تازہ ترین

پرتاپ پارک میں خاموش دھرنا | دوران حراست لاپتہ کئے گئے افراد کی بازیابی کا مطالبہ

11 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: امان فاروق    )

احمد گلزار
سرینگر//گمشدہ افراد کے رشتہ داروں نے پرتاک پارک میں خاموش احتجاج کرتے ہوئے اپنے لخت جگروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری سانس تک انہیں تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ خاموش احتجاجی دھرنے کے دوران معمر خواتین ،نیم بیوائوں اور معصوم بچوں کی عاجزانہ بے کسی ، بے بسی اور تاریک اداسی ان رقعت آمیز واقعات کی ترجمانی کر رہی تھی۔ سوموار صبح سے ہی لاپتہ ہوئے افراد کے عزیز و اقارب اور رشتہ دارپرتاپ پارک میں جمع ہوئے اور خاموش احتجاج کیا۔احتجاج میں بیشتر خواتین شامل تھیں،جنہوں نے ہاتھوں میںاپنے لاپتہ ہوئے عزیزوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ’’ دوران حراست جبری طور پر لاپتہ‘‘ کئے گئے افراد کی بازیابی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔اس موقعہ پر کئی خواتین نے اپنے لخت جگروں کی گمشدگی کی روداد بیان کرتے ہوئے انکی بازیابی کی فریاد کی جبکہ جذباتی مناظر کے بیچ کئی خواتین دیدہ تر ہوئیں۔ اے پی ڈی پی کی سربراہ پروینہ آہنگر نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکز اور ریاست میں کئی حکومتیں بدلیں لیکن کسی بھی حکومت نے ہمارے مطالبات پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ کنبے تب تک چین کی سانس نہیں لینگے،جب تک انکے بچوں کی بازیابی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ ہوئے افراد کے رشتہ دار،اور کچھ نہیں مانگتے،بلکہ اپنوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