غیربھاجپائی حکومتوں کے لئے خطرات؟

نقطۂ نظر

12 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

رشید انصاری۔۔۔ حیدر آباد
 یوں  تو مرکز میں جب بھی کوئی نئی حکومت بنتی ہے یا کوئی حکومت دوبارہ برسراقتدار آتی ہے تو وہ تمام ریاستی حکومتوں کے لئے خطرہ ثابت ہوتی ہے۔ نئی مودی حکومت کے انتخاب سے قبل کئی ریاستوں میں بھاجپائی اقتدار کا خاتمہ بھلا آر ایس ایس، بی جے پی اور مودی و امیت شاہ کو کیسے پسند آسکتا ہے، چنانچہ کرناٹک، راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں کانگریس نے بھاجپا سے اقتدار چھین لیا تھا اور ان تمام ریاستوں میں کانگریس سے پہلے بھاجپا کا ہی اقتدار تھا۔ چار ریاستوں میں اقتدار کا کھو جانا بھاجپا کیلئے ایک بڑا صدمہ اور چیلنج ہے۔ دوسری جانب مشرق میں ممتابنرجی کی مغربی بنگال میں حکومت مرکزی حکومت کے دل میں ایک کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ ممتابنرجی دوران ِانتخابات بھی اور انتخابات سے قبل بی جے پی کی بدترین سیاسی مخالف رہی ہیں۔ بی جے پی جس طرح ریاست میں اپنے لئے ہندو ووٹ بنک کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ،جس کا ممتابنرجی نے زبردست مقابلہ کیا اور اس وقت بھی کررہی ہیں۔ ممتابنرجی سے بھاجپا کی رقابت کی سب سے بڑی وجہ موصوفہ کی مسلمانوں کے تئیںمنصفانہ رویہ ہے۔ مسلمانوں سے ممتا کا جمہوری طرز عمل اپناناایک طرح سے اقلیت کےآئینی حقوق کی حق ادا ئیگی کرنا ہے۔ ان حقوق سے 1947ء سے مختلف حکومتوں کے زیر سایہ محروم رکھے گئے تھے۔ ممتابنرجی نے مسلمانوں کو ان کا حق دے رہی ہیں ،یہی ان کا قصور ہے۔ چونکہ مسلمانوں کو ان کا حق دیا جانا بی جے پی کو سخت ناپسند ہے۔ اس لئے یہ سب سے زیادہ جس ریاستی حکومت سے خار کھائے بیٹھی ہے وہ مغربی بنگال کی ممتابنرجی حکومت ہے۔ اسی لئے ترنمول کانگریس اور ممتابنرجی کے خلاف تمام اصولوں اور اخلاق کو توڑ کر نچلی سطح پر گرجاکر زبردست سازشیں بی جے پی کررہی ہے۔ 
بنگال کے علاوہ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کرناٹک، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کی کانگریسی حکومتیں ہیں۔ بی جے پی کی قیادت کرناٹک میں پارٹی کے سابق وزیر اعلیٰ کانگریس اور جے ڈی ایس کی مشترکہ حکومت کے قیا م کے بعد سے ہی ان کوششوں میں سرگرم عمل رہے ہیں کہ کانگریس اور جنتادل سیکولر کے جتنے زیادہ ایم ایل ایز کو ان کی پارٹیوں سے توڑ کر انہیں بھاجپا میں شامل کیاجائے تاکہ ریاست میں بی جے پی حکومت بحال ہوجائے۔ ان کوششوں میں ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ یدیورپا سب سے آگے ہیں۔ اسی طرح مدھیہ پردیش اور راجستھان کی کمزور کانگریسی حکومتوں کے خلاف بھی بی جے پی پیچھے پڑی ہے۔ خدشہ ہے کہ کانگریس کی زیراقتدار ریاستوں میں سے کوئی بھی ریاست بی جے پی کے زیراقتدار آسکتی ہے گوکہ ماضی میں کانگریسی حکومتوں نے بھی غیر کانگریسی حکومتوں کے ساتھ اسی قسم کا سلوک کیا تھا اور غیر کانگریسی حکومتوں کی جگہ کانگریس کو اقتدار میں لایا گیا تھا۔ تاہم کانگریس کا رویہ غیراصولی اور غیر اخلاقی سہی تاہم وہ بڑی حدتک اصولوں کے دائرے میں تھا اور اب اقتداری سیاست میں اصول اور اخلاق کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں اورحصول ِاقتدار کے لئے لوگ کسی بھی حدتک جاسکتی ہیں۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے انتخاب سے قبل ہی انتخابی تقریروں میں بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی کو کھلم کھلا دھمکیاں دیں تھی بلکہ ان پر الزام تراشی کرتے ہوئے ترش زبان استعمال کی تھی اور بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ممتابنرجی کی ترنمول کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی واضح الفاظ میں پیش گوئی کی تھی۔ یہ ایک طرح سے ممتابنرجی کو ڈرانے یا نروس کرنے کی ایک نامناسب کوشش تھی لیکن یہ سیاسی حقیقت بھی نہیں بھولی چاہیے کہ ممتابنرجی کو ان کی ریاست میں ’’بنگال کی شیرنی‘‘ کہا جاتا ہے ،وہ ایسی بہادر اور بے باک خاتون لیڈر ہیں جو کسی بھی قسم کی دھونس دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتی ہیں، باوجود یکہ ان کے خلاف پروپیگنڈہ کچھ اس طرح کیا جارہا ہے  جیسے ترنمول کانگریس کی ساری قیادت بی جے پی میں آگئی ہو۔ البتہ مسلمانوں کے لئے یہ امر ندامت و شرمندگی کا باعث ہے کہ اپنے آپ کو بی جے پی کے ہتھے چڑھنے والے ایم ایل ایز میں ایک مسلمان منیر الاسلام بھی شام ہیں۔ ممتابنرجی کی مسلمانوں پر مہربانیاں اور حسن سلوک کے بدلہ میں منیر الاسلام نے احسان فراموشی کی انتہاء کردی ہے اور مسلمانوں کو بدنام کیا ہے۔ 
بی جے پی کے نشانے پر مدھیہ پردیش اور راجستھان کی کمزور حکومتیں بھی ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ دو کانگریسی حکومتیں کس طرح دباؤ بھرے حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ کانگریس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس ریاستی سطح پر بھی طاقت ور اور مدبر قیادت کی کمی ہے۔ کانگریس کی موجودہ قیادت بی جے پی کا مقابلہ کرنے میں کس حدتک کامیاب رہتی ہے، اس سوال کے جواب پر کئی ریاستوں میں کانگریسی حکومتوں کا مستقبل منحصر ہے۔ 
Ph: 07997694060
Email: rasheedansari050@gmail.com 

تازہ ترین