تازہ ترین

مسئلہ کشمیر پر مودی کا بیان حقائق کے منافی: گیلانی

اقوام متحدہ میں قراردادیںمتنازعہ خطہ ہونے کا ثبوت

10 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//حریت (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر دئے گئے حالیہ بیان کو تاریخی اور زمینی حقائق کے سراسر منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام پچھلے 71برسوں سے اپنے پیدائشی حق ’’حقِ خودارادیت‘‘ کے لیے مثالی قربانیوں سے عبارت رواں تحریک مزاحمت میں مصروف عمل ہے۔ انہوںنے نریندر مودی کے بیان پر شدید ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر بھارت کا کبھی حصہ نہیں تھا اور نہ ظلم و جبر سے تحریک آزادی مرعوب ہوکر سرینڈر کرنے کے بارے میں سوچ بھی سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے اس دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بھارت کے کسی بھی حصے کو کاٹ کر مانگنے کے روادار نہیں ہیں، البتہ جموں وکشمیر کی ریاست پر بھارت کے فوجی قبضہ کے خلاف برسرِ جدوجہد ہیں‘۔گیلانی نے بھارتی وزیر اعظم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے فوجی زبان میں بات کرنے کے بجائے تاریخی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے عوام کو کسی ابہام میں رکھنے کی ناکام کوششوں سے اجتناب کریں۔ گیلانی نے مسئلہ کشمیر کو ایک متنازعہ اور زندہ حقیقت ہونے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی میز پر اس ذمہ دار فورم کی طرف سے ڈیڑھ درجن کے قریب قراردادیں بھارتی ویزر اعظم کے دعوے کو مسترد کرنے کے لیے ایک بہت بڑا ثبوت موجود ہے۔ اس کے علاوہ ریاست جموں کشمیر کے زمینی حقائق بھارت کے فوجی قبضے کے خلاف ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے ہر طرح کی دہشت گردی کو رد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی چاہے سرکاری سطح پر عملائی جارہی ہو یا غیر سرکاری سطح پر اس کا کسی بھی مہذب سماج میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوسکتی۔گیلانی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض عالمی طاقتیں تحریک حقِ خود ارادیت پر دہشت گردی کی لیبل لگانے میں دوہرے معیار سے کام لیتے ہوئے محض اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں اور کمزور قوموں کے حق میں انصاف دلانے میں لیت ولعل اور حیلے بہانوں سے کام لیتی ہیں۔