راستہ

افسانہ

9 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نواب دین کسانہ
سیاہ رات گذرتے گذرتے اپنی گذرگاہوں کی آخری حدوں سے گذررہی تھی ۔ہرطرف سکوت کاعالم طاری تھااورپھرآہستہ آہستہ اندھیروں کی کوکھ سے سحرکااُجالہ نمودارہونے لگاتھا۔پرندے گھونسلوں میں بیٹھے حمدوثناکے نغمے گاگاکر آمد ِ سحرکوخوش آمدیدکہہ رہے تھے اورپھرتھوڑی ہی دیرکے بعدجب سحرکے آثاررات کے اندھیروں کوآخری بارالوداع کہہ رہے تھے تومساجدسے اذانوں کی رُوح پرورآوازیں بلندہونے لگی تھیں۔ یہ مخلوقِ خدا کواصلاح وفلاح کی اعلانیہ دعوت تھی مگرمجھ پربدستورنیندکاغلبہ طاری تھا۔اگرچہ سامنے کی گلی میں آتے جاتے نمازیوں کی کھسرپھسرمُجھے بھی ادائیگی ٔ نمازکیلئے اُبھاررہی تھی مگرمن پاپی تھاکہ مانتاہی نہیں تھا۔خوابیدہ ضمیراوّل توانگڑائی لیتاہی نہیں تھااوراگرکہیں لے بھی لیتاتو میرے اندرکاروایتی شیطان اِسے مصلحت کی ایسی ایسی میٹھی لوریاں سناکرسلاتاکہ پھرمشکل سے جگائے جاگتاتھا۔ابھی اِسی کشمکش میں مبتلاتھاکہ یکایک مجھے ایسامحسوس ہوا جیسے کہ بجلی اچانک آکرچلی گئی ہویاپھرآرام سے جل رہی شمع کوہواکے کسی ظالم جھونکے نے بُجھادیاہو۔یہ بجلی گئی نہیں بلکہ گرچکی تھی ۔میں مرچکاتھا۔میر ی رُوح قفسِ عنصری کوچھوڑکرعالم بالاکی جانب محو ِ پرواز تھی۔رُوح وبدن کے درمیان اب زمین وآسمان کے فاصلے تھے اورپھرتھوڑی دیربعد مری رُوح اُن ہانکوں کی سماعت کررہی تھی جویکے بعددیگرے کوہستان ئیارک کی چھوٹی چھوٹی بستیوں سے ایک دوسری کولگائی جارہی تھیں۔ان ہانکوں کے ذریعے مری موت کی خبردی جارہی تھی ۔بستی بستی ایک ہی صداگونج رہی تھی ،
’’آج شہاب دین مرگیا۔بعددوپہرنمازظہرکے بعدرُوپ مہدواکے مرکزی قبرستان میں اسکی نمازِ جنازہ ہوگی ‘‘۔
اورپھرہرایسی ہانک کے جواب میں دریافت کیاجاتاتھا،
’’کون شہاب دین؟‘‘
اس دریافت کی وجہ شائدیہ بھی تھی کہ وہاں ایک میں ہی شہاب دین نہیں تھابلکہ میرے اوربھی کئی ہمنام تھے اورپھرجواب میں میری ولدیت،پیشہ اورآبائی محلّے کانام بتایاجاتاتھا۔روح وبدن کی جُدائی کادرداپنی جگہ مگرمیری رُوح یہ دیکھ کرقدرے مسُروربھی تھی کہ ان ہانکوں کی گونج کے تھوڑی ہی دیربعدلوگ کوہستان ئیارک کی چھوٹی چھوٹی بستیوں سے  قافلہ درقافلہ دریائے ردّد کے کنارے اُس مقام پراُترنے لگے تھے یہاں سے شہرمیں واقع میری رہائش گاہ کیلئے گاڑی جاتی تھی۔میری رُوح ان لوگوں کے درمیان اپنے متعلق ہورہی گفتگوسماعت کررہی تھی ۔ان میں سے کچھ کہہ رہے تھے ،
اِس کے جنازے میں نہیں بھی جاتے توکوئی بات نہیں تھی مگرکریں کیا؟اس کی وجہ سے نہیں اِس کے باپ کی وجہ سے جاناپڑتاہے ۔وہ ایک اچھاانسان ہے۔ جب تک اُسکی ٹانگیں اُس کا ساتھ دیتی رہیں ،وہ برادری میں سب کے سُکھ دُکھ میں برابرکاشامل رہا۔اسکے منہ کی طرف دیکھتے ہیں توجاناپڑتاہے ورنہ اِس کیلئے کون ٹانگوں کاتیل نکالتاہے ‘‘۔
