تازہ ترین

کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس | حتمی فیصلہ آج متوقع

امن و قانون کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس مستعد

10 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

یوگیش سگوترہ
جموں //رسانہ عصمت دری اور قتل کیس پر آج فیصلہ سنایاجانا متوقع ہے ۔8سالہ خانہ بدوش لڑکی کی عصمت دری اور قتل کیس کے واقعہ کی پٹھانکوٹ کی عدالت میں سماعت لگ بھگ ایک سال قبل شروع ہوئی تھی اور آج عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے ۔ملزمان کی طرف سے کیس لڑ رہے انکر شرما نے بتایاکہ فیصلہ سنانے کی سماعت کا آغاز صبح 10بجے ہوجائے گا اوربعد میں اسی روز فیصلہ آنا متوقع ہے۔ کیس کی ان کیمرہ اور روزانہ بنیادوںپر سماعت لگ بھگ ایک سال تک جاری رہنے کے بعد 25مئی کو اختتام پذیر ہوئی اور ڈسٹرکٹ و سیشن جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے 10 جون کو سنانے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ کیس کے 8 میں سے 7 ملزمان کا فیصلہ امکانی طور پر آج سنایا جائے گا جبکہ آٹھواں ملزم جو کہ نابالغ ہے، کے خلاف ٹرائل عنقریب جوینائل کورٹ میں شروع ہوسکتی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر 31 مئی 2018ء کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں کیس کی ان کیمرہ اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی تھی۔ اس دوران عدالت میں کیس کی قریب 275 سماعتیں ہوئیں اور 132 افراد عدالت میں بطور گواہ پیش ہوئے۔استغاثہ کی طرف سے کیس کی پیروی سپیشل پبلک پراسیکیوٹرس سنتوک سنگھ بسرا اور جگ دیش کمار چوپڑا نے کی جبکہ انہیں متعدد دیگر وکلاء بشمول کے کے پوری، ہربچن سنگھ اور مبین فاروقی (متاثرہ بچی کے والد محمد یوسف پجوال کے ذاتی وکیل) انہیں معاونت کررہے تھے۔ ملزمان کی طرف سے کیس کی پیروی اے کے ساونی، سوباش چندر شرما، ونود مہاجن اور انکر شرما نے کی۔اس کیس کے ملزمان میں عصمت دری و قتل واقعہ کے منصوبہ ساز سانجی رام، اس کا بیٹا وشال جنگوترا، سانجی رام کا بھتیجا (نابالغ ملزم)، نابالغ ملزم کا دوست پرویش کمار عرف منو، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج اور آنند دتا شامل ہیں۔سانجی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچانے، وشال، نابالغ ملزم، پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج و آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات ہیں۔دریں اثناء معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پولیس انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال بنائے رکھنے کیلئے اقدامات کردیئے ہیں ۔پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ یہ کیس بہت ہی حساس ہے جسے دیکھتے ہوئے پولیس کی طرف سے حتمی فیصلہ پر نگاہ رکھی جارہی ہے ۔انہوں نے بتایاکہ امن و قانون کی صورتحال خراب ہونے کا اندیشہ ہے جس کے پیش نظر پولیس و دیگر ایجنسیوں نے اقدامات کرلئے ہیں ۔
 
 
 

