تازہ ترین

ٹرانسپورٹروں کی ریاست گیر ہڑتال ، روزمرہ معمولات متاثر

سرکاری ٹرانسپورٹ معدوم،کئی مقامات پر توڑ پھوڑ اور احتجاج

13 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی+یوگیش سگوترہ
 سرینگر//ٹرانسپورٹروں کی طرف سے ریاست گیر ہڑتال سے سرینگراور جموں میں مکمل پہیہ جام رہاجس دوران لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔عوامی حلقوں میں اس بات پر سخت ناراضگی پائی جارہی ہے کہ سرکار نے اس صورتحال میں سرکاری ٹرانسپورٹ کو بہم نہیں رکھا ۔ٹرانسپوٹروں کی طرف سے صوبائی ٹرانسپورٹ دفتر کو آن لائن کرنے ،مال بردارگاڑیوں میں ’’ٹریکنگ نظام‘‘ نصب کرنے اور شاہراہ پر ٹول ٹیکس کی وصولیابی کے خلاف بدھ کو وادی گیر پہیہ جام ہڑتال  سے عام زندگی متاثر ہوئی،جس کے نتیجے میں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میں ہر طرح کی مسافر بردار گاڑیوں بشمول،بسوں،منی بسوں،سومو گاڑیوں،ٹیکسیوں اور آٹو رکھشائوں نے مکمل ہڑتال کی۔بیشتر مال بردار اور مسافر بردار گاڑیاں بس اڈوں میں دن بھر کھڑی رہیں۔ اس دوران رابطہ سڑکوں اور بین ضلعی سڑکوں پر بھی مال و مسافر بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت بند رہی۔ٹرانسپورٹ ہڑتال سے سرکاری و نجی دفاتر کے علاوہ اسکولوں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے اور حاضری پر بھی اثرات پڑے۔ شہر کی سڑکوں کے علاوہ جنوب و شمال میں مسافروں کو سڑک کناروں پر گاڑیوں کا انتظار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ شہریوں نے سرکار کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپوٹروں کے ہڑتال کے چلتے  انہیں مختلف روٹوں پر سرکاری ٹرانسپورٹ چلانے کا انتظام کرنا چاہئے تھا،تاہم انتظامیہ اس میں ناکام ہوئی۔
سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی تاہم بھرمار دیکھنے کو ملی،اور ملازمین،تاجر،طلاب اور دیگر لوگوں نے نجی 2اور4پہیوں والی گاڑیوں کا استعمال کیا۔ پہیہ جام کے چلتے ریل پر بھی دبائو نظر آیا۔اس دوران ٹرانسپوٹروں نے سرینگر کی پرتاپ پارک میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کی۔احتجاجی ٹرانسپوٹروں نے انکی ہڑتال سے عوام کو درپیش مسائل پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا،کیونکہ انتظامیہ نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے انکے مطالبات کو سرد خانے کی  نذر کردیا۔کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیر ایسو سی ایشن کے صدر شبیر احمد مٹھ نے کہا کہ صوبائی ٹرانسپورٹ دفتر(آر ٹی ائو) کو آن لائن کیا گیا ہے،جبکہ محکمہ کے پاس افرادی قوت اور تجربے میں کمی کے نتیجے میں ٹرانسپوٹروں کو دستاویزات کی تجدید کرنے میں کئی دنوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے،اور اس عرصے میں اپنی گاڑیاں بھی خالی ہی کھڑی کرنی پڑتی ہے،اور انہیں کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیشتر مالکان نے بنکوں سے قرضے لیکر گاڑیاں خریدی ہیں،اور اس میں جب انہیں خالی بیٹھنا پڑتا ہے تو بنکوں کے سود میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے جبری ٹیکس وصولیابی‘‘ کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ شبیر احمد مٹھ نے کہا کہ فوری طور پر اس ٹیکس کی وصولیابی کے حکم نامہ کو منسوخ کیا جانا چاہئے۔