تازہ ترین

مزید خبرں

11 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ماڈ ل ہائرسکینڈری سکول چانہ کاتعلیمی دورہ اختتام پذیر

زاہد ملک
مہور//گورنمنٹ ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول چانہ زون چسانہ کے طلباء کا پیر کی گلی اور شاہدرہ شریف راجوری کا دو روزہ تعلیمی دورہ اختتام پذیرہوگیاہے ۔اس  تعلیمی دورے کااہتمام   انچارج پرنسپل مختار وانی کی زیر نگرانی  کیا گیاتھا۔دورے کے پہلے دن طلباء اور عملہ شہادرہ شریف زیارت کے انتظامیہ سے بھی ملاقی ہوئے۔اس دوران شاہدرہ شریف انتظامیہ نے اس اسکول کے ہر یتیم بچے میں 1000 روپے تقسیم کئے اور انہیں یقین دلایاکہ اس اسکول کے جس بھی بچے کو کسی بھی مدد کی ضرورت ہوگی وہ ان کی مدد کیلئے تیار ہے۔اسکول کے پرنسپل،عملہ اور طلباء نے شاہدرہ شریف کے سربراہ قیوم ڈار کو مبارک باد پیش کی۔دورے میں شامل 60 سے زائد طلباء اور اسکول کے عملے نے حصہ لیا۔اس دوران اسکول کی ایک طالبہ آشو رانی نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے اسکول انچارج کی کاوشوں کی سراہناکرتے ہیں جنہوں نے ہمارے لیے تعلیمی دورے کااہتمام کیا۔اس بارے میں اسکول کے انچارج پرنسپل مختیار احمد وانی نے کہاکہ یہ ٹور کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہواہے۔
 
 

رسانہ معاملے پر عدالتی فیصلہ خوش آئند : ترجمان تنظیم ائمہ مساجد رام بن

عظمیٰ نیوز
رام بن// کٹھوعہ کے رسانہ کیس میں پٹھان کوٹ کی خصوصی عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کا مرکزی سیرت کمیٹی کے سرپرست محمد شوکت مغل اور تنظیم ائمہ مساجد ضلع رام بن کے ترجمان مولانا نذیر احمد قاسمی نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے ملک کی بعض عدالتوں کی طرف سے سنائے گئے غیر منصفانہ فیصلوں کے سبب ملک کی عدلیہ پر شکوک و شبہات کے بادل منڈلا رہے تھے۔ لیکن رسانہ معاملے میں پٹھان کوٹ کی خصوصی عدالت کے فاضل جج نے رسانہ معاملے میں ملوث افراد میں سے چھ افراد کو مجرم قرار دے کر تین کو عمر قید کی سزا جبکہ دیگر تین کو پانچ پانچ سال کی سزا  سنا کر پیدا ہونے والے تحفظات و خدشات کا قلع قمع کرکے یہ ثابت کردیا کہ ابھی بھارت کی عدلیہ آزاد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز معصوم بچیوں کی آبروریزی کے واقعات ملک میں بڑھتے جارہے ہیں، جس کا تقاضا تو یہ تھا کہ رسانہ معاملے میں آٹھ سالہ معصوم بچی کی اجتماعی عصمت دری کے بعد بچی کے قتل والے روح فرسا اور انسانیت سوز واقعے میں ملوث تمام مجرمین کو سزائے موت دی جاتی تاکہ عبرتناک سزا کی وجہ سے ملک میں عصمت دری کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سلسلہ بند ہو سکے۔لیکن پھر بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ریاستی پولیس کرائم برانچ، متاثرہ کے کیس میں مفت میں پیروی کرنے والے وکلاء اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی رات دن کی تگ و دو اور جہد مسلسل نے انصاف کے لئے پرامید عوام کی یاس کو آس سے بدل دیا۔