تازہ ترین

مزید خبرں

9 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

پاڈر کے بچوں میں بے مثال ٹیلنٹ موجود 

کشتواڑ //ہر ایک بچے کے پاس ٹیلنٹ ہے ،فقط اسے نکھار دینے کی ضرورت ہے ،بعض اوقات ٹیلنٹ باہر آتا ہے جبکہ بعض اوقات اسکی کھوج ہی نہیں ہوتی ہے ۔ ان باتوں کا اظہار آل انڈیا کنفیڈریشن آف ایس سی / ایس ٹی ا بی سی کے ریاستی صدر آر کے کلسوترہ نے پاڈر کا دورہ کرنے کے دوران کیا۔ ایک پریس بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے گلاب گڑھ ، پاڈر دیہات میں ایسے چند بچے دیکھے ،جو دھاگے سے بنائی گئی ایک گیند سے کھیل رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے وہ اس گیندسے کھیل رہے تھے ،اس سے آدمی حیران ہو جاتا تھا۔کلسوترہ نے ان بچوں کو اپنی کھیل میں مست دیکھ کر مسرت کا اظہار کیا۔بعد میں ان بچوں کے ساتھ بتادلہ خیال کرتے ہوئے ان بچوں نے کہا کہ وہ ایسی گیند سے کھیل رہے ہیں جسے انہوں نے خود ہی بنایا ہے اور کہا کہ انہوں نے کبھی بھی فٹ بال نہیں دیکھی ہے۔کلسوترہ نے گورنر انتظامیہ کی توجہ اس جانب مبذول کی ہے ،تاکہ ان بچوں کو ٹیکنکل ایجوکیشن مہیا کی جائے۔انہوں نے سکولوں میں ناکافی سہولیات کو دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے محکمہ فزیکل ایجوکیشن کو مزید مستحکم بناناے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ ان دور دراز علاقوں کے بچوں کے ٹیلنٹ کا نکھار دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان علاقوں میں بھی سہولیات میسر ہوں ،تو یقینی طور سے وہ ریاست کے ساتھ ساتھ ملک کا نام روشن کریں گے۔
 
 

گول میں سول سائٹی کا اجلاس 

سڑکیں اور طبی و دیگر مسائل زیر بحث لائے گئے 

زاہد بشیر
گول// گول میں سول سائٹی ایک اجلاس منعقد ہواجس میں سو سائٹی کے تمام ممبران نے شرکت کی ۔ اس موقعہ پر سوسائٹی کے صدر شمس الدین نے کی۔اس دوران  ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب ضلع ہسپتال گول کی حالت نہایت ہی خستہ ہے اور بنیادی ڈھانچے کا بھی فقدان ہے جس وجہ سے مریضوں کے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کو بھی کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ہمیشہ عملہ کی قلت رہی ہے اور کسی نے اس کی جانب توجہ نہیں دی ۔ انہوں نے اس موقعہ پر کہا کہ گول سب ڈویژن میں سڑکوں کی حالت انتہائی ابتر ہے اور چاہے وہ پی ایم جی ایس وائی یا محکمہ تعمیرات عامہ کی سڑکیں ہوں ، چلنے کے قابل نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دلواہ کینٹھہ ، گول سلبلہ ، گول جمن ، ہارہ ، ڈھیڈہ ، داچھن ، مہا کنڈ ، بائی پاس گول ، مہا کنڈ وغیرہ تمام سڑکوں کی حالت نہایت ہی ابتر ہے ۔ انہوں نے  کہا کہ لوگوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور دیگر بہت سارے عوامی مسائل بھی درپیش ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں ایک یاداشت گورنر ریاست جموںوکشمیر کو پیش کریں گے تاکہ مسائل کوحل کیاجاسکے ۔
 
 
 

مرکزی معاونت والی سکیم پی ایم اے وائی میں مستحق نظرانداز

محکمہ دیہی ترقی کے ساز باز سے آسودہ حال لوگوں کے نام فہرست میں درج کروانے کا الزام