کب کیا پیشرفت ہوئی ؟

جموں// 12 جنوری 2018ء کو کٹھوعہ کے رسانہ گائوں سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف پجوال شکایت لیکر پولیس تھانہ ہیرا نگر پہنچے اور یہ بتایاکہ اُن کی آٹھ سالہ بیٹی 10 جنوری 2018ء کو گھوڑے چرانے کے لئے نزدیکی جنگل گئی، شام کے چار بجے گھوڑے واپس لوٹے لیکن لڑکی واپس نہ لوٹی۔ پولیس تھانہ ہیرا نگر نے شکایت پر ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کردی اور17 جنوری 2018ء کو کمسن بچی کی لاش نزدیکی جنگل میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی۔ پولیس نے بچی کی لاش اپنے تحویل میں لی اور ضلع ہسپتال کٹھوعہ میں پوسٹ مارٹم کے بعد آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے لواحقین کے حوالے کی گئی۔ جب مقتولہ بچی کے لئے رسانہ میں قبر کھودنا شروع کی گئی تو وہاں اکثریتی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے مخالفت کی جس کے بعد بچی کو10 کلو میٹر دور ایک گائوں میں دفنایا گیا۔تحقیقات کے دوران پولیس تھانہ ہیرا نگر نے عصمت دری و قتل واقعہ کے منصوبہ ساز سانجی رام کے نابالغ بھتیجے کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران نابالغ ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ شراب، سگریٹ اور دیگر نشہ آور چیزوں کا عادی ہے اور اسکول سے اس وجہ سے نکالا جاچکا ہے کیونکہ وہ لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی کرتا تھا۔22 جنوری 2018ء کو ریاستی حکومت نے کیس کی تحقیقات کرائم برانچ کے حوالے کردی۔ کرائم برانچ نے نابالغ ملزم کی جسمانی ریمانڈ حاصل کی اور اس کے انکشافات پر دیگر تمام ملزمان کو حراست میں لے لیا۔کرائم برانچ کی طرف سے عدالت میں دائر کی گئی چارج شیٹ کے مطابق جنوری 2018ء کے پہلے ہفتے میں سانجی رام نے رسانہ میں رہائش پزیر گوجر بکروال کنبوں کو وہاں سے بھگانے کی منصوبہ بندی شروع کی۔ سانجی رام نے محکمہ پولیس کے ایس پی او دیپک کھجوریہ اور اپنے نابالغ بھتیجے کو آٹھ سالہ بچی کو اغوا کرنے کا کام سونپا۔ نابالغ ملزم نے یہ پورا منصوبہ اپنے قریبی دوست پرویش کمار عرف منو کے ساتھ شیئر کیا اور اسے منصوبے کا حصہ بنایا۔10 جنوری 2018ء کو سانجی رام کے بھتیجے (نابالغ ملزم) اور اس کے دوست پرویش کمار نے لڑکی کو اغوا کرکے منصوبے کے مطابق سانجی رام کے ذاتی مندر (دیوی استھان) پہنچایا، اسے زبردستی نشیلی ادویات کھلائیں جس کی وجہ سے کمسن بچی بیہوش ہوگئی۔ سب سے پہلے نابالغ ملزم نے کمسن بچی کا ریپ کیا۔ پھر پرویش کمار اور ایس پی او دیپک کھجوریہ نے بھی لڑکی کا ریپ کیا۔11 جنوری کو نابالغ ملزم نے میرٹھ کے ایک کالج میں زیر تعلیم سانجی رام کے بیٹے وشال جنگوترا کو فون کیا اور کہا کہ وہ اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لئے رسانہ آسکتا ہے۔ وشال فوراً میرٹھ سے نکلا اور 12 جنوری کی صبح رسانہ پہنچا۔ اس دوران سانجی رام نے پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کے اہلکاروں سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج کو کمسن بچی کا کیس رفع دفع کرنے کے لئے پیسوں کی پیشکش کرڈالی جو انہوں نے قبول کی۔13 جنوری کی صبح کلیدی ملزم سانجی رام اور دیگر کچھ ملزمان دیوی استھان پہنچے اور وہاں پوجا کی۔ سانجی رام وہاں سے نکلا تو وشال جنگوترا اور نابالغ ملزم نے کمسن بچی کا ریپ کیا۔ گھر میں سانجی رام نے نابالغ ملزم کو کہا کہ حقیقی مقصد حاصل کرنے کے لئے بچی کے قتل کرنے کا وقت آپہنچا ہے۔ سانجی رام کی ہدایت پر نابالغ ملزم، پرویش کمار اور وشال جنگوترا نے بچی کو دیوی استھان سے باہر نکال کر دوسری جگہ منتقل کیا۔ اسی اثنا میں ایس پی او دیپک کھجوریہ بھی وہاں پہنچا اور دیگر تین ملزمان سے کہا کہ وہ بچی کو ابھی مار نہ دیں کیونکہ وہ ایک بار پھر ریپ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد دیپک کھجوریہ اور نابالغ ملزم نے بچی کو ایک بار پھر جنسی زیادتی کا شکار بنایا اور بالآخر بے دردی سے مار ڈالا۔ ایک دو دن لاش کو دیوی استھان میں رکھنے کے بعد نابالغ ملزم اور وشال جنگوترا نے لاش کو نزدیکی جنگل میں پھینک دیا۔