تازہ ترین

کھیر بھوانی میلے میں کشمیری پنڈتوں کی بھاری شرکت

تولہ مولہ میں ہندومسلم بھائی چارے کے جذباتی مناظر، ٹکر کپوارہ میں بھی شردھالوں کا تانتا

11 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ارشاد احمد+اشرف چراغ
گاندربل+کپوارہ//تولہ مولہ میں واقع ماتا کھیر بوانی مندر میں ہزاروں کی تعداد میں شردھالووں نے روایتی اور مذہبی انداز سے جیشٹھا اشٹمی کی پوجا کی.ملک کی مختلف ریاستوں سے کشمیری پنڈت اس سلسلے میں تولہ مولہ وارد ہوئے ۔اس موقع پر کشمیری پنڈتوں نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دلی چاہت اور خواہش ہے کہ کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیری پنڈتوں کی واپسی ہوجائے لیکن نہ ہی حالات سازگار ہیں اور نہ ہی ایسا ماحول بنایا جاسکا۔جموں جانی پورہ کے سرکاری رہائشی کوارٹر میں رہنے والے مٹن اسلام آباد کے رویندر نے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا کہ"جب سے کشمیری پنڈتوں نے وادی کشمیر سے ہجرت کی ہے ہم نے ایک پل کے لئے بھی دلی سکون اور راحت محسوس نہیں کی ہے کیونکہ بہت ہی مشکل حالات اور وقت میں ہم لوگوں نے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی تھی ہم اپنے نئی نسل کو جو 1990کے بعد آئی کشمیر کی باتیں بتاتے ہیں ان کو یقین نہیں آتا کہ واقعی ہم نے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی تھی۔سال 1990 سے اب تک کتنی ہی حکومتوں نے پنڈتوں کو واپس لانے کی سیاست کی لیکن سب فریب اور جھوٹ ہی ثابت ہوا۔ان ہی باتوں کا اظہار سوپور کے مضافاتی علاقہ بومئی سے تعلق رکھنے والے اشوک کمار نامی شہری نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہر دکھ سکھ کے حصے دار بنتے تھے۔یہاں ایسا نہیں لگتا تھا کہ ہم الگ الگ مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ کھانا پینا شادی بیاہ مرنا جینا سب میں ایک دوسرے کے ہاتھ بٹاتے تھے لیکن 1990 میں حالات اس وقت کچھ ایسے ہوئے کہ ہم ہجرت کرنے پر مجبور ہوکر جموں چلے گئے جہاں کتنی مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہم ہی جانتے ہیں ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ ہمیں نکالا گیا یا ہم نکلے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حالات نے اچانک کروٹ لی کہ ہم مجبوری کے عالم میں گھر بار پشتینی زمین باغ چھوڑ کر جان بچانے میں ہی عافیت سمجھی لیکن ہمارے کتنے ہی رشتہ دار اس حسرت میں دنیا چھوڑ گئے کہ پنڈتوں کی واپسی ہوگی اب ہماری واپسی پر بھی دہلی سے لیکر کشمیر تک سیاست ہورہی ہے عملی طور پر کچھ بھی نہیں۔
کشمیر سے نکلنا کچھ ہم لوگوں کی قسمت اور کچھ زیادہ سیاست شامل رہی ورنہ یہ ہی جیتے اور یہ ہی مرتے۔کھیر بوانی مندر کے اندر اور باہر مقامی مسلمانوں نے بڑھ چڑھ تیاریاں کی تھیں۔پوجا پاٹ میں ضرورت کی چیزیں مسلمانوں نے چھوٹی چھوٹی دوکانیں لگاکر سجائی ہوئی تھی۔تولہ مولہ کے مقامی شہری عبدالحمید نامی دوکاندار نے اس بارے کشمیر عظمی کو بتایا کہ گزشتہ سال بہت کم ہی پنڈت برداری سے تعلق رکھنے والے افراد آئے تھے لیکن اس با رخاصی تعداد میں شرکت کیلئے آئے ہوئے ہیں جس وجہ سے ہمیں کافی مسرت ہوئی۔