کشمیر منی بس فیڈریشن کے صدرشیخ محمد یوسف نے بتایا کہ سرکار کی طرف سے مال بردارگاڑیوں میں جی پی آر ایس نصب کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں،اور اس کیلئے صرف ایک ڈیلر کا انتخاب کیا گیا،جبکہ گاڑیوں کو ان آلات سے لیس کرنے کیلئے16سے 20ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ کشمیر منی بس فیڈریشن کے صدر نے مزید بتایا کہ ایک اور حکم نامہ میں گاڑیوں میں’’خبرداری بٹن‘‘ نصب کرنے کا بھی حکم نامہ جاری کیا گیا،تاہم کئی ٹرانسپوٹروں کی گاڑیاں کنڈم ہو رہی ہے،اور ان میں ان آلات کو لگانے سے بے جا ان ٹرانسپوٹروں کو نقصانات سے دو چار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کشمیر ٹیکسیوں کو لداخ میں مقامی سیائٹ سین پر جانے سے منع کرنے کے فیصلے کو بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے ریل سروس میں کمی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ ریل سروس کے نتیجے میں ان کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اورٹرانسپورٹ شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ادھر/ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ٹرانسپورٹ تنظیموں کی طرف سے کی گئی ریاست گیر ہڑتال سے معمولات زندگی بری طرح سے متاثر ہوئے ۔
اس دوران ہر قسم کی کمرشل گاڑیاں بشمول بسیں، منی بسیں، ٹرک، لوڈ کیریئر، تیل کے ٹینکر، ٹیمپو ٹریولر، سوموز،ٹیکسیاں اور آٹورکھشا وغیرہ سڑکوں سے غائب رہے جس کے نتیجہ میں مسافروں کو شدید مشکلات کاسامناکرناپڑا۔ٹرانسپورٹر تنظیموں کے ارکان کی طرف سے بکرم چوک میں ان گاڑیوں کے شیشے بھی توڑے گئے جنہوں نے بند کال کی خلاف ورزی کی ۔ذرائع کے مطابق ہڑتال کال کے باوجود کچھ گاڑیوں کو جموں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے پایاگیا جس پر ٹرانسپورٹر تنظیموں نے حملہ آور ہوکر شیشے توڑ ڈالے ۔آل جموں وکشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن کے چیئرمین ترلوچن سنگھ وزیر نے ہڑتال کے حوالے سے بتایاکہ وہ پچھلے دو ماہ سے ریاستی گورنر سے ملاقات کی کوشش کررہے ہیں لیکن انہیں اس کا موقعہ نہیں دیاجارہا۔انہوں نے کہاکہ حکومت ان کے جائز مطالبات کوپورا کرنے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے اور پچھلے دو سال سے کرایہ میں کوئی اضافہ نہیںہوا۔وزیر کاکہناتھاکہ وہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں اور انہیں مالی طور پر نقصان ہورہاہے لیکن سرکار کی طرف سے صرف ہراساں کیاجارہاہے ۔ٹرانسپورٹروں نے انتباہ دیاہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال شروع کردیں گے ۔ترلوچن سنگھ وزیر نے بتایاکہ آج کوئی بھی گاڑی سڑک پر نہیں چلی جو حکومت کیلئے واضح پیغام ہے اوراگر اسی طرح سے ان کے مطالبات نظرانداز کئے جاتے رہے تو وہ غیر معینہ مدت کیلئے ہڑتال شروع کردیں گے ۔ٹرانسپورٹروں کی
ہڑتال کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کاسامناکرناپڑا اور انہیں سامان اٹھاکر پیدل چلتے ہوئے دیکھاگیا۔ان لوگوں میں مریض ،بزرگ، بچے اور خواتین بھی شامل تھیں ۔تاہم سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی طرف سے اپنی بسیں کچھ روٹوں کیلئے دستیاب رکھی گئی تھیں لیکن یہ ٹریفک کا بوجھ اٹھا نے کیلئے کافی نہیں تھیں۔