تازہ ترین

جموں وکشمیربنک کی چیئرمین کی برطرفی پر تاجروں کوخدشات

ریاست کے اس بڑے مالیاتی ادارے کی اعتباریت کوبرقراررکھنے کامطالبہ

9 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//تجارتی حلقوں نے جموں کشمیر بنک کے چیئرمین کی اچانک برطرفی پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ریاست کے اس بڑے مالیاتی ادارے کی اعتباریت کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔ بنک چیئرمین پرویز احمد کو اپنے عہدے سے دستبردارکئے جانے کے بعد کشمیر اکنامک الائنس نے گورنر انتظامیہ کی طرف سے غیر متوقع فیصلہ لینے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے کہا کہ سرکار کی طرف سے یہ فیصلہ غیر متوقع اور اچانک تھا،جس نے تجارتی برداری کو مخمصے میں ڈال دیا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادرے سے جوابدہی کا معمول اور تحقیقات محکمانہ و انتظامی ذمہ داری ہے،تاہم بنک چیئرمین کو برطرف کرنے کے چند ہی لمحات کے بعد بنک کے کارپوریٹ ہیڈ کواٹر پر ویجی لنس کی چھاپہ مار کارروائی معنی خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویجی لنس آرگنائزیشن کے افسران پر اُنہیں مکمل بھروسہ اور اعتماد ہے کہ وہ دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی منظر عام پر لائیں گے۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین نے تاہم مطالبہ کیا کہ بنک کی اعتباریت کو ٹھیس لگنے سے بچایا جانا چاہے،کیونکہ بنک کی شبیہ چھاپہ مارکارروائی سے بہت متاثر ہوئی ہیںاور کھاتے دار و تاجر بنک کے ساتھ کاروبار کرنے یا اپنے رقومات کو بنک میں جمع کرنے سے قبل ہزاروں بار سوچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام بالخصوص وادی کے لوگوں نے جموں کشمیر بنک کو اپنے خون سے پروان چڑھایا ہے اور انہیں اس مالی ادارے پر بہت بھروسہ ہے۔ اس دوران کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے ایک دھڑے کے چیئرمین حاجی محمد صادق بقال نے بھی سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا۔بقال نے کہا کہ اگر اس بنک میں کوئی بد انتظامی یا بدعنوانی کا معاملہ تھاتو بنک چیئرمین کو معطل کیا جاتا اور اس کی تحقیقات کی جاتی،تاہم بنک چیئرمین کو اچانک اور اس طرح سے ہٹانے نے کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ حاجی محمد صادق بقال نے کہا کہ گزشتہ5دہائیوں سے کشمیر سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے اس بنک کو اپنا اعتماد دیا ہے اور اچانک اس طرح کی کارروائی سے اُن کے اعتماد اور بھروسے کو ٹھیس پہنچی  ہے۔بقال نے مزید کہا کہ اس کو خطوں کی لڑائی کا باعث نہ بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا’’ کچھ لوگوں نے بیرون وادی اس پر بغلیں بجائیںاور پٹاخیں سرکئے اور میں یہ سمجھنے سے قاصر ہو کہ آخر یہ کیوں کیا گیا،جبکہ جس افسر کو بنک کا چیئرمین نامزد کیا گیاوہ بھی ریاستی شہری ہے اور بنک کا ملازم ہے،جو خوش آئندہ ہے۔ پریس کانفرنس میں شیخ ہلال اور حاجی نثار بھی موجود تھے۔ کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے ایک اور دھڑے کے ترجمان ہلال احمد منڈو نے پریس کانفرنس کے دوران سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ لوگوں کو شک و شبہات میں نہ ڈالیں،بلکہ معاملے کی وضاحت کریں۔انہوں نے کہا کہ بنک ریاستی عوام کا سرمایہ ہے اور اس کی شبیہ کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