تازہ ترین

نصاب میں بہتری لانے کااساتذہ کامشورہ

جموں کشمیر ٹیچرس ایسوسی ایشن کی سرینگرمیں پریس کانفرنس

13 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// سرکاری اسکولوں میں معیارتعلیم میں خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کلہم خواندگی مہم کے تحت تعینات اساتذہ نے نصاب میں بہتری لانے کا مشورہ دیاہے جبکہ انہوں نے گورنر انتظامیہ کی طرف سے اُن کے مسائل کو حل کرنے کے قدم کو بھی تاریخی قرار دیا۔سرینگر کے ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں کشمیر ٹیچرس ایسو سی ایشن نے نظام تعلیم میں بہتری لانے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ سرکار کو چاہے کہ ریاست میں تعلیمی پالیسی مرتب کریں۔ ایسو سی ایشن کے صدر شاہ فیاض نے کہا کہ نصاب کو بہتر بنانے کی ضرورت ہیں،تاکہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچے نجی اسکولوں کے طلاب کے ساتھ مقابلہ کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں بہترین اور قابل تدریسی عملہ دستیاب ہونے کے علاوہ بہتر ڈھانچہ بھی موجود ہیں،تاہم موجودہ تعلیمی پالیسی کی وجہ سے طلاب معیاری تعلیم سے آراستہ ہونے سے مستفید نہیں ہو پارہے ہیں۔شاہ فیاض کا تاہم ماننا تھا کہ اس کیلئے بیروکریٹ یا انتظامیہ ذمہ دار نہیں ہے،بلکہ نظام تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہیں۔اس دوران سرو شکھشا ابھیان کے تحت تعینات اساتذہ کے مسائل کا ازالہ کرنے پر ریاستی گورنر ایس پی ملک اور انکے مشیروں کے علاوہ محکمہ تعلیم و صوبائی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جموں کشمیر ٹیچرس ایسو سی ایشن کے صدر نے کہا کہ80فیصد مسائل کا ازالہ کیا گیا،جو ایک تاریخی قدم ہیں۔انہوں نے کہا کہ41ہزار اساتذہ کے مسائل حل ہونے سے9لاکھ کی آبادی مستفید ہوئی۔انہوں نے کلہم خواندگی مہم کے تحت تعینات اساتذہ کے مسائل کو شدید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل مسلسل حکومتوں نے انہیں ناامید کیا تھا،تاہم گورنر انتظامیہ بشمول چیف سیکریٹری، صوبائی کمشنر،سابق وموجودہ ناظم تعلیمات اور گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے انکے مسائل کا ازالہ کرنے میں کلیدی رول ادا کیا۔