محمد تسکین
بانہال // محکمہ دیہی ترقی کی طرف سے چلائی جارہی مرکزی سکیم PMAY (پردھان منتری آواس یوجنا)کا سروے دوبارہ کروانے کے باوجود بھی ضلع رام بن کی بیشتر پنچایتوں میں مستحق لوگوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور محکمہ دیہی ترقی  کے ملازمین کی مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے غیر مستحق افراد کو سرکاری سکیموں کا فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ پنچایت چکناڑواو بلاک بانہال کے سرپنچ فاروق احمد نادم نے اس بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ دیہی ترقی کے ملازمین کو ہوش کے ناخن لینے کی صلاح دیتے ہوئے الزام لگایا کہ چند مفاد پرست لوگوں نے مرکزی سرکار کی اس سکیم کے مفادات لینے کیلئے محکمہ دیہی ترقی کے ملازمین کے ساتھ ملی بھگت کرکے اپنا اور اپنے رشتہ داروں کا نام فہرست میں درج کروایا جس سے غریبوں کے نام چلائی جارہی اس سکیم کا مقصد ہی فوت ہوگیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین محکمہ مطابق فہرست ہی مکانات تعمیر کروانے پر عمل کرینگے جس سے عام اور مستحق لوگ نظرانداز ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حق تو یہ ہے کہ سر فہرست پنچایت کے پسماندہ لوگ بشمول بیوائیں، یتیم ومسکین لوگ ہونے چاہئے تھے لیکن ان لوگوں کو یاتو مرتب کی گئی فہرست کے آخیر میں ڈالا گیا یا فہرست سے خارج ہی کر دیا گیا جو کہ سراسر نا انصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرپنچوں کے لئے یہ PMAY سکیم باعث زوال بنی ہوئی ہے اور سرپنچ عوامی حلقوں میں رسوا ہو رہے ہیں اور بے بس ہیں، چونکہ ان کے حد اختیار میں نہ ہے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر فہرست مرتب کر سکیں۔ فاروق احمد نادم نے بتایا کہ ان کی پنچایت میں کئی لوگ من مرضی سے مکانات تعمیر کررہے ہیں جنہوں نے براہ راست محکمہ کے ملازمین سے ہی رابطہ رکھا ہے۔ ایک شخص جو کہ آسودہ حال ہے اور اسی کے بنک کھاتہ میں ایک لاکھ روپیہ ڈالا گیا جب کہ اسی کے برلب ایک بیوہ عرصہ دس سال سے در در ٹھوکریں کھا کھا کر مکان کی بھیک مانگ رہی ہے، لوگ صدقہ فطر دے کر اسے عید پر مدد کرتے ہیں اور سال بھر وہ بھیک مانگ کر بچوں کو پال رہی ہے لیکن اسے پھر PMAY سے محروم رکھ کر ایسے شخص کو مکان دیا گیا جو از خود اپنا مکان تعمیر کرسکتا سکتا تھا اسی طرح پوری پنچایت کا یہی حال ہے اور مستحق لوگوں کو یا نظر انداز کیا گیا یا فہرست کے آخر میں ڈالا گیا ہے۔ فاروق احمد نادم نے گورنر انتظامیہ بالخصوص ڈپٹی کمشنر رام بن، اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ رام بن اور بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر بانہال سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ محکمہ کے ملازمین پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں پرانی عادتوں کو بھول جانے کی تلقین کریں تاکہ مستحقین کو ان کا حق مل سکے۔ اس کے علاوہ سرپنچوں کو کل فہرست میں ترجیحی فہرست مرتب کرنے کا حق دیا جائے تاکہ عوامی اجلاس بلاکر اتفاق رائے سے قرار داد پاس کی جا سکے ۔
 
 

پاڈر کے بچوں میں بے مثال ٹیلنٹ موجود 

کشتواڑ //ہر ایک بچے کے پاس ٹیلنٹ ہے ،فقط اسے نکھار دینے کی ضرورت ہے ،بعض اوقات ٹیلنٹ باہر آتا ہے جبکہ بعض اوقات اسکی کھوج ہی نہیں ہوتی ہے ۔ ان باتوں کا اظہار آل انڈیا کنفیڈریشن آف ایس سی / ایس ٹی ا بی سی کے ریاستی صدر آر کے کلسوترہ نے پاڈر کا دورہ کرنے کے دوران کیا۔ ایک پریس بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے گلاب گڑھ ، پاڈر دیہات میں ایسے چند بچے دیکھے ،جو دھاگے سے بنائی گئی ایک گیند سے کھیل رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے وہ اس گیندسے کھیل رہے تھے ،اس سے آدمی حیران ہو جاتا تھا۔کلسوترہ نے ان بچوں کو اپنی کھیل میں مست دیکھ کر مسرت کا اظہار کیا۔بعد میں ان بچوں کے ساتھ بتادلہ خیال کرتے ہوئے ان بچوں نے کہا کہ وہ ایسی گیند سے کھیل رہے ہیں جسے انہوں نے خود ہی بنایا ہے اور کہا کہ انہوں نے کبھی بھی فٹ بال نہیں دیکھی ہے۔کلسوترہ نے گورنر انتظامیہ کی توجہ اس جانب مبذول کی ہے ،تاکہ ان بچوں کو ٹیکنکل ایجوکیشن مہیا کی جائے۔انہوں نے سکولوں میں ناکافی سہولیات کو دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے محکمہ فزیکل ایجوکیشن کو مزید مستحکم بناناے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ ان دور دراز علاقوں کے بچوں کے ٹیلنٹ کا نکھار دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان علاقوں میں بھی سہولیات میسر ہوں ،تو یقینی طور سے وہ ریاست کے ساتھ ساتھ ملک کا نام روشن کریں گے۔