فوجی اہلکاروں کورخصتی کے دوران احتیاط برتنے کی تلقین

9 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// فوج نے وادی میں اہلکاروں کو رخصتی پر جانے کے دوران اضافی احتیاطی تدابیراختیار کرنے اور سختی کے ساتھ معیاری ضابطہ عمل پر کاربندرہنے کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے تاکہ وہ جنگجوئوں کیلئے آسان ہدف نہ بن سکیں۔ جنوبی کشمیر کے سڈوری اسلام آباد(اننت ناگ) میں رخصتی پر آئے فوجی اہلکار منظور احمد کی عید کے روزگھر میں ہلاکت کے بعدفوج نے اہلکار کو اضافی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔ اگرچہ یہ ہدایات وادی میں رخصتی پر آنے والے ہر ایک فوجی کیلئے دی گئی ہیں،تاہم جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ’’رہنما خطوط پرکاربندرہنے میں کوئی چوک نہ کریں۔‘‘ سینئر دفاعی افسر نے بتایا کہ عید،ہولی،بیساکھی اور دیگر تہوار منانے کیلئے رخصتی پر جانے والے فوجی اہلکاروں کیلئے اگرچہ سخت معیاری ضابطہ عمل موجود ہے،تاہم جنوبی کشمیر میں رخصتی پر جانے والے اہلکاروں کو مزید احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے موجودہ رہنما خطوط کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے متعلقہ یونٹ کے انچارج کی طرف سے کوئی بھی رخصتی منظور ہونے کے بعد اہلکاروں کو اپنے یونٹوں میں سروس ہتھیار جمع کرنا لازمی ہے۔انہوں نے بتایا’’ فوجی اہلکار اپنے یونٹوں کو اپنے ضلع اور علاقے کے بارے میں مطلع کریںاور وہ متعلقہ پولیس تھانے کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں رہیںاور پولیس تھانے کو فوری طور پر اپنی آمد یا جانے کے بارے میں اطلاع کریں۔‘‘ مذکورہ دفاعی افسر نے اہلکاروں کو موجودہ رہنما خطوط پر سختی سے عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ رخصتی پر گئے ہر فوجی اہلکار کو متعلقہ پولیس تھانے سے رابطہ قائم کرنا چاہے اگر انہیں کسی قسم کے خطرے کا خدشہ ہو۔انہوں نے کہا’’ اگر اہلکار اپنے گھر کے ارد گرد مشتبہ نقل و حرکت دیکھیں تو یہی طریقہ کار اپنائے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ سخت رہنما خطوط کے بعد بھی جنگجو رخصتی پر گئے اہلکاروں کو آسان ہدف بناتے ہیں۔ جون2017میں جنگجوئوں نے لیفٹنٹ عمر فیاض کو رخصتی کے دوران ہی گولی مار کر ہلاک کیا تھاجبکہ2018میں رخصتی پر جانے والے پونچھ کے فوجی اہلکار اورنگ زیب کو بھی اغوا کر کے ہلاک کیا گیا۔امسال اپریل میں وار پورہ سوپور میں رخصتی پر فوجی اہلکار محمد رفیق یتو کو ہلاک کیا گیا،جبکہ حال ہی میںسڈورہ اسلام آباد(اننت ناگ) میں منظور احمد بیگ کو6جون کو عید کے روز گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ ایک سنیئر فوجی افسر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ رخصتی پر گئے کچھ اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا۔انہوں نے کہا’’ہاںکچھ ایسے واقعات رونما ہوئے،جب ہمارے فوجی اہلکاروں کو اس وقت ہدف بنایا گیا جب وہ غیر مسلح تھے،تاہم ہمارے اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث افراد کو 2017سے ہی جھڑپوں کے دوران ہلاک کیا گیا۔‘‘