تازہ ترین

’’مفلسی کا گھروندا‘‘

افسانہ

9 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

غازی سہیل خان
’’فاروق ‘‘نے اپنی جوانی کے دن سادگی سے گزار کر ’’تبسم‘‘ سے نکاح کر لیا کئی ماہ بعد اس کے گھر میں خدا کی نعمت کے طور پر ایک ننھی سی پری نے جنم لیا۔ فاروق صبح کا م کے لئے نکلتا اپنی پیاری سی پری کا معصوم چہرہ دیکھ کر ہی اپنے کام کو جاتا۔ محلے کے مولوی صاحب نے اس پری کا نام ’’شبنم‘‘ رکھا۔ ماں باپ کی لاڈلی شبنم والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھی ۔ فاروق شام کو گھر تھک ہار آکر معصوم بچی شبنم کے ساتھ طوطلی زبان میں باتیں کر کے اپنے دن کی ساری تھکان دور کردیتا۔ اسی دوران ایک دن اپنی شریک حیات تبسم سے باتوں ہی باتوں میں فاروق نے کہا: 
’’آج میری کمر جواب دے گئی ہے، سارا دن مجھے سیمنٹ کے بوریاںایک ٹرک سے اُتار کر دوسری چھوٹی گاڑی میں لادنی پڑیں،آج باقی دنوں کی نسبت مجھے کچھ زیادہ ہی کام کرنا پڑا…‘‘
شریک حیات تبسم نے متفکر ہو کرکسی اور جگہ کام کرنے کا مشورہ دیا،جہاں پہ قدرے آرام ملے۔ 
فاروق نے جواباً کہا کہ ’’پھر ہمیں روٹی میں ایک وقت کمی کرنی پڑے گی۔‘‘
 یہ سن کر تبسم نے اپنی ننھی سی کلی شبنم کی طرف رخ کیا اور اس کو ہنسانے میں لگ گئی…!
ماہ گزرتے گئے، چند سال کے بعدفاروق کے گھر میں ایک اور ننھے پھول کا جنم ہوا، جس کا نام بھی محلے کے مولوی صاحب نے ہی ’’ارشد‘‘ رکھا۔اب فاروق کے تھکے ہارے شانوں پر اور زیادہ ذمہ داری آگئی۔ گھر کے غسل خانے کی دیوار میں بھی درارڑیں پڑ گئی تھیں اورفاروق کو اپنے کام کے دوران بھی اس بات کا خدشہ لگا رہتا تھا کہ کہیں گھر کی دیورا ہی کھسک نہ جائے۔ چنانچہ گھر آنے پر تبسم بھی آئے روز فاروق سے غسل خانے کی مرمت کے لئے کہا کرتی تھی۔
بار بار اسی بات کا اعادہ ہو رہا تھا اور کبھی کبھار چڑچڑے پن کے ساتھ کہہ بھی دیتیں کہ آپ کو احساس ہے کہ خدا نہ کرے اگر کسی وقت یہ دیوار گر گئی تو ہم میں سے کوئی نہیں بچ پائے گا…!
بار بار ایک ہی بات سن کر فاروق نے بے بسی کے اندازمیں بولا!
’’ مشکل سے دو وقت کی روٹی میّسر ہو رہی ہے، اوپر سے اچانک تمہاری بیماری کی وجہ سے بھی مجھے مالک سے قرض لینا پڑا۔اب کروں تو میں کیا کروں؟‘‘
شبنم اور ارشدبھی سکول جانے کے لائق ہو گئے تھے اور ان کی تعلیم کا بھی اب بندو بست کرنا تھا۔
چند دنوں بعد فاروق نے اپنے دونوں بچوں کو پاس ہی ندی کے بر لب ایک سرکاری اسکول میں داخل کرا دیا ۔ تبسم کا اب صبح سویرے شبنم اورارشدکو نیندسے بیدار کرتی اور انہیں قریب میں لمبردارصاحب کے لڑکے، جو دارلعلوم سے مولوی کی ڈگری حاصل کر چکا تھا، کے پاس قرآن پڑھنے لے جاتی۔ اس کے بعد دونوں کو اسکول کے لئے تیار کرتی۔ دوپہر کو اگرچہ اسکول میں ہی ایسا تیسا کھانا مل جاتا تھا مگر وہ نہ ہونے کے برابر کی وجہ سےشبنم اور راشدگھر آیا کرتے تھے ۔یہ معمول ان کا ہائی اسکول لیول تک رہا۔راشد نے تو کسی طریقے سے انگریزی مضمون میں اسٹیچیو نمبرات لے کر ہائی اسکول پاس کیا لیکن شبنم نے اسکول میں  فسٹ پوزیشن حاصل کر کے اپنا لوہا منوایا…!
