تازہ ترین

بادوباراں سے پیرپنچال کے آر پار تباہی،2 خواتین سمیت3افراد لقمہ ٔ اجل

جائیداد و مویشیوں کو بھاری نقصان،آج سے موسم بہتر ہونے کا امکان

13 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //پیر پنچال سلسلے کے آر پار ہوئی طوفانی بارشوں ،شدید ژالہ باری،سیلابی صورتحال اور بادل پھٹنے کے سبب بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ بانڈی پورہ اور گاندر بل میں درخت گر آنے کے نتیجے میں2خواتین سمیت3افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ پونچھ میں ماں اور بیٹی آسمانی برق کی زد میں آکر زخمی ہوئی ہیں ۔پونچھ کے ہی سرنکوٹ علاقے میں زیر تعمیر پر نئی ہائیڈل پروجیکٹ کو سیلابی صورتحال کی وجہ سے لاکھوں کا نقصان پہنچا ہے جبکہ خطہ چناب کے ڈوڈہ اور گرگل ضلع میں الرٹ جاری کر کے سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔وسطی ضلع بڈگام میں مقامی لوگوں نے 600کے قریب بھیڑ بکریوں کو غرق ہونے سے بچالیا تاہم کشتواڑ اور بال تل میں میں بادل پھٹنے سے 118بھیڑ بکریاں ہلاک ہو گئیں ۔کئی جگہوں پر مکانات اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے کئی رابطہ پل بھی ڈھ گئے ہیں ۔وادی کے اکثر علاقوں میں ترسیلی لائیں اور کھمبے گرنے کے سبب بجلی سپلائی شام دیر گئے تک متاثر رہی جبکہ شدید ژالہ باری کے سبب کئی علاقوں میں میوہ باغات ، دھان کی پنیری اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے ۔اس دوران محکمہ موسمیات نے آج سے موسم میں بہتری آنے کا امکان ظاہر کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق وادی کشمیر میں منگل کی شام دیر گئے سے شدید بارشوں اور کئی علاقوں میں تیز آندھی کا سلسلہ شروع ہوا جو بدھ کے صبح6بجے تک جاری رہا ہے ۔

بانڈی پورہ 

بانڈی پورہ سے نمائندے عازم جان کے مطابق وہاں گھمبیر والا آرنیہ بہک چھانہ دجی میں گذشتہ رات تیز آندھی کے نتیجے میں 2 خواتین مبینہ بانو دختر ذاکر حسین خان 18 سال اورشریفہ بیگم زوجہ عارف حسین خان جومویشیوں کو چرانے کیلئے بھمبری والا آرنیہ بیک میں اپنی عارضی مکان میں تھی، وہاں تیز آندھی اور بارش سے ان کے رہائشی مکان پر درخت گرجانے سے موت واقع ہوئی۔ جبکہ ضلع کے ارن اور باپورہ کوملانیوالا پل نالہ ارن میں طیغانی آنے سے بہہ گیا جس کے نتیجے میں ایک بڑی آبادی کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ گرورہ بانڈی پورہ میں گنڈ پورہ کنز پورہ لانکریشی پورہ کلہامہ میں بھی نالہ ارن میں طغیانی آنے سے پانی بستیوں میں گھس گیاہے ا۔ونگام اورصدرکوٹ بالا میں بھی بارش کا پانی گھروں میں گھس گیا ہے جبکہ لاوڈارہ میں نالہ ارن کا سیلابی پانی گھروں اور دھان کے کھیت میں گھس گیا ہے اور وہاں تباہی مچائی دی ۔

