تازہ ترین

غصہ۔۔۔۔ ابتداء حماقت انتہا ندامت

انسانی نفسیات

13 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد یو سف مکرو۔۔۔ آرونی اسلام آباد
 اپنے  محبوب بندوں کے صفات کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ عزو جل کا ارشاد ہے کہ ’’وہ غصہ کو پیتے ہیں ، لو گو ں کے لئے خیرو سلامتی کا با عث بن جا تے ہیں اور اللہ ایسے محسنو ں کو پسند کر تا ہے (آل عمران)۔ انسانی فطرت میں کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو مطلوب و مقصود ہوتی ہیں ۔ بر عکس اس کے فطرت انسانی میں کچھ ایسی چیزیں بھی ودیعتاً موجودہو تی ہیں جو نتائج کے اعتبا ر سے مضرت رساں اور غیر مطلوب ہو ں۔ ان ہی ضرر رساں اور غیر مطلوب چیزوں میں غصہ بھی شامل ہے ۔واقعتاً انسانی زند گی میں کئی مواقع ایسے بھی آتے ہیں جہاں غصہ کا در آنا فطری امر ہے ، البتہ محسنو ں (اللہ کے نیکو کار بندوں) کا یہ طرہ امتیاز یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے نا خو شگوار اور ہیجا نی حا لات میں  ارشاد ِ ربانی کی اطاعت کلی کے طور غصہ کو پی جا تے ہیں ، غصہ اور جھنجلاہٹ کے منفی عنصر کو اپنے وجو د پر غا لب نہیں ہو نے دیتے بلکہ اسے مغلو ب کر کے محسنو ں کی صف میں شامل ہو کر رضائے الٰہی حا صل کر نے والے خو ش بخت بندے بن جا تے ہیں ۔ امام حسن ؓ (بعض روایات میں حضرت علی ؓ) کے حو الے سے روایت کی جاتی ہے کہ ایک با ر ایک لو نڈی نے آپ ؓ کو وضو کے پانی کا برتن اس طرح سو نپا کہ برتن گر کر وضو کے پانی سے آپؓ کے کپڑے تر بہ تر ہوگئے اور آپ ؓ کے ما تھے پر غصہ کے آثار ہویدا ہو گئے ۔ وہ قرنِ اول اس لحا ظ سے خیر القرون تھا کہ بند گان خدا کا اوڑھنا بچھو نا ربانی ارشادات اور مصطفوی ؐفرمودات کی عمل آوری تھا ۔ لو نڈی بھی تعلیمات ِربا نی اور فر مودات مصطفوی ؐ سے بہرہ مند تھی ۔ حا لات کی مناسبت سے فوراً محو لہ با لا آیت کے پہلے ـٹکڑے’’ محسن غصہ کو پیتے ہیںاور لو گوں کے لئے خیر و سلامتی کا با عث بن جا تے ہیں‘‘ کی تلاوت کی ۔ یہ سن کر امام عالی مقام کا غصہ کا فور ہو گیا اور آپؓ نے لو نڈی سے مخاطب ہو کر فرما یا کہ’’ میں نے تجھے معاف کیا ‘ تو لو نڈی جو تعلیمات قرآنی سے آشنا اور بہرہ مند تھی جو ابا ً بو ل اُٹھی’’ اور اللہ محسنو ں سے پیار کرتا ہے‘‘ لو نڈی کے منہ سے آیت کا یہ آخری حصہ تلاوت ہو نے کی دیر تھی کہ امام حسن ؓ نے فرما یا ’’جا میں نے تجھے آزاد کر دیا ‘‘۔ غصہ کے حو الے سے اس واقعہ میں ہمارے لئے نصیحت و مو عظت کا گنجینہ بیش بہا موجودہے جس پر عمل پیر ا ہو کر ہمیں بھی اپنے کو محسنو ں کی صف میں شامل ہو نے کی سعی و کوشش کر نی چا ہئے ۔ عقل مندوں کے بارے کیاخو ب فرمایا گیاہے کہ غصہ حما قت سے شروع ہو تا ہے اور ندامت پر ختم ہو تا ہے ۔درج ذیل واقعہ بزرگوں کے اس قول فیصل کی یو ں حرف بہ حرف تائید و تو ثیق کر تا ہے کہ ایک بڑے بابو نے اپنے چھو ٹے سے کنبہ جس میں میا ں بیو ی اور آٹھ دس برس کا ایک لا ڈلا بیٹا تھا ، کے لئے ایک نئی گاڑی خریدی ۔ عربی مقولہ کے مطا بق انسانی فطرت میں ’’ہر نئی چیز مزے دار اور محبوب ہوتی ہے‘‘ کے مصداق بڑے با بو ہر صبح دفتر روانہ ہو نے سے پہلے گیرج میں رکھی گا ڑی پر ضرور ایک طا ئرانہ نظر دوڑا دیتے اور اس طرح اپنی فطری اُمنگ کی تکمیل کا ساما ن پہنچا تے ۔ حسب معمول ایک روز مو صوف نے اپنے مکا ن کی با لکو نی سے گا ڑی پر نظر ماری اوردیکھا کہ گھرکا بچہ گا ڑی کے دروازہ کو کھروچتا ہے ۔ با بو نے جو نہی یہ نا خو شگوار واقعہ دیکھا تو فوراًمکان سے نیچے آکر بچہ کی خوب خبر لی اور اس کو اتنی زور سے اسی ہاتھ کو مارا جس سے وہ گاڑی کے دروازہ کو کھرچتا تھاکہ بچہ درد کے مارے چیختا چلا تا رہا ۔ باپ سے اپنے لا ڈلے کی یہ حا لت کیا برداشت ہو تی ۔ شفقت ِپدری کے آنسو موتی بن کر با بو کے آنکھوں سے ٹپ ٹپ گر نے لگے ۔ بچہ کو اسی گا ڑی میں بٹھا کر نزدیکی ہسپتال سے مر ہم اور پٹی کراواکے لا یا ۔ کچھ دیر بعد اب نئی گا ڑی پربچہ کے کھرچنے کے اثرات کا جا ئزہ لینے گئے تو گاڑی کے دروازہ پر بچے کے ننھے منے ہاتھ سے یہ عبارت دیکھ کر بابو نہ صرف آبدیدہ ہو گئے بلکہ نادم و شرمسار ہو کر رہ گئے"oh! my Papa, i love u so much"دوسرے معنو ں میں ابا جان ! نئی گا ڑٰ ی خر ید کر آپ میرے زیا دہ محبوب اور پیارے بنے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ غصہ کو کبھی اور کسی حال میں بھی اندھا دھنداپنے وجو د پر غا لب نہ ہو نے دیجئے اور اس طرح اپنے کو حما قت و ند امت کے غیر مطلو بہ وناپسندیدہ نتائج سے بچ بچا کے رکھئے۔ غصہ سے متعلق پا کستانی اسکا لر سلیم احمد کے یہ تاثرات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں’’ نفسیاتی اعتبار سے بھی غصہ بہت نقصان دہ چیز ہے ۔ ایک ما ہر نفسیات کا کہنا ہے کہ غصہ چو نکہ ایک منفی جذبہ ہے، اس لئے انسان کی رو حا نی اور ذہنی زند گی کی نشو ونما میں بہت بڑی رکاوٹ ثا بت ہو تا ہے۔ غصہ ور آدمی میں تحمل ، بر باری ، حلم اور تواضع پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ وہ دوستی اور محبت کی پائیدار کیفیات سے لطف اندوز ہو سکتا ہے ۔ عام نقطہ نظر سے بھی غصہ ایک ایسی آگ کی طرح ہے جو طا قتور میں ہو تو دو سروں کو جلا تی اور نقصان پہنچا تی ہے اور اگر کمزور میں ہو تو خو د غصہ کرنے والو ںکو جلاتی ہے۔ غصہ ور خو د بھی جلتا ہے اور دوسروں کو بھی جلا تا ہے ۔ ہمیں اپنے ذاتی ، خا ندانی معاشرتی اخلاقی اور مذہبی زندگی کی بہتری کے لئے نر می اور بردبا ری اختیار کر نی چا ہئے ۔ غصہ پر قابو پا کر ہی آدمی انسان بنتا ہے۔ہاں ظلم و جبر ، دھو نس دباؤ، بدی و برائی، استحصال و لو ٹ کھسوٹ ، عریانیت و فحاشی ، اخلاقی اقدار کی پا ما لی ، عزت نفس کی تحقیر ، حریت انسانی پر شب و خو ن وغیرہ وہ اخلا قی رذائل ہیں ،جن کے خلا ف مو منا نہ حمیت و غیرت کا بھڑک اٹھنا اور ان کے استیصال کی راہ میں بساط بھر صلا حیتیں اور کو ششیں کھپا نا ہی مو منانہ زند گی کا شیوہ و شعار اور صفاتِ اولیٰ و اعلیٰ ہیں ۔ یاد رہے مو منا نہ غیرت و حمیت غصہ کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ غصہ آور ما حو ل کے گٹھا ٹوپ اند ھیروں میں قندیل رُبا نی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ قند یل فروزاں نہ ہو تو رذائلِ اخلاق کے گٹھا ٹو پ اندھیروں میں سما ج و معاشرے کی شکست و ریخت از بس لا زم ہے۔ 
