جائے تو لداخ کو 51جموں کو 22اور کشمیر کو صرف 14سیٹیں ملنی چاہیے جبکہ کشمیر کی آبادی لداخ سے کہیں زیادہ اور جموں کی کل آبادی کی مناسبت سے بھی زیادہ ہے۔ عبدالمجید زرگر صاحب نے آبادی کے لحاظ سے سیٹوں کی تقسیم کا بھی ایک خاصا عادلانظام تجویز کیا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی 125.35 لاکھ ہے ۔کل آبادی کو87سیٹوں سے تقسیم کیا جائے تو ہر اسمبلی حلقے میں ووٹروں کی اوسط تعداد 1,43,678نفوس پہ مشتمل ہوتی ہے۔ ریاست کی منجملہ آبادی میں کشمیر کی آبادی 68, 94, 000، جموں کی 53, 51, 000 اور لداخ کی 2, 90, 000 نفوس پہ مشتمل ہے ۔ آبادی کی بنیاد پہ سیٹوں کی تقسیم کی جائے تو کشمیر کو 46کے بجائے 48،جموں کو وہی 37 سیٹیں ملتی ہیں جو ا ُس کے حصے میں آئیں ہیں جبکہ لداخ کے حصے میں 4 کے بجائے دو سیٹیں رہنی چائیں۔ در اصل جموں و کشمیر میں عوامی نمائندگی ایکٹ میں آبادی کے ساتھ ساتھ رقبے کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے لیکن رقبے کا تعلق اُس کی وسعت کے بجائے اسمبلی حلقے کے جغرافیائی تسلسل، قدرتی ساخت و رسل و رسائل کے امکانات سے ہے۔اِن مقررات کو مد نظر رکھتے ہوئے لداخ میں زنسکار کیلئے ایک اسمبلی نشست مخصوص رکھی گئی ہے حالانکہ اِس علاقے کی آبادی صرف و صرف 13,793 نفوس پہ مشتمل ہے ۔یہی صورت حال لداخ میں نوبرہ کی بھی ہے جہاں کی منجملہ آبادی صرف 22,433 نفوس پہ مشتمل ہے لیکن اِس علاقے کو ایک اسمبلی سیٹ کا حقدار مانا گیا ہے۔ 
اسمبلی کی سیٹوں کی حد بندی میں یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ شیڈولڑکاسٹس (Scheduled Castes) کیلئے سیٹیں مخصوص رکھی جائیں گی بنابریں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چونکہ شیڈولڑکاسٹس کے افراد زیادہ تر جموں ڈیویژن میں رہتے ہیں لہذا جموں ڈیویژن کی سیٹوں میں اضافہ ہونا چاہیے ۔اِس ضمن میں جموں و کشمیر کے آئین کے سیکشن (49:2) میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ شیڈولڑکاسٹس کے لئے ریزرویشن جموں و کشمیر کے آئین کے آغاز سے 53سال تک رہے گی۔پہلے یہ مدت 43سال تک محدود تھی لیکن پھر سال 2000ء میں 26اپریل کے روز آئین کی 28ویںترمیم یہ مدت 53سال تک بڑھا دی گئی ۔اِس ترمیم کا اطلاق 25جنوری سال 2000ء سے مقرر کر دیا گیا پس شیڈولڑکاسٹس کے لئے ریزرویشن کا کوئی آئینی جواز مستقبل میں موجود نہیں ہو سکتا۔ دیکھا جائے تو 2026ء تک اسمبلی نشستوں کی حد بندی پہ نظر ثانی پہ آئینی قدغن لگی ہوئی ہے ثانیاََ 2026ء کے بعد مردم شماری 2031ء میں ہو گی بنابریں اسمبلی نشستوں کی حد بندی پہ نظر ثانی 2031ء کی مردم شماری کے بعد ہی ممکن ہو سکتی ہے ۔ 2026ء کی آئینی قدغن ریاست جموں و کشمیر میں سال 2002ء میں لگ گئی ۔ ایسا بھارت سرکار کی تقلید میں ہوا جبکہ دہلی میں بھاجپا بر سر اقتدار تھی۔بھارت سرکار نے دیش کے طول و عرض میں2026ء تک قانون ساز اداروں میں سیٹیوں کی حد بندی پہ نظر ثانی پر قدغن کیلئے آئینی ترمیمات رو بعمل لائے۔ ریاست جموں و کشمیر میں فاروق عبداللہ سرکار نے دیش بھگتی کا ثبوت دیتے ہوئے اِس کی تقلید کی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں بھاجپا کے آٹھ ممبراں نے فاروق سرکار کا ساتھ دیا لیکن آج وہی بھاجپا اسمبلی سیٹوں کی حد بندی کیلئے نظر ثانی پہ اصرار کر رہی ہے جبکہ ریاست کی قانون ساز اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے۔اب جوز یہ دیا جا رہا ہے کہ قانون ساز یہ کے اختیارات اسمبلی کی غیر موجودگی میں گورنر کو تعو یض ہو چکے ہیں اور وہ مطلوبہ آئینی ترمیمات کر سکتے ہیں جبکہ گورنر کی حکمرانی کی اخلاقی و آئینی نوعیت ایک ایسے عبوری دور کی ہے جس میں ایسے اقدامات سے پس و پیش ضروری ہے جو دور رس نتائج کے حامل ہوں۔ جہاں تک عدالتی احکامات کا تعلق ہے تو اِس ضمن میں یہ ذکر ضروی ہے کہ 2026ء  تک اسمبلی نشستوں کی حد بندی پہ نظر ثانی پر آئینی قدغن کو پین تھرس (Panthers)پارٹی کے بھیم سنگھ نے پہلے جموں کشمیر ہائی کورٹ میں چلینج کیا ۔ہائی کورٹ نے اِس میں کسی قسم کی مداخلت سے گریز کیا۔اُس کے بعد بھارت کی عدالت عالیہ سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کی تائید کی چناچہ 2026ء تک اسمبلی نشستوں کی حد بندی پہ نظر ثانی پر آئینی قدغن کو عدالتی جواز فراہم ہوا۔ 
:Feedback on: Iqbal.javid46@gmail.com

 

تازہ ترین