کنگن 

کنگن سے غلام نبی رینہ نے ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل حشمت علی خان کا حوالے دیتے ہوئے بتایاکہ اُن کے مطابق تحصیل گنڈ کے رامواری علاقے میں گذشتہ رات تیز ہواؤں کی وجہ سے بکر والوں کے ایک ٹینٹ پر درخت گر آیا جس کے نتیجے میں 37برس کا محمد یوسف کلاڈہ ولد عبدالغنی موقع پر جان بحق ہوگیا جبکہ30برس کا عبدالطیف ولد حیدر  33برس کا غلام حیدر ولد داود ساکن راجوری زخمی ہوئے ہیں جن کو سرینگر منتقل کیا گیا ہے ۔ایس ایس پی گاندربل محمد خلیل پوسوال نے بتایا کہ شتکڑی سونہ مرگ سے تین کلومیٹر کی دوری سے بکر والوں کے چار کنبوں کے 22افراد کو پولیس نے محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔جبکہسربل اور بال تل میں برق گرنے کے سبب 100بھیڑ اور 2 گھوڑے ہلاک ہوئے ہیں ۔نمائندے کے مطابق موسلادھار بارشوں کے ساتھ ہی سیاحتی مقام سونہ مرگ، زوجیلا، منی مرگ، مٹاین، دراس میں تازہ برفباری ہوئی ہے جس کے نتیجے میں زوجیلا کے چند ایک مقامات پر پسیاں گرآئیںجس کے بعد ٹریفک حکام نے سرینگر لداخ شاہراہ پر احتیاطی طور گاڑیوں کی آمد رفت بند کردیا ۔ بارشوں کی وجہ سے نالہ سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے ٹنگ چھتر کنگن، ڑیرون کنگن میں 2رابطہ پل ڈھ گئے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں رہائش پزیر لوگوں کا رابطہ تحصیل ہیڈ کوارٹر سے منقطع ہواہے ۔اُدھر کرگل میں شدید بارشوں اور ہلکی برفباری کی وجہ سے ضلع کے دراس اور کرگل میں تعلیمی اداروں کو بند رکھا گیاہے ۔ ضلع ترقیاتی کمشنر کرگل بصیر الحق نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع کے دراس اور کرگل میں شدید بارشوں اور ہلکی برفباری کے نتیجے میں سوموار کو تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھا گیا تھا۔

بڈگام 

بڈگام سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ مقامی لوگوں نے بدھ کو دوخانہ بدوش اور اْن کے550بھیڑ بکریوں کو ایک مقامی نالے میں بہہ جانے سے بچالیا۔اس نالے میں گذشتہ شب کی موسلادھار بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔اطلاعات کے مطابق دو خانہ بدوش اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ بدی پورہ میںدودھ گنگا نالے کے بیچوں بیچ سوگام پل کے نزدیک پھنس کر رہ گئے تھے۔ذرائع نے کہا کہ گڈریے نالے کے پانی میں اضافے کی وجہ سے دوسری طرف جانے سے قاصر تھے۔اس دوران مقامی لوگوں نے وقت پر متحرک ہوکر بچائو کارروائیاں عمل میں لاتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر ایک عارضی پل تیار کیا جس کے سہارے مقامی لوگوں نے گڈریوں اور اْن کے مال و اسباب سمیت بچالیا گیا۔

بارہمولہ 

بارہمولہ سے نمائندے فیاض بخاری کے مطابق ضلع کے کئی علاقے جن میں پٹن ، ہانجی ویرہ ،ٹنگمرگ ،کنڈی ،رفیع آباد ، نارواوکے علاوہ کئی علاقوںمیں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے جبکہ بجلی اور پینے کا صاف پانی بھی نایاب ہو گیا ہے ۔ضلع کے ندی نالوں، دریائوںمیں پانی کی سطح مسلسل بلند ہوتی جار ہی ہے جس کی وجہ سے کئی رہائشی علاقوں کو زیر آب آنے کا مزید خطرات لاحق ہے۔ کئی علاقوں میں کئی چھوٹے بڑے پلوں کو نقصان پہنچا ہے اور تیز ترین بارشوں کے سبب درجنوں علاقے زیر آب آگئے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور ندی نالوں میںجھیلوں کا منظر پیش کر رہی ہیں ۔نالے فیروز پورہ ٹنگمرگ پر ایک پُل پانی میں بہہ گیا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں دیہات جن میں چندر ہامہ ،چک ،چنگل،وانی گام ،کولہامہ ،دارہامہ ،بدرکوٹ ،رنگواری،گوگل ڈورہ ،داراکشی،موشیکور،زنڈپال اور غنی وانی کے علاوہ دیگر کئی دیہات قومی شاہرہ سے کٹ گئے ہیں۔کنڈ ی بارہمولہ میں کئی دیہات کی سڑکیں دھنس گئیں ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں دیہاتضلع ہیڈکواٹر سے پوری طرح کٹ کر رہ گے ہیں ۔اور ان علاقے میں بجلی اور پینے کے پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے ۔واضح رہے کہ سرینگر مظفرآباد شاہراہ پر کئی مقامات پر پانی سیلابی صورت حال پیدہ ہوئی جس کی وجہ سے ٹریفک کے نقل حمل زیادہ دیرمتاثر رہی ۔وہی کئی مقامات پر سفیدہ کے درختان جڑ سے اکھڑ کر شاہراہ پر گر پڑے ۔ سوپور سے اطلاع ہے گزشتہ رات کی تیز بارشوں کے بعد علاقے کے تازو،شیر کالونی ،میرپورہ  اور ڈگری کالج بستیوں میں پانی داخل ہوا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں میںزبردست خوف و دشت کا ماحول پیدا ہوا ہے اس دوران ایس ڈی ایم سوپور نے علاقے کا دورہ کر کے مشینری کو متحر ک کر دیا ہے۔

