تازہ ترین

حقوقِ خواتین کے حوالے سے عوامی بیداری ضروری

میرواعظ کا علمائے کرام پر زور،حول میں’مسجدہدیٰ‘‘ کا سنگ بنیاد، مساجدمیں ایک حصے کو خواتین کیلئے مخصوص کرنے کی تاکید

11 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//حریت (ع) چیرمین اور متحدہ مجلس علما ء کے امیر میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے مساجد کی تعمیر کرتے وقت مسجد کے ایک حصے کو خواتین کیلئے مخصوص کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دین اسلام نے جہاں زندگی کے ہر مرحلے پر انسان کی ہدایت و رہبری کی ہے وہیں خواتین کیلئے بھی ان کے حقوق کا واضح طور پر تعین کیا ہے۔ وانٹہ پورہ حول سرینگر میں ’’مسجد ہدیٰ‘‘ کی سنگ بنیاد رکھنے کے موقعہ پر میرواعظ نے فرزند ان توحید کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام کے تئیں یہاں کے نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بیداری ایک خوش آئند قدم ہے اور بے شک دین اسلام میں ہمارے جملہ دینی و دنیاوی مشکلات کا حل موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کی تعمیر ایک دینی فریضہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ مساجد میں خواتین کی عبادت کیلئے ایک حصہ مخصوص کیا جانا چاہئے۔میرواعظ نے کہا کہ آئے روز ہم کو یہ شکایات موصول ہو رہی ہے کہ اکثر جگہوں پر خواتین کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اسلام نے ان کے لئے وراثت میں جو حصہ مخصوص رکھا ہے اُس پر بہت کم عمل کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کا عمل سراسر دین اسلام کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے اور یہ ائمہ حضرات اور علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے عوام میں بیداری پیدا کرے اور خواتین کیلئے اسلام نے کیا حقوق بہم رکھے ہے چاہے وہ وراثت کا مسئلہ ہو یا گھروں میں ان کے تئیں عزت و احترام ، مساجد میں ان کے لئے مخصوص جگہیں مقرر کرنے کی بات ہو یا جہیز اور رسومات بد کے نام پر خواتین کے ساتھ ناروا سلوک رکھنے کی بات ہو۔ دین اسلام نے خواتین کے تئیں جس عزت و احترام اور ان کے حقوق کے حوالے سے واضح تلقین کی ہے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ صنف نازک کے حقوق کو تحفظ فراہم کریں۔ میرواعظ نے کہا کہ شادی بیاہ کے موقعہ پر رسومات بد اور بیجا اسراف اب یہاں معمول بنتا جارہا ہے لہٰذا ان سے اجتناب برتنے کی ضرورت ہے اور اسلام نے اس ضمن میں جو اعتدال پسندی کی جو تعلیم دی ہے اُس کو ہر حال میں ملحوظ نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