ایک دوسرے نے کہا،
’’باپ اِس کااچھاسہی مگرخود تویہ مسلمان بھی نام کاہی تھا‘‘
اب تیسرے نے فتویٰ صادرکیا،
’’اس کا کبھی کسی کوکچھ سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیاتھا۔نہ دین تھانہ شہاب تھا۔یہ تومکمل طورپراپنے نام کی نفی تھا۔ہاتھ کاتنگ تودِل کاسخی تھا۔ خیراِن باتوں کوچھوڑئیے ہم اپنافرض اداکرنے جارہے ہیں ۔اب یہ توجواب دہی کی منزل پرآپہنچا۔اِس کاجواب ہم نے نہیں۔ اِسی نے دیناہے ‘‘۔
یہ سنناتھاکہ میری رُوح پریاس وحسرت کے گہرے بادل چھاگئے ۔ایسے لگ رہاتھاجیسے جنازے میں شامل ہونے والوں کومیری قبرسے زیادہ اپنی قبرنظرآرہی تھی۔ دُنیامیں ہرآنیوالاآتاتواکیلاہی ہے مگردُنیاسے واپسی پراپنی دائمی آرام گاہ تک پہنچنے کیلئے نہ جانے کیوں اِسے بھیڑکے ساتھ جانے کی خواہش ہوتی ہے اورپھر بھیڑبھی وہ جواس کیلئے نہیں بلکہ کبھی اپنی قبرکیلئے توکبھی کسی کے باپ کاقرض چکانے آتی ہے۔
اورپھرکچھ ہی دیربعدلوگوں کی اچھی خاصی تعدادمیرے گھرکے آس پاس جمع تھی ۔جہاں میراجسدِ خاکی دُنیاکی بے ثباتی کاایک المناک منظرپیش کررہاتھا وہاں چندلوگوں کوچھوڑکرباقی سب بُری طرح ثبات ِ عالم کے سراب میں کھوئے ہوئے تھے ۔ان کے زیرگفتگوموضوعات میں کہیں ملازمت ،کہیں مال مویشی ،کہیں زمینداری ،کہیں سیاست توکہیں قیادت تھی۔ اگرکہیں کوئی نہیں تھاتووہ میںتھااورکہیں تھابھی توشہاب دین کے نام سے نہیں،’میت‘ کے نام سے تھا۔کوئی بھی میرانام لیکرمیراذکرنہیں کررہاتھا۔میت کے نام سے کررہاتھا۔تھوڑی دیربعدبھیڑمیں سے آوازیں آنے لگی تھیں’’میت کوجلدی نکالو۔جنازے کودیرہورہی ہے ‘‘۔
ایسا لگ رہاتھاجیسے سب میرے روکے ہوئے رُکے تھے ۔سب کواپنے نکلنے کیلئے میرے نکلنے کاانتظارتھا۔
پھرکچھ دیربعد غسل کامرحلہ آیا۔میں جوکبھی دوآدمیوں کے سامنے بھی کپڑے اُتارنے سے ہچکچاتاتھا، آج میری رُوح بڑی بے بسی سے مجھے دوسروں کے ہاتھوں بے لباس ہوتادیکھ رہی تھی ۔آج رُوح وجسم کی حالت دریاکے آمنے سامنے چلنے والے دوکناروں کی مانندتھی، جوآمنے سامنے چل توسکتے ہیں مگرمل نہیں سکتے ۔غسل کے بعدمجھے ایسے اَن سِلے کپڑوں میں کفنایاجارہاتھا جنہیں زندگی میں پہننے کامیں نے کبھی سوچاتک نہیں تھا۔
آج میں ہرلحاظ سے خالی کاخالی تھا۔نہ میرے پاس مال تھانہ اعمال تھے ۔آج جس سفرپر جارہاتھا اس میں مال کی نہیں  اعمال کی ضرورت تھی لیکن میرے کھاتے میں نیک اعمال ہوتے توکیسے ؟میں توساری عمردُنیاکے پیچھے بھاگتارہا۔اِس بھاگ دوڑمیں دُنیاتو کبھی ہاتھ آئی نہیں مگردین سے بھی جاتارہا ۔آج جب حقیقی زندگی کے پہلے زینے پرقدم رکھ رہاتھاتوگناہوں کے بوجھ سے میری کمردوہری ہوتی جارہی تھی مگرکرکچھ نہیں سکتاتھا۔کچھ کرسکنے کاوقت ہاتھ سے نکل چکاتھا۔آج میں رُورہاتھا اوروقت مجھ پرہنس رہاتھا۔ 