 ژالہ باری 

کپوارہ اور بارہمولہ کے اکثر علاقوں میں شدید ژالہ باری ہوئی ہے ۔بارہمولہ سے فیاض بخاری کے مطابق نارواو کے زنڈفرن ،بدمولہ ،زوگیار اور دیگر کئی دیہات کے علاو ،سنگرامہ کنڈی ،رفیع آباد اور دیگر کئی علاقوں میں شدید ژالہ باری ہوئی جس نے میواہ باغات ،آخروٹ اوردھان کے علاوہ کئی فصلوں کو تباہ کیا ہے جس کی وجہ سے کسانوں میں تشویش پائی جارہی ہے ۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ وسطی ضلع بڈگام میں بھی کئی علاقوں میں تیز ترین قہر آنگیز ژالہ باری ہوئی جس کے نتیجے میں میوہ باغات ،آخروٹ اور دیگر فصلوں کو زبردست تباہی مچائی گئی ہے  ۔کپوارہ سے اشرف چراغ کے مطابق منگل کی رات کو ضلع کے آ ورہ ،زرہامہ ،مڑہامہ ،وارسن ،باکھی پورہ گزریال ،وارسن کشمیری ،کاچہامہ ،ڈوبن ،آ وتھ کل ،فرکن ،بیرون بوٹھ ،میلیال ،درد پورہ ،مقام ٹھنڈی پوری اور چوکی بل میں ژالہ باری نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ۔ژالہ باری کی وجہ سے اخروٹ کے درختوں کے پتے اور فصل زمین پر گر پڑے جبکہ میوہ با غات اور کھیت کھلیانو ں میں بھاری پیمانے پر تباہی مچ گئی ۔اُدھر کرناہ سے بھی شدید ژالہ باری ہونے کی اطلاعات ہیں ۔اس دوران عوامی اتحاد پارٹی کے نوجوان لیڈر پیر ذادہ فردوس احمد ،نیشنل کانفرنس کے میر سیف اللہ ،چودھری محمد رمضان ،کا نگریس کے فاروق احمد میر ،پیپلز ڈیمو کریٹک اور راجیہ سبھا ممبر میر محمد فیا ض نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ ژالہ باری سے ہوئے متاثرین کے حق میں امداد فراہم کریں ۔