امتحانی نتائج کے بعد فاروق کے گھر میں پڑوسیوں کے علاوہ اپنے رشتہ داروں کی قطارلگ گئی۔ کوئی شبنم کو مبارک باد دیتا تو کوئی فاروق کے ساتھ پیار ومحبت کا اظہار کرتا۔ شبنم کی خالہ نے مبارکبادی میں مٹھائیوں کا تحفہ پیش کیا۔فاروق اور تبسم اپنے دونوں بچوں کے لیے بس کامیابی کی دعائیں کرتے تھے۔ مہمانوں کی آمد کا یہ سلسلہ کئی روز تک جاری ،مہمانوں کے آنے جانے سے گھر کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مشکلات آگئیں …!
شبنم اور راشد کو ہائر اسکنڈری میں داخلہ لینا تھا مگر ہاتھ کی تنگی کی وجہ سے فاروق اس پر تیار نہیںتھا۔ اگلے دن کام پر نکلنے سے پہلے فاروق اپنی بیوی بچوں سمیت کچن کی بوسیدہ دیوار سے لگے پھٹے تکیوں کے ساتھ ٹیک لگا کر آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کس طرح شبنم اور راشد کی آگے کی پڑھائی کا انتظام کیا جائے …؟
فاروق نے بے بسی کے عالم میںتبسم سے کہا کہ ’’مجھ سے ان کو مزید پڑھانے کی طاقت نہیں… کیوں نہ راشد میرے ساتھ دن میں میرا ہاتھ بٹائے، ارشد کے کام کرنے سے مالک بھی خوش ہو جائے گااور بقیہ قرضہ بھی جلدی ادا ہو جائے گا،اس کے بعد ہی مالک سے ضرورت پڑنے پر مزید اُدھار لے سکتے ہیں…!
راشد نے جلدی سے اُبو کی حامی بھر لی اور بہادری سے بولا…’’ابو میں آپ کے ساتھ چلوں گا، آپ کا ہاتھ بٹاؤں گاپھر اور اس کے بعد ہم اپنے غسل خانے کی بوسیدہ دیوا رکو بھی ٹھیک کر پائیں گے۔‘‘اس حوصلے اور ہمت کو دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی والدین تیار تو ہوگئے لیکن ماں نے اپنی بیٹی شبنم کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ’’یہ اچھا پڑھتی ہے، اس لیے میں بھی کسی کے گھر میں کام کرنے جائونگی تاکہ ہم اپنی بیٹی کو پڑھاسکیںگے۔‘‘ فاروق نے شرمسار ہو کر گردن جھکا کر ہی ’’ٹھیک ہے‘‘ کہہ دیا…!
اگلی صبح تبسم نے راشد اور شبنم کو جگایا اور ٹھٹھر تی سردی میں ہاتھ مُنہ دھو کر ان کو مولوی صاحب کے پاس بھیج دیا اور یہ سلسلہ شبنم کی ہائر اسکنڈری لیو ل تک چلتا رہا۔  ایک دن فاروق نے اپنی معصوم اور ہونہار بیٹی شبنم سے کہا کہ ’’بیٹا زمانہ خراب ہے اب درسگاہ اور اسکول جانا بند کر دو ہم کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے اب آپ کی شادی کی فکر کرنی ہے ۔‘‘
نوجوانی کی عمر کی دہلیز پر پہنچنے کے باوجود بھی تبسم راشد اور شبنم کو صبح نیند سے جگاتی، ہاتھ منہ دھلاتی اورمولوی صاحب کے پاس بھیجتی تھی۔ دراصل تبسم کو شوق تھا کہ اُسکے بچے پڑھیں ۔اب جیسے جیسے بچے جوان ہوتے گئے ویسے ہی فاروق اور تبسم کو ان کی شادی کی فکر لاحق ہو گئی…!
فجر کی نماز کے بعد سوکھی روٹیوں کے ساتھ چائے پی کر دونوں اپنے مکان کی باہر والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے باتیں کرتے رہے اور فاروق بار بار تبسم سے اپنی بے بسی کا اظہار کرتا رہا،تبسم نے بھی دلاسہ دیا کہ ’’راشد کی کوئی پرواہ نہیں، ابھی بس آپ شبنم کی شادی کے حوالے سے ہی سوچیں، اب شبنم جواں ہو گئی ہے، ویسے بھی لڑکیوں کا شادی کے لئے انتظار ٹھیک نہیں، زمانہ بہت ہی خراب ہے…!‘‘
فاروق نے آہ بھرتے ہوئے کہا ’’کیا کروں سماج میں کے رسوم و رواج کا۔ علاقے میں رواں ماہ دو شادیاں ہوئیں، دونوں نے لاکھوں روپے خرچ کئے، ہمارے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔‘‘
