تازہ ترین

بنکروں میں پانی داخل ہونے سے شہری پریشان

زیر تعمیر بنکروں کو جلدا ز جلد مکمل کرنے کیلئے ضلع ترقیاتی کمشنر سے اپیل

10 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

حسین محتشم
 پونچھ//سرکار کی جانب سے اگرچہ سرحدی علاقوں میں حد متارکہ کے قریب رہنے والے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان علاقوں میں پختہ بنکر تعمیر کروائے جا رہے ہیں لیکن ان بنکروں کی تعمیرات سست روی کا شکار ہیں۔ سرحدی علاقہ فقیر درہ میں انتظامیہ کی جانب سے کئی بنکر بنائے جارہے ہیں لیکن یہ بنکر نا مکمل ہیں ۔کئی ایک بنکروں کا لینٹر نہیں ڈالا گیا اور کئی ایک کی دیگر تعمیر ات نا مکمل ہیں ۔ گاؤں فقیر درہ کی تار بندی اور فوجی چوکیوں کے نزدیک واقعہ واحد گھر کے مالک چوہدری تجمل حسین نے بتایا کہ وہ ریاستی گورنر انتظامیہ کا اور خصوصی طور پر ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے سرخ لائن پر رہنے والے ان لوگوں کو راحت پہنچانے کے لئے اس علاقہ میں پختہ بنکروں کی تعمیرات کا کام شروع کروایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ ہمیشہ گولوں کی زد میں رہتے ہیں اور اس سے پہلے بھی حادثات میں ان کے اپنے اپنی جانوں کو گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ کی جانب سے جو ان لوگوں کے لیے کام کیا جا رہا ہے اس کی جتنی سراہنا کی جائے وہ کم ہے۔انہوں نے کہا لیکن جتنے بھی بنکر ان کے گاؤں میں بنائے گئے ہیں ایک بھی بینکر مکمل طور پر تیار نہیں ہے بلکہ سبھی بینکروں کے کام ادھورے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نام سے جو بنکر بنایا گیا ہے اس میں بیت الخلاء بنایا گیا ہے جس پر ابھی تک لینٹر نہیں ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ اس پر لینٹر ڈالاکر بنکر کومکمل طور پر تیار کرکے دیا جائے تاکہ وقت ضرورت وہ اس کا استعمال کر سکیں۔ اسی گاؤں کے ایک اور شخص غلام حسین کا کہنا تھا کہ بنکر زمین دوز ہونا چاہیے لیکن ان کا بنکر زمین کے اوپر بنایاگیاہے۔  انہوں نے اپیل کی کہ ان کے بنکر کے اردگرد مٹی ڈال کر اسے زمین دوز کیا جائے تاکہ اس سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ گاؤں کی ایک خاتون نے کہا کہ وہ انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتی ہیں کہ انہیں انفرادی بینکر بنا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بنکرکا کام مکمل نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلستر نہ ہونے کی وجہ سے اس بنکر کے اندر پانی داخل ہو جاتا ہے جسے نکالنے میں انہی کی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنکر کا فرش بھی نہیں ڈالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب فرش کے لئے انہوں نے ٹھیکیدار کو کہا تو وہ ایک دم سے آگ بگولہ ہوگئے اور کہا کہ اس کا فرش نہیں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں کے دوران اس میں اتنا پانی جمع ہو جاتا ہے کہ انھیں بالٹیوں سے اس پانی کو بایر نکالنا پڑتا ہے۔انہوں نے بھی ضلع ترقیاتی کمشنر سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بنکروں کی تعمیرات کا کام جلد از جلد مکمل کروایا جائے تاکہ وہ لوگ تھوڑی سی راحت حاصل کر سکیں۔