جموں خطہ 

سورنکورٹ سے بختیار حسین کے مطابق راجوری پونچھ کو وادی کشمیر سے ملانے والی مغل شاہراہ گزشتہ شب ہوئی طوفانی بارش کے باعث گرآئی پسیوں کی وجہ سے صبح کے وقت4گھنٹوں تک ٹریفک کیلئے بند رہی ۔شاہراہ پر مانسر موڑ اور چھتہ پانی کے مقامات پر بھاری پسیاں اور درخت گرآئے جس کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حرکت مسدود بن کر رہ گئی ۔ پسیوں کی وجہ سے کئی درخت جڑ سے اکھڑ گئے ۔رابطہ کرنے پر ٹریفک پولیس انچارج پونچھ نیاز احمد نے بتایاکہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے مشینری اور افرادی قوت کا بھرپوراستعمال کرکے سڑک سے ملبے کو صاف کیاگیا ۔ڈی وائی ایس پی ٹریفک پولیس رفیق چوہدری کے مطابق لگ بھگ چار گھنٹے ٹریفک معطل رہالیکن اب اسے بحال کردیاگیاہے ۔ دریں اثناء مغل شاہراہ کے جونیئر ا نجینئر سرفراز احمد نے بتایاکہ صبح سے ہی مشینری کو کام پر لگادیاگیا اور ملبہ ہٹانے کے بعد ٹریفک کو بحال کردیاگیاہے ۔نمائندے کے مطابق گزشتہ شب ہوئی طوفانی بارشوں سے دریائے سرن میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جس سے جہاں زمینوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچاہے وہیں پرنئی ہائیڈل پاور پروجیکٹ کی لاکھوں روپے کی مشینری کو بھی تباہی کا سامناکرناپڑاہے ۔بفلیاز کے مقام پر پروجیکٹ کے زیر تحت تعمیر کیاجارہا باندھ ٹوٹ گیا جس سے کافی تباہی ہوئی اور مشینری کو بھی نقصان پہنچا۔پرنئی پروجیکٹ کے منیجر رمیش بدری نے بتایاکہ دریا میں پانی ابھی تک کم نہیں ہواہے اور ان کی مشینری کو بھاری نقصان پہنچاہے ۔ انہوں نے بتایاکہ ایسا لگتاہے کہ سیلابی صورتحال بادل پھٹنے سے ہوئی اور 250کیوبک پانی آیا جس سے تباہی مچی ۔منیجر کے مطابق ان کی مشینری بالکل تباہ ہوگئی ہے اور دیگر سامان بھی باقی نہیں رہ گیا لیکن کل نقصان کا تخمینہ پانی کی سطح کم ہونے پر لگایاجاسکے گا۔ 

منڈی پونچھ 

پونچھ کے منڈی علاقے سے عشرت حسین بٹ نے اطلاع دی ہے کہ منڈی سے پانچ کلو میٹر دوری پر واقع اڑائی ملکاں گائوں میں چوہدری محمد اسحق کے گھر پر آسمانی بجلی گری جس کی وجہ سے اس کی زوجہ شکیلہ بیگم اور چار سالہ بچی نازیہ کوثر زخمی ہوگئیں جنہیں فوری طور پر سب ضلع ہسپتال منڈی منتقل کیاگیاجہاں ان کاعلاج کیاگیا۔اس دوران محمد اسحق کی ایک بھینس بھی ہلاک ہوئی ہے ۔نمائدے کے مطابق منڈی میں طوفانی ہوائوں اور تیز بارشوں کی وجہ سے 60رہائشی مکانات اور 2سکولوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچاہے جبکہ بڑی تعداد میں پھلدار درخت زمیں بوس ہوئے اور فصلیں تباہ ہوئیں۔تحصیلدار منڈی جاوید چوہدری نے بتایاکہ منڈی کے متعدد علاقوں لورن ، مہارکوٹ،وانڈ تانتریاں، بٹل کوٹ، ساوجیاں، گگڑیاں، بیدار، اڑائی، بائیلہ، سلونیاں شامل ہیں، میں 40رہائشی مکانات کو جزوی جبکہ 20مکانات کو شدید نقصان پہنچاہے ۔ انہوں نے بتایاکہ کئی مکانات کی چھتیں ہوا میں اڑ گئیں اوردیواروں پر بھی دراڑیں پڑی ہیں۔ تحصیلدار کے مطابق اس دوران بیدار میں پرائمری سکول کا رسوئی گھر تباہ ہواہے جبکہ مڈل سکول لورن کے کچن شیڈ کو بھی جزوی طور پر نقصان پہنچاہے ۔ انہوں نے کہاکہ نقصانات کا تخمینہ لگاکر رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھیجی جائے گی ۔ 

