تازہ ترین

مزید خبریں

10 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

جی ایم سی اسامیوں کیلئے ٹیسٹ دوبارہ سے لینے کی اپیل 

سمت بھارگو 
 
راجوری //گور نمنٹ میڈیکل کالج وہسپتال راجوری کیلئے نکالی گئی اسامیوں کے خواہشمند امید واروں نے انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اسامیوں کیلئے دوبارہ سے ٹیسٹ منعقد کیا جائے ۔امید واروں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ اس عمل کے دوران کئی نا اہل امید واروں کو منتخب کرلیا گیا ہے ۔سماجی کارکن شباب مغل نے بتایا کہ میڈیکل کالج راجوری میں نکالی گئی اسامیوں کو بھر نے کیلئے اپنائے گئے قاعدہ کے دوران کئی ایسے امید واروں کو منتخب کیا گیا ہے جو ریکارڈ کلرک اور سٹور کیپر اسامیوں کیلئے اہل ہی نہیں ہیں ۔امید واروں نے ریاستی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ امید واروں کو منتخب کرنے کیلئے نئے سے پورے عمل کو شروع کیا جائے ۔اس سلسلہ میں میڈیکل سپر نا ٹینڈنٹ راجوری ڈاکٹر سریش گپتا نے بتایا کہ مذکورہ اسامیوں کیلئے ٹائپ ٹیسٹ کیساتھ ساتھ اکیڈمک میرٹ کو مشترکہ طور پر جمع کیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ اسامیوں کوبھرنے کیلئے صاف و شفاف عمل اختیار کیا گیا ہے۔
 

اینٹی ربیزویکسین کہ عدم دستیابی سے عوام پریشان 

جاوید اقبال
 
مینڈھر//اینٹی ربیز ویکسین کے نہ ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ۔ گذشتہ کئی ماہ سے اینٹی ربیز ویکسین نہ تو سرکاری ہسپتالوں میں آئی ہے جس کی وجہ سے مذکورہ ادویات حاصل کرنے والوں کی مشکلا ت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔مینڈھر کی عوام نے ریاستی گورنر انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلی افیسران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکار اور متعلقہ محکمہ کو چاہئے کہ وہ اینٹی ربیزی ویکسین کی دستیابی کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرئے تاکہ عام لوگوں کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔انہوں نے کہاکہ جنگلی جانوروں یا کتوں کے کاٹنے کے بعد ویکسین لگوائی جاتی ہے لیکن کئی لوگوں نے دو یا تین انجکشن لگوائے ہیں جس کے بعد مذکورہ ادویات ہی ختم ہو گئی ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ہزاروں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی کہیں سے ویکسین نہیں ملتی ۔عوام نے انتظامیہ سے اپیل کرتے ہو ئے کہاکہ جلداز جلد مذکورہ ویکسین دستیاب کی جائے تاکہ ان کو درپیش مسائل حل ہو سکیں ۔ڈائر یکٹر محکمہ صحت نے بتایا کہ اینٹی ربیزی ویکسین کہیں پر بھی دستیاب نہیں ہے تاہم انہوں نے مذکورہ ادویات کی فراہمی کیلئے تحریری طور پر اعلیٰ انتظامیہ کو پیغام دیا ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ جلداز جلد مذکورہ ادویات دستیاب کر وائی جاسکیں ۔
 

پنچایتوں کو مزید فعال بنانے کی مانگ 

جاوید اقبال
 
مینڈھر //کسان مزدور یونین مینڈھر نے ریاستی انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ پنچایتوں کو مزید فعال بنانے کیلئے ترجیح بنیادوں پر اقدامات اٹھا ئے جائیں ۔پریس کے نام جاری ایک بیان میں کسان مزدور یونین مینڈھرکے صدر چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ کی جانب سے پنچایتی انتخابات کے بعد اداروں کو مزید فعال بنانے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ محکمہ دیہی ترقی کی جانب سے ابھی تک مزدور طبقہ کو سابقہ تمام تعمیر اتی کاموں کی اجرت ہی نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے غریب طبقہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ تعمیر اتی کاموں کے سلسلہ میں لئے گئے میٹر یل کی اجرتوں کے علا وہ دیہی مجلس میں سنجیدگی سے پلان مرتب نہیں کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے ریاستی انتظامیہ کیساتھ ساتھ مرکزی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ عوام مستفید کرنے کیلئے بقایا اجرتوں کی وگزار کے ساتھ ساتھ پنچایتوں کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ دیہی علا قوں کی تعمیر و ترقی کو ممکن بنایا جاسکے ۔
 

