تازہ ترین

مذاکرات سے ہر شئے حاصل ہوگی،جنگجو ہتھیار ڈال دیں

نئی حد بندی محض افواہ، خصوصی پوزیشن کیساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی

13 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی

سیاست دانوں نے جھوٹے خواب بیچے،کشمیر کو حقیقی جنت بنائیں گے: گورنر کی تفصیلی پریس کانفرنس

 
سرینگر//ریاستی گورنر نے جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے کی صلاح دیتے ہوئے بات چیت کرنے کا مشورہ دیا،جبکہ ا سمبلی حلقوں کی سر نو حد بندی کو آئینی معاملہ قرار دیتے ہوئے افواہ بازی سے تعبیر کیا۔ ایس پی ملک نے قومی میڈیا کی سرزنش کرتے ہوئے کشمیر مخالف پرپگنڈہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی کے آگے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے جموں کشمیر بنک پر چھاپوں کو’’آر بی آئی‘‘ کی ہدایت کے تحت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بدعنوانی میں ملوث افراد کو کاروائی کا سامنا کرنا پرے گا۔

سر نو حد بندی

 اسمبلی حلقوں کی سر نو حد بندی پر دہلی سے لیکر سرینگر کی سیاسی گلیاروں میں شور اور خدشات کے بیچ ریاستی گورنر ایس پی ملک نے بدھ کو سر نو حد بندی کو افواہ بازی سے تعبیر کیا۔سرینگر میں جھیل ڈال کے کنارے واقع ایس کے آئی سی سی میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ریاستی گورنر نے کہا’’سر نو حد بندی(اسمبلی حلقوں کی) ایک آئنی معاملہ ہے،حتیٰ کہ وزارت داخلہ نے بھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے،فی الوقت یہ صرف افواہیں ہیں۔‘‘گورنر نے میڈیا کو بتایا کہ موجودہ سیاسی منظرنامے پر ریاست میں جاری حد بندی سے متعلق بوال نیا شوشہ کھڑا کیا جارہا ہے۔ دفعہ370اور آئین ہند کی شق35اے سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ریاستی گورنر نے بتایا کہ کئی سیاسی جماعتوں کے منشور میں اس سلسلے میں وعدے کئے گئے ہیں،اور اس پر بہت باتیں ہو رہی ہے تاہم اس محاز پر’’فکر کرنے کی کوئی بھی ضرورت نہیں۔‘‘