ڈوڈہ 

ڈوڈہ سے نمائندے طاہر ندیم خان کے مطابق بھاری بارش کے بعد ڈوڈہ میں الرٹ جاری کیاگیاجبکہ تعلیمی اداروں کو بھی بند کردیاگیا۔چیف ایجوکیشن افسر ڈوڈہ طارق حسین کھوجہ نے بتایاکہ محکمہ موسمیات کی طرف سے کی گئی بھاری بارش اور تودے گرنے کی پیشگوئی پر بدھ کے روز ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کی ہدایت پر تمام سکولوں کو بندرکھنے کا فیصلہ لیاگیا۔انہوں نے کہاکہ سکولوں کو بند رکھنے کا فیصلہ بنابر احتیاط کیاگیاتاکہ خراب موسم کے دوران طلباء کو کسی بھی طرح کی مشکلات کاسامنا نہ کرناپڑے ۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنرنے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ خطرات والے علاقوں کی طرف نہ جائیں ۔انہوں نے افسران کو ہدایت جاری کی کہ وہ صورتحال پر نظر رکھیں اور مستعد رہیں ۔وہیں بھدرواہ اور دیگر علاقوں میں ہوئی شدید ژالہ باری سے پھلدار درختوں اور فصلوں کو زبردست نقصان پہنچاہے ۔

کشتواڑ 

کشتواڑ سے عاصف بٹ کے مطابق ضلع کے اندروال میں بادل پھٹنے سے 18بھیڑ بکریاں ہلاک ہوگئیں ۔ صبح چار سے پانچ بجے کے درمیان اندروال کے دروبیل علاقے سے کچھ دوری پر واقع دادل دھر میں بادل پھٹنے سے ڈیڑھ درجن بھیڑ بکریاں ہلاک ہوئیں ۔ چوکی انچارج افسر ڈیڈھ پٹھ کے مطابق غلام حسن ، جبار احمد اور محمد عرفان ساکن دروبیل کی 14بکریاں اور4بھیڑیں بادل پھٹنے سے ہلاک ہوگئیں تاہم کسی انسانی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے ۔

محکمہ فلڈ کنٹرول 

چیف انجینئر فلڈ کنٹرول اشوک کمار شرما نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ شدید اور موسلادھار بارش کی وجہ سے پٹن کے کئی بستوں میں نالوں میں پانی کی سطح بڑھ جانے کیے سبب پانی جمع ہو گیا تھا تاہم محکمہ کی ٹیموں نے بروقت کارروائی عمل میں لائی ہے اور پانی کو بستیوں کی طرف جانے سے روکنے کی کارروائیاں بھی تیز کی گئی ہیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ سنگم میں پانی کی سطح بڑھ گئی تھی اور یہاں اب پانی کی سطح کم ہو رہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ رات کے دوران رام منشی باغ میں پانی کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ لہذا لوگوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہیں اُمید ہے کہ بہتا رہے گا ۔محکمہ کے ترجمان کے مطابق جہلم میں سنگم کے مقام پرپانی کی سطح بدھ کو شام 7بجے تک 18/21فٹ تھی جبکہ رام منشی باغ میں 16/18اشم میں 14/14فٹ ریکارڈ کی گئی تھی ۔

محکمہ موسمیات 

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ آج یعنی جمعرات سے موسم میں بہتری آئے گئی ۔انہوں نے بتایا کہ موسم کے مسلسل خراب رہنے کے سبب درجہ حرارت میں بھی معمول سے 6ڈگری سلسیش کی کمی واقعہ ہوئی ہے ۔سونم لوٹس نے بتایا کہ کل شدید بارش ہونے کی وجہ سے موسم میں اتنی زیادہ تبدیلی دیکھی گئی اور کئی بستوں میں پانی جمع ہو گیا ۔انہوں نے کہا کہ اگلے 10روز تک وادی میں موسم بہتر رہے گا اور بیچ بیچ میں کس وقت گرچ چمک کے ساتھ بارش بھی ہو سکتی ہے ۔ محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق سرینگر میں 39.2ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سیاحتی مقام گلمرگ میں 61.0 ملی میٹر پہلگام میں 54.0ملی میٹر ،قاضی گنڈ 50.0ملی میٹر کپوارہ ضلع میں 40.2ملی میٹر اور کوکرناگ میں 32.0ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔
 