پچھلے سال میرے گھر تولہ مولہ میں تین دن تک ایک ہی پنڈت خاندان قیام پذیر رہا تھا جس وجہ سے تین دن تک گھر میں رونق رہی تھی۔میلہ کھیر بوانی کے سلسلے میں ضلع انتظامیہ کی جانب مختلف اسٹال لگائے گئے تھے جن میں محکمہ امور صارفین،میونسپل کمیٹی،صحت،بنک،کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں جن میں نیشنل کانفرنس،پیوپلز ڈیموکریٹک پارٹی،کانگریس کی جانب سے بھی پنڈتوں کو خوش آمدید کیا گیا۔نیشنل کانفرنس کے صدر و ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ،جن کے ہمراہ ناصر اسلم وانی،سابقہ ممبر اسمبلی گاندربل شیخ اشفاق جبار،ریاستی گورنر ستہ پال ملک،مرکزی وزیر رام مادھون،چیف جسٹس عدالت عظمی کشن کمار کول،سابق ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید،جموں و کشمیر پیوپلز مومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر شاہ فیصل،شہلا رشید،پردیش کانگریس پارٹی صدر غلام احمد میر،گاندربل ضلع صدر فاروق ساحل،ڈویڑنل کمشنر بصیر خان سمیت دیگر سیول اور پولیس کے اعلی افسران بھی اس موقع پر تولہ مولہ تشریف لائیجبکہ مقامی رضا کار بھی پیش پیش رہے جنہوں نے مشروبات،کھانے پینے کی اشیاء فراہم کی،ادھر میلہ کھیر بوانی کیلئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے تولہ مولہ میں شرکت کرنے والے شردھالوں کے لئے تمام تر سہولیات بہم پہنچانے کے لیے معقول انتظامات کئے گئے تھے جبکہ حفاظت کے لئے بھی کڑے بندوبست انجام دیئے گئے تھے۔ ادھر کپوارہ کے ٹکر علاقہ میں واقع ماتا کھیر بھوانی مندر میں سالانہ میلہ انتہائی جوش و خروش ،عقیدت و احترام سے منایا گیاجبکہ پوجاپاٹ کیلئے خصوصی تقریب منعقد کی گئی  ۔اس میلہ کی کشش اور عقیدت ایک بار پھر سینکڑوں کشمیری پنڈتو ں کو کپوارہ کھینچ لائی ۔کپوارہ قصبہ سے دو کلو میٹر دور ٹکر میں واقع کھیر بھوانی استھاپن کشمیری پنڈتو ں کی ایک مقدس جگہ ہے جہا ں ایک مندر ہے اور کشمیری پنڈت ہر سال یہا ں آکر سالانہ میلہ مناتے ہیں ۔اس تہوار کو سب سے بڑا تہوار کے طور مناتے ہیں ۔ایک کشمیری پنڈت جس کا تعلق کپوارہ سے ہے کا کہنا ہے ماتا کھیر بھوانی میلہ کشمیری پنڈتو ں کو اپنے مقامی مسلمان بھائیو ں سے ملنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور اس روز وہ آپسی بھائی چارے کے جذبے کو تقویت دیتے ہیں۔ اس پنڈت کا کہنا ہے کہ 1990میں جب وادی میں نا مساعد حالات پیدا ہوئے تو پنڈت اپنا گھر بار چھو ڑ کر وادی سے چلے گئے لیکن گزشتہ 29سالو ں کے دوران کشمیری پنڈت اپنے مسلمان بھائیو ں کے بغیر اپنے آپ کو ادھورا سمجھتے ہیں۔
میلہ کھیر بھوانی کے موقع پر ٹکر میں واقع مندر میں پوجا پاٹ کے دوران کشمیری پنڈتو ں نے خصوصی دعاکی وہ کشمیر میں آکر اپنے مسلمان بھائیو ں سے ساتھ پہلے جیسے زندگی گزار یں ۔اس موقع پر ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ انشل گرگ بھی ٹکر گئے اور انتظامات کا جائزہ لیا ۔کشمیری پنڈتو ں نے بتا یا کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے پانی ،بجلی اور ٹرا نسپورٹ کے مکمل انتظامات کئے تھے جس پر وہ خوش نظر آ رہے تھے ۔ماتا کھیر بھوانی میلہ ٹکر کی انتظامیہ نے ضلع انتظامیہ کے غیر معمولی انتظامات کی سراہنا کی ۔