غسل کے بعدجب چارپائی پرمیرے جسدِ خاکی کورکھ کرمیرے چہرے کادیدار کرایاجارہاتھا توبہت سارے ایسے لوگ بھی آگے بڑھ بڑھ کرمیرامنہ دیکھ رہے تھے جنھوں نے جیتے جی کبھی مجھے منہ لگاناتک گوارانہیں کیاتھا۔اب جنازہ قبرستان لے جانے کیلئے تیارتھا۔
میرے بچّوں اورعزیزواقارب کاشدّ ِت غم سے برُاحال تھا۔عمررسیدہ والدتوجیسے میرے مرنے سے پہلے ہی مرگئے تھے۔وہ ایک ہی بات بارباردہراتے تھے ،
’’ابھی جانے کاوقت تیرانہیں میراتھا۔تونے پہل کرکے یہ کیوں چھین لیا‘‘
اُدھرمیری بیوی عورتوں کے جھرُ مٹ میں ادھ مری کھڑی تھی۔اُس کی حالت کسی ایسی بدنصیب گاڑی سے مختلف نہیں تھی جسکا ایک پہیہ کہیں ٹوٹ کرگِرچکاہو۔
مگراِن سب رونوں میں بے بسی کارُونا میری بیٹی کاتھا جس کے متعلق اکثرمیں کہاکرتاتھا،؎ 
تُو میری آنکھوں کانُو رہے
تُو میرے دِل کاسُرور ہے 
وہ بیٹی آج آنسوئوں کے دریابہارہی تھی مگرمیں اُسکے آنسو تک نہیں پونچھ سکتاتھا۔آج میری بے بسی دیکھنے کی چیزتھی۔
پھرقبرپرمنوں مٹی ڈالنے کے بعدمیرے عزیزواقارب ،رشتہ داراوربرادری کے بڑے بڑے سیانے الگ کھڑے تھے ۔ان میں سے ایک اکرم صاحب ذراہٹ کرکھڑے ہوئے اورپھرہانک لگانے کے اندازمیں قبرستان میں موجودلوگوں سے مخاطب ہوکرکہنے لگے ،
’’گھرپرکھاناتیارہے ۔کھاناکھائے بناکوئی نہ جائے ‘‘۔
اتناسنناتھاکہ میری بے بس رُوح تلملاکررہ گئی ۔ کیساکھانا؟ ۔کونسا کھانا؟میں نے تویہی سنااور پڑھاتھاکہ جس گھرمیں موت واقع ہوجاتی ہے وہاں تین دن نہ چولہاجلتاہے نہ کھاناپکتاہے ۔سوگواراہل ِ خانہ کوتین دن کھاناکھلانےکی ذمہ داری پڑوسیوں کی ہوتی ہے مگراکرم صاحب نے اِسی پراکتفانہیں کیا بلکہ میری رُوح پرتواسوقت بجلی سی گرگئی جب اس کے ساتھ ہی انہوں نے دوسرااعلان کرنے سے پہلے میرے بیٹے احمدفرازکوبلاکرکہا،
’’وہ ’دِن وار‘وغیرہ مقررکرنے ہیں نا۔اِ س سے پہلے تو قبرپرہی مقررکرتے آئے ہیں۔ بہترہے آج بھی اِدھرہی مقررکردیتے ہیں تاکہ سب کوالگ الگ خبرکرنے کے بجائے اِدھرہی خبرہوجائے ‘‘۔
احمدفرازنازونعم میں پلا ہواایسابچہّ تھا جسے ابھی دُنیا کی اونچ نیچ کاکوئی خاص تجربہ نہیں تھا۔باپ کے راحت بخش سائبان تلے زندگی کے سردوگرم نے اُسے ابھی چھُواتک نہیں تھا۔اکرم صاحب سے یہ سناتوپریشانی سے پوچھنے لگا۔
’’چچاجان کونسے اورکیسے دن وار؟‘‘
وہ یہاں تک ہی بول پایاتھا کہ اکرم صاحب اُبل پڑے ،
’’تم پڑھ لکھ کربھی نِرے ان پڑھ ہی رہے ۔دن وارمنانے تک کاپتہ نہیں ۔جاہل کہیں کے ‘‘۔
پھراکرم صاحب نے احمدفراز کودنوں واروں کی تفصیل اسطرح سمجھائی ،
