تازہ ترین

رسانہ عصمت دری و قتل کیس | مجرموں کو پھانسی دے کر کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہئے تھا:گیلانی

13 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر// حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے کٹھوعہ عصمت دری اور قتل کیس پر سنائے جانے والے فیصلہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بے گناہ معصوم بچی کو جس درندگی سے عصمت دری کے بعد قتل کیا گیا ،اُس نے ریاست کے عوام کو ہی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کو ہلا کے رکھ دیا۔ایک بیان میں گیلانی نے کہا کہ غریب اور مفلس طبقے سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو ایک گہری اور سوچھی سمجھی سازش کے تحت وہاں سے بھگانے کے منصوبے پر عمل کرنے کیلئے ہولناک واردات انجام دی گئی جس سے پوری انسانیت شرمسار ہوکر رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس درندگی اور اخلاق باختہ حرکت کرنے والوں کو پھانسی دے کر کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہئے تھا تاکہ ایسی سوچ اور ذہنیت رکھنے والوں کے بوجھ سے زمین کے سینے کو بھی صاف کیا جاسکتا۔ بزرگ حریت رہنما نے کہا کہ ’’بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاو‘‘ کے نعرے لگانے والے کمسن بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے والوں کے ساتھ اس طرح کی رعایت کیسے برت سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں ایک خاص طبقے کے افراد کو بے دردی سے قتل کرنے کا منصوبہ بنانے والے کو لاکھوں ووٹوں کی اکثریت سے پارلیمنٹ میں بھیجا جائے، اس پارلیمنٹ میں ایسے ہی قوانین بننے کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اس شرمناک واقعہ کے اصلی خالق کے ماسٹر مائنڈ(بیٹے) کو شک کا فائدہ دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وحشی درندے کو کسی بھی حالت میں کوئی رعایت نہیں دی جانی چاہئے۔ 18ماہ کے طویل انتظار کرنے کے باوجود اس کمسن بچی کے غریب اور بے آسرا والدین کو اپنی بدنصیب لخت جگر کے قاتلوں کو زندہ دیکھ کر مایوسی ہوئی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اب جرم کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دے کر کبھی مجرموں کو پھول مالائیں پہنا کر انہیں قانون بنانے کے ایوانوں تک پہنچایا جاتا ہے تو کہیں درندگی اور سفاکیت میں ملوث ہونے کے باوجود مجرموں کو رعایت دے کر ہمدردیاں حاصل کی جاتی ہیں۔