کلیدی شاہراہوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر

 محمد تسکین +غلام نبی رینہ+بختیار حسین 
 
 بانہال ،کنگن،راجوری// بدھ کی دوپہر تک ہوئی موسلادھار بارشوں کی وجہ سے جموں سرینگر شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کئی گھنٹوں تک بند رہنے کے بعد بدھ کی صبح دوبارہ بحال کردی گئی اور شام تک 5ہزار کے قریب مال اور مسافر گاڑیوں نے پسیوں کے متاثرہ سیکٹر کو پار کرکے اپنی اپنی منزلوں کی راہ لی ۔تاہم صبح ناشری ٹنل میں آلودگی کو صاف کرنے کیلئے ٹنل کو کچھ وقت تک بند رکھنے کی وجہ سے ناشری ٹنل کے دونوں طرف شدید نوعیت کا ٹریفک جام لگ گیا جس پر دوپہربعد قابو پالیا گیا۔ ڈی ایس پی ٹریفک نیشنل ہائی وے رام بن سریش شرما نے بتایاکہ منگل اور بدھ کی رات سے صبح تک ہوئی بارشوں کی وجہ سے شاہراہ پر متعدد مقامات بشمول کیلاموڑ ، انوکھی فال ، ڈگڈول ، منکی موڑاور پنتھیال پر پتھر اور ملبہ  گر آیا جس کی وجہ سے ٹریفک کی نقل وحرکت کئی گھنٹوں تک بند رہنے کے بعد بدھ کی صبح نو بجے دوبارہ بحال کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکام کی طرف سے اگلے ماہ سے شروع ہونے والی شری امرناتھ یاترا کے اختتام تک سیری رام بن اور پنتھیال مگرکوٹ کے درمیان لگ بھگ پندرہ کلومیٹر کے سیکٹر میں فورلین شاہراہ کی تعمیر اورسڑک کی کشادگی کے کام پر پابندی لگا دی گئی ہے اور تعمیرات کام میں مصروف ٹھیکیداروں کو سڑک کی مزید کھدائی نہ کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ شائد اسی وجہ سے بارشوں کے باوجود بھی شاہراہ کی حالت بدھ کے روز مجموعی طور بہتر رہی اور ملبہ اور پتھر گرنے کے اکا دکا واقعات کو چھوڑ کرشاہراہ پر معمول کا ٹریفک چلتا رہا۔ادھرسونہ مرگ، زوجیلا، دراس، کرگل میں تازہ برفباری کے بعدسرینگر لداخ شاہراہ پر ٹریفک کی آمد رفت معطل رہی ۔اطلاعات کے مطابق دو روز سے جاری شدید بارشوں کے ساتھ ساتھ سونہ مرگ، زوجیلا، دراس، مٹاین، کرگل، پاندراس، میں تازہ برفباری ہوئی ھے جس کے نتیجے میں سرینگر لداخ شاہراہ پر ٹریفک کی آمد رفت معطل رہی۔اس دوران راجوری پونچھ کو وادی کشمیر سے ملانے والی مغل شاہراہ گزشتہ شب ہوئی طوفانی بارش کے باعث گرآئی پسیوں کی وجہ سے  صبح کے وقت4گھنٹوں تک ٹریفک کیلئے بند رہی ۔شاہراہ پر مانسر موڑ اور چھتہ پانی کے مقامات پر بھاری پسیاں اور درخت گرآئے جس کی وجہ سے ٹریفک کی نقل و حرکت مسدود بن کر رہ گئی ۔ پسیوں کی وجہ سے کئی درخت جڑ سے اکھڑ گئے ۔رابطہ کرنے پر ٹریفک پولیس انچارج پونچھ نیاز احمد نے بتایاکہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے مشینری اور افرادی قوت کا بھرپوراستعمال کرکے سڑک سے ملبے کو صاف کیاگیا ۔ڈی وائی ایس پی ٹریفک پولیس رفیق چوہدری کے مطابق لگ بھگ چار گھنٹے ٹریفک معطل رہالیکن اب اسے بحال کردیاگیاہے ۔ دریں اثناء مغل شاہراہ کے جونیئر ا نجینئر سرفراز احمد نے بتایاکہ صبح سے ہی مشینری کو کام پر لگادیاگیا اور ملبہ ہٹانے کے بعد ٹریفک کو بحال کردیاگیاہے ۔