’’چوتھا،دسواں اور چالیسواں۔چوتھے اورچالیسویں کے درمیان آنے والی ہرویروار (جمرات) کوختمات المعظمات کااہتمام اور پھرسال مکمل ہونے کے بعد برسی کادِن جِسے ہمارے ہاں ’’ورے کادِن‘‘ کہتے ہیں ۔چوتھے کے دِن اورپھرچوتھے اورچالیسویں کے دوران آنیوالی ویرواروں کوتوگھی ،شکراوردال مرغ سے ہی کام چل جائے گامگردسواں جس کاآج ہم یہاں دن وارمقررکرنے جارہے ہیں کاخاص اہتمام کرناپڑے گا۔اُس دِن گھی،شکر،دال اورمرغے کے ساتھ ساتھ دس بارہ صحت مندبکروں کاانتظام لازمی ہوناچاہیئے ‘‘۔
اتناسنناتھا کہ احمدفرازکے چہرے پرہوائیاں اُڑے لگیں ۔اگرچہ اُس نے دین کے بارے میں کچھ خاص توپڑھ نہیں رکھاتھا مگرباپ کی زندگی میں گھرمیں دین کے حوالے سے ہونے والی گفت وشنید وہ بڑے غورسے سناکرتاتھا۔کچھ انہی باتوں کے زیراثر اُس نے اکرم صاحب سے کہا،
’’مگرچچاجان اسلام میں توسوگ تین دن سے زیادہ رواہی نہیں ہے اور پھر اگر خود آقائے نامدارجناب محمدصلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام کے زمانے میں سوگ کی مُدت تین دن سے زیادہ نہیں تھی اورنہ ہی اسطرح کے دِن وار منانے کاچلن  تھا توپھربطورِ مسلمان ہمارے لیے ان خودساختہ رسوم کو منانے کی جوازیت کیاہے؟ ‘‘۔
ابھی وہ یہاں تک ہی بول پایاتھا کہ اکرم صاحب کے غیض وغضب کے بارُود نے ایک دفعہ پھرآگ پکڑلی ۔گرج کربولے ،
’’ہم تواُسی طریقے کی پیروی کریں گے، جس پرچلتے ہم نے اپنے باپ داداکوپایاتھا۔ آخرہم کوئی اُن سے زیادہ سیانے تونہیں ہوگئے ہیں‘‘۔
پیشتراِس کے کہ احمدفرازکچھ بولنے کی جسارت کرتا ،میرے پرانے رفقاء میں سے ایک احمدکبیر، جوپاس ہی کھڑے تھے، اکرم صاحب سے مخاطب ہوکربول پڑے،
’’ اکرم صاحب مسلمانوں کادستور حیات قران کریم ہے۔معاملات ِ زندگی کارہنماہے اوریہی قرانِ مجید فرما رہاہے کہ اگرتمہارے باپ دادانے عقل سے کام نہیں لیاتوپھرکیاان ہی کی پیروی کئے جائوگے ۔ایسے لوگوں کی حالت اُن جانوروں سے مختلف نہیں ہواکرتی ہے جوچرواہے کی آوازتوسُنتے ہیں مگرآوازکامفہوم نہیں سمجھتے۔ بس آوازکے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔کیایہ اچھانہیں ہوگاکہ معاملات ِ زندگی میں ہم جانوروں جیسا رویہ اپنانے کے بجائے انسانی رویہ اپنائیں‘‘۔
اِس سے پہلے کہ اکرم صاحب اپنی بات مکمل کرتے میراایک چھوٹابھائی انکی بات کاٹتے ہوئے بیچ میں بول پڑا،
’’لگتاہے تم پڑھے لکھے لوگوں کے دِماغ میں کوئی خلل آگیاہے ۔اتنابھی معلوم نہیں کہ سماج نام کی بھی کوئی چیزہوتی ہے ۔بات اسطرح کرتے ہیں جیسے کہ اِن سے قبل اسلام کاکسی کوکچھ معلوم ہی نہیں تھا۔جانے خدایہ اسلام کے نئے پیروکار کہاں سے چلے آئے ہم تو وہی کرینگے جوکرتے آئے ہیں ‘‘۔
اب احمدکبیر صاحب نے پھرٹھہرے ٹھہرے لہجے میں بولنا شروع کیا،
