تازہ ترین

پرشانت کو ضمانت پر فوراً رہا کرنے کا حکم

12 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یواین آئی
نئی دہلی//سپریم کورٹ نے اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف مبینہ طورپر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے معاملے میں گرفتار صحافی پرشانت قنوجیا کو منگل کو بڑی راحت دیتے ہوئے انہیں ضمانت پر فوراً رہا کرنے کاحکم دیا ہے ۔ جسٹس اندرا بینرجی اورجسٹس اجے رستوگی کی تعطیلی بینچ نے پرشانت کی بیوی جگیشا اروڑا کی اپیل کی سماعت کے دوران اترپردیش پولیس کی کارروائی اور نچلی عدالت کے ذریعہ 22جون تک آئینی حراست میں بھیجنے کے فیصلے کی مذمت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹویٹر پر پرشانت کے پوسٹ کو صحیح نہیں ٹھہرایا جاسکتا،لیکن اس کی وجہ سے پولیس کی کارروائی بھی صحیح نہیں کہی جاسکتی۔ سماعت کے دوران اترپردیش حکومت کی جانب سے اڈیشنل سالیسیٹر جنرل وکرم جیت یبنرجی نے دلیل دی کہ ملزم کو جیوڈیشیل مجسٹریٹ نے آئینی حراست میں بھیجا ہے ،اس لئے اس معاملے میں آئین کے آرٹیکل -32 کے تحت دائر عرضی پر سماعت نہیں کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملزم کو ضمانت پر رہائی کے لئے نچلی عدالت یا ہائی کورٹ کا رخ کرنا چاہئے تھا،لیکن جسٹس بینرجی نے کہا سپریم کورٹ انصاف کے لئے آئین کے آرٹیکل -142کے تحت فراہم کردہ حقوق کے دائرے میں کوئی بھی حکم جاری کرسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا،‘‘آئین کے تحت آزادی کو برقرار رکھاگیا ہے اورجب بھی کوئی غیر مناسب کارروائی ہوگی یہ عدالت اپنے اختیارات کا استعمال کرنے سے پیچھے نہیں رہے گی۔’’ جسٹس بینرجی نے کہا،‘‘ہم نے ٹویٹ دیکھے ہیں۔اس طرح کے ٹویٹ نہیں کئے جانے چاہئے تھے ،لیکن کیا اس معاملے میں گرفتار ضروری تھی۔’’؟ جسٹس رستوگی نے اے ایس جی سے پوچھا کہ آخر کس بنیاد پر تعزیرات ہند کی دفعہ 505لگائی گئی ؟ جسٹس بینرجی نے کہا کہ جیوڈیشیل مجسٹریٹ کا ملزم کو 22جون تک آئینی حراست میں بھیجنے کا فیصلہ صحیح نہیں تھا۔انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا،‘‘22جون تک؟ملزم کو 11دن کے لئے آئینی حراست ؟کیا یہ قتل کا الزام ہے ؟ عدالت نے کہا کہ پرشانت کو ضمانت پر فوراً رہا کیا جائے ،حالانکہ اس نے واضح کیا کہ حکومت قانون کے دائرے میں ملزم کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے ۔