تبسم نے کہا کہ ’’کوئی اور نہیں مولوی صاحب تو ہمیں ہر بار یہی بولتے ہیں کہ اسلام رسوم و رواج کا خاتمہ چاہتا ہے او ر برکت والی شادی بھی وہی ہے جو رسوم و رواج سے پاک ہو، تم فکر نہ کرو ہماری شبنم کی ایسی شادی ہو گی جس میں کسی رسم ورواج کا کوئی دخل نہیں ہو گا۔ ہم تو ایسے دین کے پیروکار ہیں جو ہمیں ہر وقت اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘
سے شبنم دیوار کی آڑ لئے چھپ کر یہ ساری باتیں سُن رہی تھی ، کچھ دیر بعد وہ کچن کے ساتھ والے کمرے کے کونے میں بیٹھ کر گئی اور سوچ میں پڑ گئی کہ ’’یا خدا! کیا میرے ہاتھ پیلے بھی ہو پائیں گے…؟ کیا ایسا بھی ہوگا ؟؟؟؟‘‘
اتنے میں شبنم کی ماں تبسم اندر آئیں اور سب کے لیے کھانا پروسا اور کھانا کھا کر سب سو گئے۔اگلے روز جمعہ کا دن تھا ،سب صبح اُٹھے اور دوپہر کے ساتھ ہی جمعہ کی نماز کی تیاری کر نے لگے۔ مؤذن مولوی صاحب کے لئے مائک ٹھیک کر رہے تھے …بار بار ’’ہیلو ہیلو‘‘ کی آوازیں نکال کر اسی کوشش میں تھے کہ کہیں مائک اچانک سے بیٹھ نہ جائے اور بعد میں مولوی صاحب کی ڈانٹ ڈیٹ نہ سُننی پڑے۔ ابھی مؤذن مائک کاٹیسٹ ہی کر رہے تھے کہ فاروق اور ارشد مسجد میں داخل ہوئے۔ مولوی صاحب ان سے چند لمحے قبل ہی مسجد آگئے تھے ۔
اس دن مولوی صاحب نے شادیوں میں رسوم و رواج کے خاتمے کے لئے واعظ فرمایا ۔ زبر دست طریقے سے مولوی صاحب نے لوگوں کو سمجھایا کہ شادی کو آسان بنائو ،بُرائیاں خود بہ خود ختم ہو جائیں گی ۔مولوی صاحب کی نصیحتیں سننے کے بعد فاروق گھر آیا اور تبسم ،شبنم اور خدیجہ آپا جو پاس میں ہی رہتی تھیں کے سامنے وعظ کو دہرایا کہ ہمیں چاہیے کہ شادیوں میں رسوم و رواج کا خاتمہ کریں تبھی جا کر غریب اور بے سہارا لڑکیوں کے ہاتھوں میں مہندی لگ سکتی ہے ۔ یہ بات سُن کر تبسم کو تو خوشی ہوئی کہ اب ہم اپنی بیٹی کی شادی شریعت کے مطابق کر سکتے ہیں، ہمیں کوئی رشتہ دار یا پڑوسی اب تانے نہیں دے سکتا کہ ہم غریب اور مفلوک الحال ہیں…!
پاس ہی بیٹھی شبنم نے بھی چپکے سے خوشی کے آنسو بہا کرابو کودیکھا اور دل ہی دل میں یہ سوچتی رہی کہ ’’یا اللہ اب میرے ہاتھوں میں بھی مہندی لگ سکتی ہے کیا…؟ میرے ہاتھ بھی پیلے ہوںگے کیا…؟؟؟یا دنیا میں ایسے ہی حق پرست علماء کو پھیلا دے۔‘‘ یہی سوچ سوچ کر آخر کار شبنم کی آنکھ لگ گئی ۔ 
نومبر کی شام تھی کہ شبنم نے اچانک سے غسل خانے کی بوسیدہ دیوار سے نظریں جیسے ہی باہر دوڑائیں تواچانک سے ایک چیخ نکلی… امی نے یہ دیکھا کہ کہیں بوسیدہ دیوار شبنم کے اوپر تو نہیں گر گئی…!لیکن اندر جاتے ہی شبنم نے امی کو ہاتھ سے اشارہ کر کے باہر نظریں رکھنے کو کہا…لمبر دار صاحب یعنی مولوی صاحب کے گھر کو چاروں طرف سے چراغاں کیا گیا تھا… ابھی یہ اسی کا نظارہ ہی کر رہے تھے کہ اچانک سے ڈول اور پٹاخوں سے سارا محلہ گونج اُٹھا…پاس ہی آگ کے الاؤ بھی جلتے دیکھے جہاں دیگوں اور دیگچوں کی ایک لمبی قطار کو آگ پر گرمایا جا رہا تھا…یہ منظر دیکھنے کے بعد دونوں ماں بیٹی اندر آگئیں!
جب فاروق گھر آیا تو تبسم نے کہا کہ مولوی صاحب کے گھر میں چراغاں کیوں ہے …؟فاروق نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا کہ مولوی صاحب کی بہن کی شادی ہے…!
 
٭٭٭٭٭٭
کشمیر،موبائل نمبر؛9906664012
ghazisuhail09@gmail.com