تازہ ترین

زرعی یونیورسٹی کشمیر میں ایک روزہ ورکشاپ

سکندن کا کھیتی باڈی کیلئے جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر زور

13 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر// گورنر کے مشیر کے سکند ن نے زرعی ماہرین سے کہا ہے کہ وہ کسانوں کی آمدنی میں انقلاب لانے کے لئے کھیتوںمیں جدید ٹیکنالوجی اپنانے کے اقدامات کریں۔زرعی یونیورسٹی کشمیر میں ایک روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مشیر موصوف نے کسانوں کی سوچ میں بہتری لانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرتے ہوئے انہیں مستفید کریں۔ورکشاپ کا عنوان ’’ سمال فارم ایگریکلچر پروڈکشن اینڈ پوسٹ پروڈکشن میکانائزیشن‘‘ رکھا گیا تھا۔ورکشا پ کا اہتمام آئی سی اے آر نے زرعی یونیورسٹی کشمیر کے ساتھ اشتراک کر تے ہوئے کیا تھا۔اس ورکشاپ میں اشتراک جموں وکشمیر ریاست کے علاوہ اُترا کھنڈ اور ہماچل پردیشن میں کیا تھا۔ ورکشاپ میں زرعی یونیورسٹیوں کے سربراہاں ، ماہرین ، سائنسدان ،سکالر اور طلباء کے علاوہ مختلف تجارتی تنظیموں کے سربراہاں نے بھی شرکت کی۔مشیر موصوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم زرعی پیداوار کو وسعت دینے کے لئے تمام زرعی آلات اور ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔زرعی یونیورسٹیوں کے رول کو اُجاگر کرتے ہوئے کے سکندن نے کہا کہ کسانوں کو ٹیکنالوجی سے باخبر کرتے ہوئے اُن کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے اقدمات کئے جائیں۔انہوں نے اس سلسلے میں موبائیل ایپس کو معرض وجود لانے کی صلاح دی جس کی بدولت کسانوں کو کھیتی باڈی سے متعلق اطلاعات فراہم کی جاسکیں۔انہوں نے تجارتی برادری پر زور دیا کہ وہ کھیتی باڈی پر مرکوز مراکز قائم کریں جہاں کسانوں کو بہتر ٹیکنالوجی سے واقف کرایا جاسکیں اور وہ جدید ٹیکنالوجی کو خرید کر اپنی زرعی کاوشوں کو فروغ دیں۔مشیر موصوف نے تقریب کا اختتام کرتے ہوئے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ریاست میں کھیتی باڈی کے عمل میں فروغ دینے کے ساتھ ساتھ زرعی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ( انجینئرنگ) آئی سی اے آر کے کے سنگھ ، وائس چانسلر سکاسٹ کے پروفیسر نذیر احمد نے تقریب سے خطاب کیا۔