عسکریت پسندوں کو مشورہ

 ریاستی گورنر نے جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ وہ بات چیت کیلئے آگے آئے۔ انہوں نے کہا’’ ملک بھر میں بے روزگاری ہے،تاہم ملک میں بے روزگار لوگ،حکومت کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاتے۔‘‘ انہوں نے تاہم کہا کہ یہاں پر اس سے بھی کچھ زیادہ ہے،جبکہ بنیادی چیز یہ ہے کہ لیڈراں لوگوں کو حقیقت نہیں بتاتے۔انہوں نے کہا’’ لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے اور غلط خواب دکھائے جاتے ہیں،جو کھبی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونگے۔‘‘ گورنر نے کہا کہ لوگوں کو’’آزادی‘‘ کا خواب دکھا یاجاتا ہے،اور کھبی اٹانومی کا،اور جب یہ چیزیں کام نہیں کرتی تو ’’انہیں انتہا پسندی کے ذریعے جنت کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے تاہم نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ان کے پاس دو جنت ہیں،ایک یہاں کشمیر میں اور دوسری وہ جنت ،جو اگر وہ اچھے مسلمان ہوکر از خود حاصل کرینگے۔ انہوں نے بات چیت کو واحد راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے اندر وہ جو چاہتے ہیں ،انہیں حاصل ہوگا۔گورنرنے جنگجوئوں نوجوانوں کو صلاح دیتے ہوئے کہا کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دائرے میں شامل ہوجائیں۔انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے انتہا پسندانہ رویے کے آگے مرکزی و ریاستی حکومت کبھی بھی نہیں جھکے گی بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ تشدد کا راستہ اختیار کرچکے نوجوان بندوق کو خیر باد کرتے ہوئے بات چیت کا حصہ بن جائیں۔ انہوں نے کہا’’ ہم سے ہر کوئی چیز لو،ہم بات چیت اور محبت کے ذریعے اپنی زندگی دیں گے،اور اس کیلئے نریندر مودی (وزیر اعظم ہند) کی حکومت تیار ہے،ہم تیار ہے،مذاکراتی میر پر آجائو اور اس میں پیش رفت کرئو۔‘‘انکا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل سے ہر کوئی چیز حاصل ہوگی۔۔انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہا’’ میں کشمیری نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہو کہ وہ ہتھیار دال دیں اور راج بھون میں دستر خوان پر بات کریں،اور مجھے یہ بات بتائیں کہ جس راستے کا انتخاب انہوں نے کیا ہے،اس سے انہیں کیا حاصل ہوگا۔‘‘ایس پی ملک نے کہا’’ آپ کے پاس اپنا آئین ہیں،علیحدہ پرچم ہے،اس کے علاوہ آپ کیا چاہتے ہیں،وہ آپ بھارت کے اندر جمہوری عمل سے حاصل کرسکتے ہیں۔ ریاستی گورنر نے کہا کہ جنگجوئوں کو شاید اس وقت اس کا ادراک نہیں ہوگا،تاہم10برسوں بعد انہیں اس بات کا احساس ہوگا کہ جو لکیر انہوں نے کھنچی تھی،وہ غلط تھی۔ ریاستی گورنر نے کہا’’ہر ایک شورش میں ایسا وقت آتا ہے،جب وہ تھک جاتے ہیں،اور وہ وقت کشمیر میں آچکا ہے۔‘‘انہوں نے کہا ’’انہیں اس بات کا ادراک ہوچکا ہے کہ،کہ وہ بہت دیر تک کشمیری نوجوانوں کو بے قوف نہیں بنا سکتے،اور نہ وہ بھارت کو توڑ کر کشمیریوں کو کچھ دے سکتے ہیں۔(جنرل پرویز) مشرف نے کشمیری لیڈروں سے واضح کیا کہ وہ ایسا نہیں کرستے،کیونکہ بھارت سپر پائو ہے۔‘‘ ایس پی ملک نے واضح کرتے ہوئے نوجوانوں سے کہا کہ جب بھی آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ نظام کے اندر حاصل کریں،جبکہ پاکستان میں حوصلہ شکنی اور تھکاوٹ ہے،تاہم اس کے باوجود وہ باز نہیں آتے اور پہلے ہی کی مانند کیمپوں کو بھی چلاتے ہیں۔ گورنر نے تاہم کہا کہ لائن آف کنٹرول پر فورسز متحرک ہے،اور کسی بھی دراندازی سے نپٹنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں جنگجوئوں کی صفوں میں بھرتیوں میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ایس ملک کا کہنا تھا’’جنگجوئوں کی بھرتی میں کمی واقع ہوئی ہے،اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے نوجوانوں کے تئیں ہمدردانہ رویہ اپنایا ہے،اور مجھے یقین ہے کہ کشمیر کا مسئلہ انہیں نوجوانوں کے ذریعے حل ہوگا۔ ملک کا کہنا تھا’’ لیڈروں سے بات چیت سے فائدہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ وہ گزشتہ50برسوں سے لوگوں کو جھوٹ بول رہیں ہے۔

