تازہ ترین

ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال کاپیر پنچال میں نمایاں اثر

پورا دن مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

13 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

حسین محتشم
 
پونچھ//ٹرانسپورٹروں کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کی وجہ سے سرحدی ضلع راجوری اور پونچھ میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ان دونوں اضلاس میں ہڑتال کی وجہ سے مسافروں نے اپنے مقاما ت پر پہنچنے کیلئے نجی گاڑیوں کا استعمال کیا جبکہ متعدد مسافروں کو مسافروں گاڑیوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے پیدل سفر کرنا پڑا ۔ٹرانسپورٹ ایسوسی ایش کی جانب سے دی گئی ریاست گیر بند کال کا پورے ریاست کی طرح پونچھ میں بھی بھرپور اثر دیکھنے کو ملا۔اس دوران مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ بس اڈہ پونچھ پر ریاست کے مختلف علاقوں اور بیرون ریاست جانے والے مسافروں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں پہلے خبر نہیں دی گئی کہ آج چکہ جام رہے گا۔اس دوران ایک فوجی اہلکار جو کہ دہلی جانے والے تھے، نے بتایا کہ ان کی شام کو چھ بجے ٹرین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپوٹروں کی جانب سے پونچھ ضلع میں اس کی پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے موقعہ کے لئے انتظامیہ کی جانب سے ایک سپیشل گاڑی کا انتظام کیا جانا چاہئے تاکہ بیمار اورمریضوںکوراحت ملے۔ بس اڈہ پونچھ پر موجود سینکڑوں مسافروں نے بھی انتظامیہ پر الزام لگایا کہ انھیں پہلے چکہ جام کی اطلاع نہیں دی گئی۔اس سلسلہ میں جب بس اڈہ پونچھ کی انتظامیہ کمیٹی کے منیجر جگجیت سنگھ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں جموں کشمیر ٹرانسپورٹ  ایسوسی ایشن کی جانب سے دو روز قبل ریاستی انتظامیہ کو پریس کانفرنس کے ذریعہ مطلع کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عام عوام کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن جن مطالبات کے لئے یہ ہڑتال کی گئی ہے وہ مطالبات بھی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہڑتال تب تک جاری رہی گئی جب تک ان کے مطالبات حل نہیں کئے جائیں گے۔  ضلع راجوری میں مسافروں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ وہ ٹرانسپورٹروں کی جانب سے دی گئی بند کال سے واقف نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ۔اس دوران ایک 80سالہ مسافر فقیر محمد اور ان کے پوتے صغیر احمد نے بتا یا کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے گئے ہوئے تھے جس کے بعد وہ سلانی پل راجوری پہنچے تاکہ اپنے گھر واپس جاسکیں تاہم کئی گھنٹوں تک انتظار کرنے کے باوجود بھی کوئی مسافر گاڑی نہیں ملی ۔ فقیر محمدنے مزید بتایا کہ اس کے کنبہ میں کوئی بھی انٹر نیٹ استعمال نہیں کر تا جس کی وجہ سے اس کو ہڑتال کا پتہ نہیں چلا ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مسافروں کو درپیش مسائل کو سنجیدگی کیساتھ لے ۔انہوں نے کہاکہ کوئی بھی سیاسی لیڈر یا آفیسر مسافروں بسوں میں سفر نہیں کر تا تاہم ایسی ہڑتالوں کی وجہ سے عام لوگوں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