’’جویہ تم بول رہے ہودھرم نہیں ہٹ دھرمی ہے ۔اِسلام ہم نے اپنایاہے عملایانہیں۔ جاناہے پہچانانہیں ۔اِسلام کااپناایک طریقہ ،سلیقہ اورتہذیب ہے ۔اگرکسی نے اسلام اپنایاہے تواُسے اپناطورطریقہ اسلامی طورطریقے کے تابع رکھناچاہیئے نہ کہ اپنے ہی روایتی طورطریقے پرعمل پیرارہ کر اِسے اسلام کانام دیناچاہیئے۔اسلام سلامتی کانام ہے ۔معاملاتِ زندگی کاتعلق خواہ خوشی یاغمی کے مواقع سے ہو،اسلامی اصولوں کے اپنانے میں بھلائی ہے۔اچھائی ہے ،صفائی ہے جبکہ روایتی اصولوں کے اپنانے میں برائی ہے ،بربادی ہے۔کسی کو بُرائی پسند ہوتووہ پسندکرے مگربرائی کواچھائی کانام تونہیں دیناچاہیئے کیونکہ اس سے اچھائی بدنام ہوتی ہے ۔اسلام دین فطرت ہے ۔اللہ کی طرف سے آیاہے ۔اللہ کابتایاہواراستہ ہے ۔تم اپنی ان رسومات کی انجام دہی کیلئے اتنے ہی بضدہوتواِنہیںانجام دو مگراپنے خودساختہ راستے پرچلنے کواسلامی راستے پرچلناتونہ کہو۔بے راہی کوراہ نہیں کہناچاہئے ۔
انسان ہرعہد میں سلامتی کامتلاشی رہاہے ۔انسان کی اِسی تلاش اورپیاس کے جذبے کے مد ِ نظر اللہ تعالیٰ اُسے یکے بعددیگرے مختلف ادوار میںاپنے احسانات سے نوازتاگیا۔انبیاء کرام کے ذریعے کُتب آسمانی کی صورت میں اسکی رہنمائی کے سامان مہیاکرتارہا۔ مگریہ ابن ِ آدم مسلّسل بگاڑاورانحراف کی راہیں نکالتارہا اوربربادہوتارہا۔ قوموں کی قومیں مٹ گئیں ۔بربادہوگئیں ۔بگاڑ،سدھاراوراحسانات کایہ سلسلہ چلتا رہا اور ہوتے ہوتے جب بگاڑاپنے عروج پرپہنچ گیاتو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنا آخری نبی ؐ اورآخری کتاب بھیج کراپنے احسانات کاسلسلہ مکمل کردیا۔اب نہ کوئی نبی آئے گا ،نہ کتاب آئے گی اورنہ ہدایت۔ اب اگراِس آخری سدھارکی راہ کوچھوڑکر تم نے بگاڑکی کوئی من چاہی راہ اپنائی تویہ تمہاری تباہی ہوگی ۔اب اسی بات کو لے لوجسے کرنے کرانے پرتُم تُلے بیٹھے ہو۔ اسلام کاراستہ ہے کہ ایسے معاملات میں ہمیںاُس مال سے خرچ کرناچاہیئے جواپنی ضروریات پوری کرنے بعدبچاہو۔ مگرتمہاراطریقہ اسلامی نہیں روایتی ہے جوکہتاہے کہ ناک بچانی فرض ہے، چاہے اورکچھ بچے نہ بچے ۔اب تم ہی بتائو جس طریقے کے اپنانے میں انسان قرض میں ڈوب جائے، برباد ہوجائے، مرحوم ہوچکے شخص کی رسومات نبھاتے نبھاتے اپنے اہل وعیال کی جائزضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوجائے تویہ کونسااسلام ہے؟۔ اسمیں کون سی سلامتی ہے ۔سنو! یہ اسلام نہیں ،اسلام کے نام پراسلام کی بدنامی ہے ۔اس میں نہ دین ہے نہ دُنیاہے ۔آپ جائزاورناجائز کو تعدادکے پیمانے میں تول کرجاننے اورماننے کے عادی ہو۔ جس راستے پر لوگوں کی بڑی تعدادچل رہی ہوتی ہے اُسے درست مانتے ہیں اورجس پرتھوڑے لوگ چل رہے ہوں تونہ اُسے مانتے ہیں نہ اُس پرچلتے ہیں ۔دھارے کے ساتھ ساتھ بہنے والے تنکوں کامقدّر ٹھوکریں کھانے کے سوِا اورکچھ نہیں ہوتا ۔ اِنہی تنکوں کی اپنی شناخت اورپہچان ہوتی ہے جوکناروں پہ لگنے کی راہیں نکال لیتے ہیں یاکنارے لگ جاتے ہیں ۔