اننت ناگ میں جنگجوئوں کا حملہ، 5سی آر پی ایف اہلکار ہلاک

حملہ آور بھی مارا گیا،ایس ایچ او اور متعدد اہلکار زخمی، ایک دوشیزہ مضروب،علاقے میں خوف

13 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عارف بلوچ
اننت ناگ//اننت ناگ میں جنگجوئوں نے پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ناکہ پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی،جس کے نتیجے میں2 افسران سمیت5 اہلکار اور ایک غیر مقامی جنگجو ہلاک ہوا،جبکہ ایک پولیس افسر اور دوشیزہ سمیت6 اہلکار زخمی ہوئے۔ علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا،جبکہ ضلع میں انٹرنیٹ سروس کو بھی منقطع کیا گیا۔ اننت ناگ کے کھنہ بل،پہلگام روڑ پر آکسفورڈ اسکول کے نزدیک جنگجو قریب4بجکر55منٹ پر نمودار ہوئے اور سی آر پی ایف و پولیس کی مشترکہ ناکہ پارٹی پر گولیاں چلائی۔بتایا جاتا ہے کہ گولیوں کی آوازوں سے علاقے میں افراتفری مچ گئی اور دکاندار،دکانیں کھلی چھوڑ کر محفوط جگہوں کی طرف فرار ہوئے۔ اس دوران سی آر پی ایف کے116بٹالین بی کمپنی سے وابستہ5 اہلکار ہلاک ہوئے،جن کی  شناخت اسسٹنٹ سب انسپکٹر نورد شرما،کانسٹبل مسہاش کیشوال،کانسٹبل ستندر، کانسٹبل سندیپ یاد اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر رومیش کمار شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی اہلکاروں کو اگرچہ فوری طور پر اسپتال پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی،تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔اس دوران حملے میں پولیس تھانہ صدر کے ایس ایچ ائو ارشد خان سمیت5 سی آر پی ایف  اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ارشد خان کی چھاتی میں گولی پیوست ہوئی،اور انہیں نازک حالت میں سرینگر اسپتال منتقل کیا گیا،جبکہ دیگر4سی آر پی ایف اہلکاروں کو بادامی باغ میں قائم فوج کے92بیس اسپتال منتقل کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ اس حملے میں ایک غیر ملکی جنگجو بھی جان بحق ہوا،جس کے شناخت نہ ہوسکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران ایک دوشیزہ بھی زخمی ہوئی،جس کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا۔زخمی دوشیزہ کی شناخت18برس کی سمیرا جان دختر محمد شفیع ملک ساکن دانتر اسلام آباد(اننت ناگ) کے بطور ہوئی ہے۔
میڈیکل سپر انٹنڈنٹ نے بتایا کہ ایک لڑکی کو اسپتال لایا گیا،جس کے پیر میں گولی لگی تھی۔ پولیس نے حملے میں5 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنگجوئوں نے کے پی روڑ اسلام آباد(اننت ناگ) میں قریب4 بجکر50منٹ پر فائرئنگ کی،جس کے دوران اس حملے میں یہ اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس ترجمان کے مطابق اس حملے میں ایس ایچ ائو اسلام آباد(اننت ناگ) انسپکٹر ارشد خان سمیت3 اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق جوابی فائرنگ میں ایک جنگجو ہلاک ہوا،اور ان سے ضبط مواد کے مطابق پایا گیا کہ وہ غیر مقامی ہے۔پولیس ترجمان کے مطابق زخمی اہلکاروں کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا،جبکہ علاقے کو محاصرے میں لیکر حملہ آواروں کی تلاش شروع کی گئی۔ سی آر پی ایف ترجمان نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا’’116بٹالین کمپنی کے اہلکار امن و قانون کی ڈیوٹی پر تعینات تھے،جس کے دوران گاڑی میں سوار مشتبہ جنگجوئوں نے ان پر حملہ کیا۔‘‘انہوں نے حملے میں5سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت اور3کے زخمی ہونے کے علاوہ جنگجوئوں کے ہلاکت کی تصدیق کی۔اس دوران العمر نے اس حملے کی تصدیق کی۔ایک مقامی  خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ العمر مجاہدین نامی عسکری تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ حملے کے بعد پورے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا،اور مشتبہ جنگجوئوں کی تلاش  شروع کی گئی۔آخری اطلاعات ملنے تک علاقے مین تلاشیاں جاری تھی۔سرینگر جموں شاہراہ پر بھی فورسز اور پولیس کو متحرک کیا گیا،اور انہیں چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی،جبکہ جگہ جگہ ناکے لگا کر گاڑیوں کی تلاشیوں کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔
 

واڈورہ سوپورتصادم ختم

مہلوک جنگجو سپردخاک

سوپوربارہمولہ/اشرف چراغ/ شمالی کشمیر کے سوپور علاقہ میں فوج اور جنگجو کے درمیان تصادم آرائی میں ایک عدم شنا خت جنگجو جا ں بحق ہو اجسے بعد میں بارہمولہ کے گانٹہ مولہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔ اس دوران پورے علاقہ میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ سروس کو معطل رکھا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کی دو پہر کو فوج کے 22راشٹریہ رائفلز ،سی آر پی ایف اور سپیشل آپریشن گروپ نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر سوپور کے واڈورہ پائین علاقہ کو محاصرے میں لیا ۔فوج کا خدشہ تھا کہ اس علاقہ میں دو جنگجو موجود ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ جو ں ہی فوج نے جنگجو کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے تلاشی شروع کی تو وہا ں موجود جنگجو نے فوج پر اندھا دھند فائر نگ کی جو منگل کی شام گئے دیر جاری رہی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج اور جنگجو کے درمیان رات گئے دیر وقفے وقفے سے گولیو ں کا تبادلہ جاری رہا ۔موسم ناز گار اور رات کی تاریکی کی وجہ سے فوج نے اپنی کاروائی معطل کی تاہم ذرائع نے بتا یا کہ جھڑپ میں ایک جنگجو جا ں بحق ہوگیا تاہم دوران رات سرکاری طور اس کی تصدیق نہیں ہوئی ۔بدھ کی علی الصبح کو فوج نے دو بارہ تلاشی کاروائی شروع کی جس کے دوران جنگجو کی لاش کو بر آمد کیا گیا جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔فوج اور جنگجو کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کی ذد میں ایک آکر ایک مکان بھی مکمل طور تباہ ہو گیا ۔فوج نے فوری طور لاش کو پولیس کے سپرد کیا اور جا ں بحق ہوئے جنگجو کی نعش کو بارہ مولہ کے شیری علاقہ میں سپرد خاک کیا گیا ۔فوج نے دعویٰ کیا کہ جا ں بحق ہوئے جنگجو کی طویل سے گولی باردو بھی بر آمد کیا گیا ۔اس دوران جھڑپ شروع ہوتے ہیں سوپور علاقہ میں انٹر نیٹ سروس کو معطل کیاگیا لیکن بدھ کی سہ پہر کو انٹر نیٹ سروس کو بحال کر دیا گیا ۔پولیس نے لوگو ں سے اپیل کی کہ وہ جھڑپ کے مقام پر عبور و مرور میں احتیاط برتیں تاکہ کو حادثہ پیش نہ آئے ۔
 

تازہ ترین