تازہ ترین

کشتواڑکے علاقہ دچھن کی خوبصورتی حکومتی نظروں سے اوجھل

بنیادی سہولیات سے محروم لوگ کسمپرسی کی زندگی بسرکرنے پرمجبور

11 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عاصف بٹ

سیاحتی صلاحیتوں کوبروئے کارلانے اورضروری خدمات مہیاکرانے کامطالبہ 

کشتواڑ //ضلع ہیڈ کواٹر کشتواڑ سے60 کلومیڑ کی دوری پر واقع علاقہ دچھن خوبصورتی کے اعتبار سے منفردشناخت اورشہرت رکھتاہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس علاقہ کے لوگ آزادی کے بعد70 سال سے زائد گزرنے کے باوجودبھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پرمجبورہیں۔جہاں ایک طرف مرکزی حکومت اس وقت ملک کے ہر شہر ، قصبہ  اورگاوں کوڈیجیٹلائزبنانے کامنصوبہ تیارکررہی ہے وہیں کشتواڑ کا علاقہ دچھن   کے لوگوں کو بنیادی سہولیات اورموبائل خدمات تک دستیاب نہیں ہیں۔ اگر چہ پچھلے برس علاقہ میں بی ایس این ایل کی طرف سے موبائل سروس خدمات شروع کی گئی تھیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ناقص کارکردگی کے سبب لوگوں کو پورا دن کسی مخصوص جگہ پرفون رابطہ کرنے کیلئے رہنا ہے لیکن پھر بھی بات لوگ اپنوں سے رابطہ کرنے سے قاصرہی رہتے ہیںجس کے نتیجے میں لوگ ہنگامی صورت میں بھی کسی سے رابطہ نہیں کرپاتے ہیں۔بتایاجاتاہے کہعلاقے کی آبادی لگ بھگ 15000 افرادپرمشتمل ہے لیکن علاقہ کے لوگوں کو سیاسی جماعتوں و انتظامیہ نے ہر سطح پر نظرانداز کردیاہے۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ  ان سے سیاسی لیڈراورانتظامیہ نے ماضی میںبڑے بڑے وعدے کیے لیکن وہ وعدے کبھی حقیقت کاروپ اختیارنہ کرسکے۔اس بارے میںمقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوے کہا کہ یہ علاقہ قدرتی حسن سے مالا مال ہے اورراستے میں کئی ایسے مقامات پر جھرنوں و اونچی  اونچی چٹانوں سے پانی بہنے کے خوبصورت نظارے پیش کرتے ہیں جو علاقے کی خوبصورتی کو دوبالا کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ یہاں پرایک مقام ایسابھی ہے جہاں  گاڑیاں پانی کے اندر چلتی ہیں جو کافی خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ اس علاقہ میں کئی ایسے مقامات بھی ہیں جو سیاحت کو فروغ دینے کی بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں جن میں سوندر ،جنکپور و لوپارہ کے خوبصورت گائوں جو پہاڑی کے ساتھ واقع ہیں۔ اسی علاقہ میں  ہڑ ماتا کا مندر بھی واقع ہے جہاں  ہر سال ہزاروں کی تعداد میں  ریاست کے مختلف مقامات سے لوگ یاترا کرنے آتے ہیں۔ اگر انتظامیہ علاقہ میں موبائل خدمات کو بحال کرتی ہے تو سیاح  یہاں کی خوبصورتی کو دیکھ کر اس علاقے کا رخ کرتے  لیکن انتظامیہ کی نظراندازی و خاموشی کی وجہ سے یہاں کے خوبصورتی مناظرکاکوئی بھی فائدہ مقامی لوگوں کونہیں ہورہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ اس طرف اپنی  توجہ مرکوز کرتی ہے تو علاقہ میں سیاحت کو کافی فروغ مل سکتا ہے۔مقامی لوگوں نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک سے پرزورمطالبہ کیاہے کہ وہ ذاتی طور علاقہ کی طرف اپنی توجہ مرکوز کریں تاکہ علاقہ کے لوگوں کو بنیادی سہولیات میسرہوسکیں۔