اسمبلی انتخابات

ریاستی اسمبلی کے انتخابات پر رائے زنی کرتے ہوئے ریاستی گورنر ایس پی ملک نے کہا کہ ان انتخابات کو منعقد کرنے کا وقت انتخابی کمیشن متعین کریں گا۔انہوں نے کہا’’یہ مرکزی وزارت داخلہ اور انتخابی کمیشن کے درمیان ہے،میں اس پر رائے زنی نہیں کرسکتا۔‘‘ انہوں نے کہا انتخابات کیلئے ضروری سیکورٹی اگر دی جاتی ہے تو وہ اسمبلی الیکشن کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہا’’ہم نے(بلدیاتی و پنچایتی) انتخابات پرامن طور پر کرائے،تاہم اسمبلی انتخابات کیلئے سیکورٹی کی ضرورت مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی کمیشن متعلقہ ایجنسیوں سے مل کر سلامتی صورتحال کا احاطہ کرنے کے بعد تاریخوں کا فیصلہ لئے گی۔گورنرنے مزید بتایا کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ریاستی عوام نے لوک سبھا انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرکے اپنے پسندیدہ نمائندوں کو آگے لایا۔ انہوں نے کہا’’میں اس بات کیلئے مطمئن ہوں اور مجھے ریاستی عوام پر فخر ہے کہ انہوں نے لوک سبھا انتخابات کے دوران مہذیب ہونے کا بھر پور ثبوت دیا اور اپنے پسندیدہ نمائندوں کا انتخاب ممکن بنانے کیلئے پولنگ مراکز کا رخ کیا۔‘‘تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی مین اسٹریم جماعتیں لوگوں کو لوک سبھا انتخابات میں شامل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا یہاں کی مین اسٹریم پارٹیاں لوگوں کو پولنگ مراکز تک لے جانے میں بری طرح سے ناکام ہوگئیں۔انہوں نے کہا’’ میں اُن سے یہ سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ انتخابات کے دوران پولنگ کی شرح کیا رہی؟ مین اسٹریم سیاسی جماعتیں لوگوں کو مائل کرنے میں ناکام و نامراد ہوگئیں۔‘‘گورنر کے بقول میں نے مقامی سیاسی پارٹیوں کو پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کافی کوششیں کیں تاہم وہ اس کیلئے تیار نہیں ہوئے لیکن پھر بھی ہم نے جمہوری اداروں کو مضبوط اور مستحکم کرنے کیلئے زمینی سطح پر لوگوں کو خودمختار بنانے کیلئے انتخابات کرائے۔

قومی میڈیا کی سرزنش

 گورنر ستیہ پال ملک نے قومی میڈیا پر بیرون ریاست کشمیر مخالف پروپگنڈہ چلانے کا الزام عائد کیا۔ گورنر نے بتایا کہ قومی میڈیا بیرون ریاست کشمیر کی شبیہ کو بگاڑنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی میڈیا کی چینلیں بیرون ریاست کشمیر کو منفی انداز میں پیش کررہی ہے جو کہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔ گورنر کے بقول اگر کشمیر میں ایک آدمی مر جاتا ہے تو قومی میڈیا پر اس سے متعلق دو دو ہفتوں تک خبر نشر کی جاتی ہے اور یوں کشمیر کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جارہی ہے تاہم میرے ضلع میں ہر روز 5افراد ہلاک ہوجاتے ہیں لیکن ان کی کسی بھی بھنک تک نہیں لگتی۔ ان سے متعلق کوئی بھی خبر شائع نہیں کی جاتی۔ گورنرکے مطابق کشمیر میں کسی بھی سیاح پر پتھر نہیں پھینکا جاتا لیکن میرے ضلع مظفر نگر سہارانپور کی ہائے وے پر سیاحوں کو روزانہ لوٹا جاتا ہے مگر وہاں کا ذکر قومی میڈیا میں نہیں کیا جاتا۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی صورتحال کو بیرون ریاست منفی انداز میں پیش کرنے کا خالص مقصد کشمیر کو بدنام کرنا ہے۔ 