تمہاری یہ روش غیراسلامی اورغیرانسانی ہے ۔اسلام ہربات میں تحقیق کاحکم دیتاہے مگرتم نے اِس بات پرکبھی تحقیق کرنے کاسوچاتک  نہیں کہ کیوں اللہ تعالیٰ قران میں اپنے محبوب سے مخاطب ہوکر کہتاہے کہ اے نبی ؐ اگرتم اِن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پرچلوگے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادیں گے ۔تمہارامعاملہ عجیب ہے۔خداکومانتے ہو ۔خداکی نہیں مانتے ہو۔نبی ؐ  کومانتے ہو ،نبی ؐ  کی نہیں مانتے۔ قران کومانتے ہو ۔قران کی نہیں مانتے۔ماننے کے معاملے میں ہرایک کودوسرے کاانتظار ہے ۔نہ ایک خداکے راستے پرچلتاہے ۔نہ سارے چلتے ہیں ۔پہل کیلئے سب ایک ددسرے کامنہ دیکھ رہے ہیں۔ایک کوسب کاتوسب کوایک کاانتظارہے ۔نہ ایک حق کے راستے پرچلتاہے نہ سب چلتے ہیں ۔مسلسل ہٹ دھرمی کے راستے پر چلے جارہے ہیں۔کیایہ بہترنہیں ہوگا کہ جس راستے پرچلنے کیلئے ہم دوسروں کی پہل کے منتظرہیں ،خوداُس پرچلنے میں پہل کریں ۔آگے چلیں گے توکوئی پیچھے چلنے والابھی چلاآئے گا۔دوستو!راستہ بنانامشکل ہے ۔تم راستہ بناتے جائو۔ چلنے والے خودچلے آئیں گے ‘‘۔
اکرم صاحب کی ان باتوں سے احمد فراز کوکچھ حوصلہ ملا تواُسنے پھرکہا ،
’’معززبزرگو!سچ کہوں توضروریات سے زیادہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔پاپاکی زندگی ایسی گذری کہ ایک ہاتھ سے آتارہاتودوسرے سے جاتارہا۔بچت کاکبھی انہوں نے سوچاہی نہیں ۔ اب اگرمیں اسلامی طریقے کوچھوڑکرروایتی طورطریقہ اپنائوںتوقرض کی ایک ایسی دلدل میں ڈوب جائوں گاکہ مُدّتوں تک اُس سے باہرنہیں نکل پائوں گا ‘‘۔
ابھی احمدفراز یہی تک کہہ پایاتھاکہ میرابھائی ایک مرتبہ پھر خم ٹھونک کربیچ میں آگیا۔بولا،
’’ساری عمرکماتے رہے ۔مگرپھربھی خالی کے خالی رہے۔ اسطرح منہ پھیلائے باتیں کرتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی ہے ۔اتنابھی پتہ نہیں موقع کونسا ہے ۔ان تقریربازوں کاکیاجاتاہے۔انہیں توبس تقریرکیلئے موقع چاہیئے مگر ان بڑبولوں کوکیامعلوم کہ یہاں توناک کاسوال ہے۔ یہ اورانکی تقاریراپنی جگہ مگرہم دن وارتواُسی طرح منائیں گے ،جسطرح مناتے آئے ہیں‘‘۔
اتناسنناتھا کہ احمدفرازجہاں کھڑاتھاوہی چکرکھاکردھڑم سے زمین پر گر گیا۔ دھڑم کی آواز سن کرمیں ہڑبڑاکراُٹھ بیٹھا تومجھے یہ دیکھ کرتسلی ہوئی کہ میں صحیح سلامت اپنے بڑے ماماجی کے آنگن میں چارپائی پربیٹھا آنکھیں مل رہاتھا۔صبح روشن کی نقرئی کرنیں آنگن میں دُوردُورتک پھیل چکی تھیںاورمیری بزرگ ممانی مشتاق بی بی چائے کی پیالی ہاتھ میں تھامے سامنے کھڑی بڑے پیارسے کہہ رہی تھی ،
’’اُٹھو بیٹاشہاب ۔خلافِ معمول آج تُم بہت سوئے ہو ۔تمہاری آج کی نمازبھی گئی ۔اُٹھواب چائے تولے لو‘‘۔
���
کوہُسارکرائی اُودھمپور
رابطہ نمبر۔9419166320

تازہ ترین