ریاست کا سیاسی جغرافیہ بدلنے کا اختیار صرف قانون ساز اسمبلی کے پاس :ماگرے 

طارق شال 
 
تھنہ منڈی //جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے ترجمان ڈاکٹر محمد بشیر ماگرے نے اسمبلی حلقوں کی حد بند ی کے معاملہ پر بولتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کا سیاسی جغرافیہ بدلنے کا اختیار صرف قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے ۔انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ ریاست میں پہلی ایک جمہوری نظام کو قائم کرنے کیلئے انتخابات منعقد کر وائیں اور اس کے بعد اپنے فارمولے کو لاگو کر نے کی کوشش کریں ۔انہوں نے کہاکہ آئین ہند کے مطابق ہر دس برسوں میں مردم شماری کی جاتی ہے جس کے تحت اسمبلی اور پارلیمنٹ کی سیٹوں کو زیادہ کرنے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے جبکہ مذکورہ اختیارات پارلیمنٹ کے پاس موجود ہیں لیکن ریاست کے آئین کے تحت اسمبلی حلقوںکی نئی حد بندی جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے ۔این سی لیڈر نے کہاکہ سابقہ ریاستی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملہ کو آبادی کے تناسب کی بنیاد پر حد بندی کمیشن کو 2026تک سیل کیا ہو ا ہے جبکہ اس کے بعد غلام نبی آزاد کی حکومت نے کوشش کی تھی لیکن مڈ سیشن میں مذکورہ عمل ممکن نہیں تھا ۔انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کیلئے جلداز جلد اسمبلی انتخابات کروائے جائیں تاکہ دو تہائی اکثریت کیساتھ حد بندی کو ممکن بنایا جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ گورنر اور صدرراج میں مذکورہ عمل ممکن نہیں ہے جبکہ اس سے غیر ضروری طور پر عوام کو گمراہ کیا جارہاہے ۔پروفیسر ماگرے نے اس بات کو بھی دوہرایا کہ26 اکتوبر 1946 کو جب مہاراجہ ہری سنگھ نے الحاق کیا تو اسوقت مذہب کے نام پر برصغیر تقسیم ہو رہا تھا اور یو این او میں جموں کشمیر کا معاملہ بھی زیر غور تھا۔ تو شیخ محمد عبداللہ نے ایک مثبت سوچ کے ذریعہ فرقہ وارانہ نقطہ نظر کو نظرانداز کرکے مسلم لیگ کے پاکستان کو مسترد کر تے ہوئے کشمیر کا رشتہ ہندوستا ن کیساتھ جوڑا تھا ۔
 

مینڈھر میں الوداعی تقریب کا اہتمام 

جاوید اقبال 
 
مینڈھر//سیشن جج پونچھ زبیر چوہدری اور سابقہ منصف جج مینڈھر ریاض چوہدری کے لئے ایک الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔چوہدری ظفر اللہ آزاد کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب میں مختلف سیاسی ،سماجی اور مذہبی تنظیموں کے کارکنوں کیساتھ ساتھ عام لوگوں نے بھی شرکت کی ۔اس موقعہ پر مقررین نے سیشن جج پونچھ اور منصف جج مینڈھر کی جانب سے عدالیہ میں رہ کر کی گئی عوامی خدمت کی تعریف کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ عدالیہ میں رہ کر دونوں ججوں نے عام لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا ہے ۔
 

ہائی سکول بھاٹا 39برسوں سے درجہ بڑھنے کامنتظر 

رمیش کیسر 
 
نوشہرہ//سب ڈویژن نوشہرہ کے گائوں راجپور بھاٹا میں قائم ہائی سکول گزشتہ 39برسوں سے درجہ بڑھانے کا منتظر ہے ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ دیہی اور دور دراز علا قہ میں قائم کر دہ سکول درجہ 1980میں مڈل سے بڑھا کر ہائی سکول کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد لگا تار عوامی مانگ کے باوجود بھی انتظامیہ نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔اس وقت سکول میں 300سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں جن میں سے زیادہ تر بچوں کی دسویں جماعت کے بعد تعلیم متاثر ہو جاتی ہے ۔سابقہ سرپنچ میاں خان ،محمد بشیر ،شام سنگھ ،کلبیر سنگھ و دیگر ان نے بتایا کہ ہائی سکول راجپورہ بھاٹا نوشہرہ میں قائم ہا ئر سکینڈری سکول سے 30کلو میٹر دوری پر واقع ہے جس کی وجہ سے بچوں کو مزید تعلیم جاری رکھنے میں شدید دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ مقامی لوگوں کی جانب سے گزشتہ کئی عرصہ سے ہائی سکول کا درجہ بڑھا کر ہائر سکینڈری کرنے کی مانگ کی جارہی ہے لیکن کسی بھی حکومت کی جانب سے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔مقامی لوگوں نے ریاستی گورنر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہائی سکول راجپورہ بھاٹا کا درجہ بڑھا یا جائے تاکہ طلباء کا مستقبل تاریک ہو نے سے بچایا جاسکے۔