جموں کشمیر بنک قضیہ

ریاستی گورنر نے کہا کہ جموں کشمیر بنک کو حق اطلاعات قانون کے دائرے میں لایا جائے گا اور اس ماہ کی آخر تک اس ادارے پر بھی چیف ویجی لنس کمیشن کے رہنما خطوط کا  اطلاق ہوگا۔ انہوں نے کہا ’’ جموں کشمیر بنک پر حالیہ چھاپہ ماری ،آر بی آئی کی طرف سے جموں کشمیر بنک کے مسئلے پر ریاستی سرکار کو مکتوب روانہ کرنے کے بعد عمل میں لایا گیا۔جموں وکشمیر بنک سے متعلق جاری تنازعے پر گورنر نے بتایا کہ بنک نے گالف کورس کی تزین کاری پر 50کروڑ روپے صرف کئے ہیں جہاں پر ایک ہزار امیر ترین لوگ اس کا فائدہ اُٹھارہے ہیں۔ میٹنگ میں موجود ریاست کے چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم نے گورنر کے جواب کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جموں وکشمیر بنک نے گالف کورس کی تزین کاری پر 50کروڑ روپے خرچ کئے ہیں جہاں پر ایک ہزار امیر افراد اس سے مستفید ہورہے ہیں۔چیف سیکرٹری کے مطابق جموں وکشمیر بنک ریاستی معیشت کا ایک اہم ستون ہے ۔انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر بنک سے متعلق سینکڑوں شکایات موصول ہوچکی تھی یہاں تک کہ آر بی آئی نے بھی اس حوالے سے گورنر ستیہ پال ملک کو مکتوب میں سرزنش کی۔ انہوں نے بتایا کہ بنک میں جاری بے ضابطگیوں کو رفع کرنے میں تین مہینوں کا وقت درکار ہے۔ چیف سیکرٹری کے مطابق جموں وکشمیر بنک دوبارہ اپنی شان رفتہ کو بحال کرنے میں کامیاب ہوگا اوریقینا منظر نامے پر چھاجائیگا۔ریاستی سرکار بنک کو عالمی سطح کا معیاری ادارہ بنانے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریگا۔ چیف سیکرٹری نے گورنر کے جواب کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا بنک کوئی خیراتی ادارہ نہیں بلکہ ایک مالیاتی ادارہ ہے جو ریاستی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنک کیلئے ایم ڈی اور چیرمین کے عہدے علیحدہ علیحدہ رہیں گے۔

کورپشن

ریاستی گورنر نے کہا کہ کہ بہت سارے سیاست دان بدعنوانی میں ملوث ہیں۔انکا کہنا تھا’’ہم کورپشن سے پاک ریاست دینگے۔‘‘ ایس پی ملک نے کہا کہ حکمران  طبقہ جو جموں کشمیر میں بدعنوانی میں ملوث ہے،عنقریب ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انکی انتظامیہ کو جموں کشمیر کی مین اسٹرئم سیاسی جماعتوں کے خلاف کوئی دشمنی نہیں ہے،جبکہ ملک نے کہا کہ انہوں نے بارہا ان مقامی سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ’’ علیحدگی پسندوں کی ہاں میں ہاں نہ ملائیں۔‘‘ ریاستی گورنر نے کہا کہ جموں کشمیر میں بدعنوانی دیگر ریاستوں سے زیادہ موجود ہے۔انہوں نے کہا’’ دو بڑے کیسوں میں ہر150کروڈ بدعنوانی کا معاملہ تھا،اور میں نے یہ معاملہ وزیر اعظم ہند کے ساتھ اٹھایا اور کئی سودوں کو رد کیا،جبکہ دلالوں کو بھی باہر نکالا۔‘‘ انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم تک رسائی حاصل ہونے والے کئی طاقت ور لوگ اس میں شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ پیغام باہر جائے گا کہ کسی بھی بیروکریٹ یا طاقت ور شخص  کے امیدوار کو ترجیج نہیں دی گئی تو نصف’’دہشت گردی‘‘ ختم ہوگی۔‘‘انکا کا کہنا تھا کہ بڑی مچھلیوں کے خلاف عنقریب ہی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ گورنر نے مزید کہا کہ نظربند نوجوانوں کی رہائی کیلئے رقومات حاصل کرنے والے پولیس افسران کو’’وادی سے بے دخل کیا جائے گا۔‘‘

یاترا

ریاستی سرکاریاتریوںکے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر سیکورٹی کے کڑے بندوبست عمل میں لائے گی۔ آئندہ ماہ سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاترا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں گورنر ستیہ پال ملک کا کہنا تھا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ امسال سالانہ امرناتھ یاترا پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگی۔