چارج شیٹ کے مطابق کرائم برانچ نے تحقیقات کے دوران 130 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے۔ اس کے مطابق سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج نے شواہد مٹانے اور ملزمان کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ چارج شیٹ میں سانجی رام، اس کے بیٹے وشال جنگوترا، نابالغ بھتیجے، اس کے دوست پرویش کمار، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار (سریندر نے دیپک کھجوریہ کے اشاروں پر کام کیا تھا)، سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج کو ملزم قرار دیا گیا۔9 اپریل 2018ء کو کٹھوعہ بار ایسوسی ایشن اور ینگ لائرز ایسوسی ایشن سے وابستہ درجنوں وکلاء نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کٹھوعہ کی عدالت کے احاطے میں شدید ہنگامہ آرائی اور ہلڑبازی کرتے ہوئے کرائم برانچ کے عہدیداروں کو کیس کا چالان پیش کرنے سے روک دیا۔ ہلڑبازی کے مرتکب وکلاء واقعہ کی تحقیقات مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ کرائم برانچ کے عہدیدار بعد ازآں سی جے ایم کی رہائش گاہ پر پہنچے اور وہیں پر واقعہ کے ملزمان کے خلاف چالان پیش کیا۔ پولیس نے وکلاء کی ہلڑبازی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بار ایسوسی ایشن کٹھوعہ کے وکلاء کے خلاف آر پی سی کی دفعہ 353، دفعہ 147 اور دفعہ 341 کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ اگلے دن یعنی 11 اپریل کو جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر جموں بند رہا۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بند کی کال کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر دی تھی۔قبل ازیں فروری 2018ء میں کٹھوعہ کے ہیرا نگر میں اکثریتی طبقے سے وابستہ سینکڑوں افراد نے ہندو ایکتا منچ نامی تنظیم کے بینر تلے ملزمان کے حق میں گگوال سے سب ضلع مجسٹریٹ ہیرا نگر کے دفتر تک ترنگا بردار جلوس نکالا تھا۔ کمسن بچی کے عصمت ریزی و قتل واقعہ کی وجہ سے لال سنگھ اور دوسرے ایک بھاجپا لیڈر چندر پرکاش گنگا کو وزارتی کونسل سے استعفیٰ دینا پڑا۔ بی جے پی کے ان دو وزراء نے یکم مارچ 2018ء کو کٹھوعہ میں کمسن بچی کے عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کے حق میں ہندو ایکتا منچ کے بینر تلے منعقد ہونے والے ایک جلسہ میں شرکت کی تھی۔ وزارتی کونسل سے استعفیٰ دینے کے بعد لال سنگھ نے بی جے پی سے ناراض ہوکر راہ بغاوت اختیار کی تھی اور کٹھوعہ کیس کی سی بی آئی انکوائری کو لیکر احتجاجی ریلیوں اور جلسوں کا انعقاد کرنے لگے تھے۔ پھر انہوں نے 22 جولائی 2018ء کو ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن نام سے نئی سیاسی جماعت لانچ کردی۔کرائم برانچ کی طرف سے چارج شیٹ دائر کرنے کے بعد کیس کی ایک سماعت 16 اپریل  2018ء کو سیشن جج کٹھوعہ کی عدالت میں ہوئی تھی جن ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، نے جج موصوف کے سامنے اپنے آپ کو بے گناہ بتاتے ہوئے نارکو ٹیسٹ (جھوٹ پکڑنے والا ٹیسٹ) کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم متاثرہ کے کنبہ کی جانب سے کیس کو چندی گڈھ منتقل کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنی پہلی سماعت میں کیس کی کٹھوعہ عدالت میں سماعت پر روک لگائی تھی۔سپریم کورٹ نے 7 مئی  2018ء کو کٹھوعہ کیس کی جانچ سی بی آئی سے کرانے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی سماعت کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ کی عدالت میں منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اُس وقت کے چیف جسٹس جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے یہ حکم سنایا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم نامے کی روشنی میں پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کٹھوعہ سنجیو گپتا نے 22 مئی 2018ء کو کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کی پٹھان کوٹ منتقلی کے باضابطہ احکامات جاری کردیئے تھے۔ (مشمولات ۔یو این آئی)