تازہ ترین

ریاستی کیمپا کی 17 ویں سٹیرنگ کمیٹی کی میٹنگ منعقد

تباہ شدہ جنگلاتی علاقوں میں شجرکار ی پر چیف سیکریٹری کا زور

10 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//چیف سیکریٹری بی وی آر سبھرامنیم کی صدارت میں کیمپا کی 17ویں سٹیرنگ کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں جنگلات و جنگلی حیات محکمہ کیلئے سال 2019-20ء کے اے پی او کی عمل آوری کا جائزہ لیا گیا جس کو جنوری 2019ء میں منظور کیا گیا تھا۔میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقی ، کمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات ، پی سی سی ایف ،چیف وائیلڈ لائف وارڈن اور دیگر افسران موجود تھے۔جبکہ ایک غیر سرکاری رضا کار تنظیم کے ممبر نذیر بے نظیر نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔اے پی سی سی ایف ( کیمپا) سرویش رائے نے میٹنگ کے دوران کیمپا کے تحت سالانہ پلان کی طبعی و مالی حصولیابیوں کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔ریاست میں جنگلات کے تحفظ اور بحالی کے کام میں کیمپا کے رول کو اُجاگر کرتے ہوئے کمیٹی کو بتایاگیا کہ ریاست میں ترقیاتی کاموں کے لئے جموں و کشمیر فارسٹ کنزرویشن ایکٹ کے تحت فراہم کی گئی 13000 ہیکٹر اراضی کے مقابلے میں اب تک 45000 ہیکٹر اراضی کو اب تک کیمپا کے تحت لایا گیا ہے ۔چیف سیکریٹری نے خصوصاً تباہ شدہ جنگلاتی علاقے میں شجرکار ی کے لئے کیمپا رقومات کی مؤثر عمل آوری پر زور دیا ۔انہوں نے اس نظام میں شفافیت لانے کی غرض سے محکمہ جنگلات کے افسران کو محکمہ کی ویب سائٹ پر الگ سے نقشہ جات اَپ لوڈ کرنے کی ہدایت دی۔کمیٹی نے 16ویں سٹیرنگ کمیٹی میٹنگ کے دوران لئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا۔کیمپا کاموں کی نگرانی کے تعلق سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ مختلف سطحوں پر اندرونی نگرانی کی جاتی ہے اور محکمہ ایک الگ نگران کی خدمات حاصل کر رہا ہے۔کمیٹی نے محکمہ کو 15؍جون تک آر ایف پی کی اَپ لوڈنگ کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت دی۔کمیٹی نے فیصلہ لیا کیمپا رقومات کو ٹریجری نظام کے ذریعے واگزار کیا جائے گا۔کمیٹی نے سٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کا ساڑھے 5کروڑ روپے کا منصوبہ بھی منظور کیا۔این جی او ممبر نذیر بے نظیر نے ہرن گاندربل میں بائیو ڈائیورسٹی پارک کے قیام کو منظور ی دینے کے لئے کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔اُنہوں نے اس پروجیکٹ کی فوری تکمیل کی مانگ کی۔چیف سیکرٹری نے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی کہ وہ اس پروجیکٹ کو پانچ سال کے بجائے تین سال کے اندر مکمل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیں۔