تازہ ترین

۔2007 سے 2016: 2400 افراد پر پی ایس اے کا اطلاق

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا منسوخی کا مطالبہ

13 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//بشری حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کوایک ایسا قانون قراردیاہے جو ’’ انسداد جرم کے عدالتی نظام کو بالائے طاق رکھ کر احتسابی نظام، شفافیت اور انسانی حقوق کو نظر انداز کرتا ہے۔‘‘ایمنسٹی نے ایک رپورٹ میں اعداد شمار ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 2007سے  2016 تک 2400سے زائد افراد کو اس قانون کے تحت بند رکھا گیا جن میں سے58 فیصدحکم ناموں کو عدالتوں نے کالعدم قرار دیا۔ انتظامیہ نے بدھ کو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ’’بے لگام قانون کا ظلم، جموں وکشمیر پی ایس اے کے تحت بلا الزام مقدمہ اور نظربندی‘‘ کی رپورٹ منظر عام پر لانے پر روک لگا کر اس کا خلاصہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے سرینگر کے ایک مقامی ہوٹل میں  ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آکار پٹیل،پروگرام ہیڈ آشمتا اور مقامی محقق ظہور احمد وانی کو اس رپورٹ کا خلاصہ میڈیا کے سامنے پیش کرنا تھا،تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ریاستی انتظامیہ کی طرف سے انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی،جس کے بعد میڈیا بریفنگ کو رد کیا گیا۔ اس دوران کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب  ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ میں’’ سال 2012سے2018 کے درمیان پی ایس اے قانون کے تحت نظربند ہونے والے 210 قیدیوں کے مقدمات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہ قانون کسی بھی شخص کو دو سال تک انتظامی نظربندی میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔‘‘ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سربراہ اہ کار پٹیل نے کہا’’اس خلاصہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پی ایس اے قانون کو کس طرح انتظامی انسانی حقوق کے بھارتی اور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرکے انتظامی نظربندی کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے اوراس قانون کی وجہ سے ریاستی انتظامیہ اور مقامی آبادی کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے اس لئے اسے فورا منسوخ کردیا جائے۔‘‘آکار پٹیل نے کہا ’’جموں و کشمیر ہائی کورٹ باقاعدگی سے حراست کے ان تمام احکامات کو رد کرتا رہا ہے جن میں احتیاط سے کام نہیں لیا گیا تھا، لیکن اس سے ایگزیکٹو حکام کے اختیارات پر اثر نہیں پڑا۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں2019میں ہی نئی ریاستی حکومت کا انتخاب عمل میں آئے گااور اس طرح حکومت کو موقع ملے گا کہ وہ  ماضی  کے برخلاف جموں و کشمیر کے عوام کو اس بات کا یقین دلائے کہ ان کے حقوق سرکار کے لئے اہمیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ایس اے قانون کا متن بذات خود بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت بھارت پر عائدکئی ذمہ داریوں کا انکار کرتا ہے اور ان ذمہ داریوں میں قیدیوں کے منصفانہ مقدمے کے حقوق کا احترام بھی شامل ہے۔‘‘ اس خلاصہ میں قیدیوں کے کئی سرکاری دستاویزات اور نظربندافراد کے قانونی کاغذات کی جانچ پڑتال کرکے یہ دکھایا گیا ہے’’ کس طرح جموں و کشمیر انتظامیہ پی ایس اے کے ذریعہ انسانی حقوق کی پامالی کررہی ہے جن میں بچوں کی نظربندی، پی ایس ا ے کی تمام احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کرکے مبہم انداز میں احکامات صادر کرنا اور قیدیوںکی ضمانت پر رہائی سے روکنا شامل ہے۔‘‘رپورٹ میں نا بالغ بچوں اور جسمانی طور پر معذور افراد کے علاوہ بزرگ شہریوں کو بھی اس قانون کے عتاب کا شکار قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں اعداد شمار ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ2007سے2016تک2400سے زائد افراد کو اس قانون کے تحت بند رکھا گیا۔رپورٹ میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے2017میں ریاستی  اسمبلی میں  دئے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان میں سے58 فیصدحکم ناموں کو عدالتوں نے کالعدم قرار دیا۔2018میں سابق وزیر اعلیٰ کی طرف سے اسمبلی میں دئیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سال2016میں525افراد کو پی ایس کے تحت نظر بند رکھا گیا،جبکہ2017میں201افراد پر  پی ایس ائے عائد کیا گیا۔ رپورٹ میں سرکاری رپورٹوں کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ حق اطلاعات قانون کے تحت درخواستوںسے حاصل شدہ معلومات کے مطابق مارچ2016اور اگست2017کے درمیان زائد از1000افراد پر پی ایس ائے عائد کیا گیا۔‘‘ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ کیا ہے کہ’’چکر الوں حراستی دروازہ‘‘( ریوالونگ ڈور ڈٹنشن) کے 71واقعات میں حکام نے یا تو حراست میں لینے کا نیا حکم جاری کیا، یا نظربند شخص کو ایک نئے ایف آئی آر ذریعہ پکڑا گیا تاکہ وہ ضمانت پر چھوٹ نہ سکے۔ رپورٹ کے مطابق 90 فیصد واقعات میں پایا گیا کہ نظربند افراد کو ایک ہی الزام میں پی ایس اے قانون اور انسداد جرم  کے دوسرے قانون دونوں کے تحت کی جانے والی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ’’بے لگام قانون کا ظلم، جموں وکشمیر پی ایس اے کے تحت بلا الزام مقدمہ اور نظربندی‘‘ کی رپورٹ کے لئے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ظہور وانی نے بتایا  ’’پولیس پی ایس اے قانون کو سیکورٹی نیٹ(سلامتی جال) کے طور پر استعمال کرتی ہے تاکہ نظربندی سے رہا ہونے والے مشتبہ افراد کو یا انہیں جو ضمانت پر رہا ہو سکتے ہیں کوحراست میں رکھ سکے۔ ‘‘ انہوں نے بتایا’’مقامی وکیلوںسے بات چیت کے دوران اندازہ ہوا کہ ریاستی پولیس انسداد جرم کے دوسرے کسی قانون کے تحت کاروائی کو ترجیح نہیں دیتی ہے کیوں کہ اس کے لیے مضبوط ثبوت اور بے گناہی کے امکانات کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔‘‘اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایمنسٹی انڈیا نے یہ بھی پایا ہے کہ بہت سے نظربندی کے واقعات میں پولیس کے ذریعہ درج تفصیلات اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے جاری پی ایس اے قانون کے تحت احکامات ایک ہی جیسے ہیں ،جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان پر عملدرآمد بغیر سوچے سمجھے کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال2018میں پی ایس سے قانون میں جو ترمیم کی گئی، اس کے ذریعہ قیدیوں کو ان کے گھروں سے دور جیلوں میں رکھا گیا جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کو نظرانداز کرناہے۔رپورٹ میں خلاصہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’وہ افراد جنہیں بے لگام طریقے سے پی ایس اے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں الزامات سے بری قرار پائے انہیں ملازمت حاصل کرنے یا تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے جموں و کشمیر کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ایس اے اور اس جیسے تمام قوانین کو جو انتظامی نظربندی کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، فوری طور پرمنسوخ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس قانون کے تحت غیر قانونی طور پر نظربند تمام افراد مکمل طور پر رہا ہوں اور ان کی مشکلات دور ہوں۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انڈیا نے جموں کشمیر حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی حراستوںِ، اور قید میں اذیت رسانیوں اور تشدد کے تمام الزامات کی آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیق کرے اور ان واقعات میں ملوث افراد کو سزا دلائے۔