تازہ ترین

بٹہ گنڈ ویری ناگ کانوجوان 14برسوں سے نظر بند

عید کے دن افراد خانہ وپڑوسیوں کا خاموش احتجاج

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عارف بلوچ
اننت ناگ//بٹہ گنڈ ویری ناگ کے ایک کنبہ نے 14 برسوں سے نظر بند پیر زادہ محمد اشرف کی رہائی کیلئے عیدالفطر کے روز خاموش احتجاج کرتے ہوئے عید نہیں منائی ۔ احتجاجیوں نے ہاتھوں میں موم بتیاں اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جن پر ہماری کوئی عید نہیںکیونکہ ہمارا بھائی14برس سے مقید ہے جیسے الفاظ درج تھے ۔احتجاجیوں نے اشرف کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ہیرا نگر میں نظر بند اشرف کے اہل خانہ اور پڑوسیوں نے عیدالفطر کے روز بٹہ گنڈ میں ایک خاموش احتجاج کرتے ہوئے عید نہیں منائی ۔ 19جولائی2004میں کپرن میں ہوئے گرنیڈ حملہ ،جس میں چیف انجیئنر آر اینڈ بی سمیت کئی افراد مر گئے تھے اور کئی ایک زخمی بھی ہوئے تھے ، کے سلسلے میں 35سالہ پیر زادہ محمد اشرف ولد پیرزادہ غلام نبی ساکنہ بٹہ گنڈ ویری ناگ کو دسمبر2006میںگرفتار کیا گیا تھا۔گرفتاری کے وقت اشرف ڈگری کالج کھنہ بل میںبی اے فائنل ائر میں زیر تعلیم تھا جبکہ محکمہ آر اینڈ بی میں بطور عارضی ملازمتھا ۔ اشرف کو دوسرے نوجوانوں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تاہم گرفتاری کے چند مہینے بعد دوسرے نوجوان کو رہا کیا گیا لیکن اشرف کو مسلسل پابند سلاسل رکھا گیا ہے اور اس پر13بار سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا ۔اشرف کے بھائی پیر زادہ فردوس نے کشمیر عظمٰی کو بتایا کہ ’میرے بھائی کو جھوٹے الزام میں پھنسایا گیا ،اگر چہ اُس وقت کے ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ ،سابقہ ممبر اسمبلی نور آباد عبدالمجید پڈر اور دیگر 20چشم دید گواہوں نے میرے بھائی کو بے قصور جتلایا تاہم اس کے بعد بھی اُس کی رہائی عمل میں نہیں لائی گئی‘ ۔مذکورہ شہری نے کہا کہ محمد اشرف کی رہائی کیلئے اُنہوں نے ہر ایک دروازے پر دستک دی جس کے دوران دوران والد بھی بیٹے سے ملنے کی حسرت لے کر فوت ہوئے تاہم ہماری آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوئی ۔ اشرف نے کہاکہ کشمیر تحریک خواتین کی سربراہ زمردہ حبیب نے بھی 14برس سے نظر بند اشرف کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن میں کیس درج کیا تاہم اس پربھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔مذکورہ شہری نے کہا کہ2011میں عدالت نے اشرف کو فوری طور رہا کرنے کے احکامات صادر کئے لیکن پولیس نے نامعلوم وجوہات کے بناء پر رہائی عمل میں نہیں لائی اور اب گذشتہ 6مہینوں سے اُس کو پیشی کے لئے عدالت نہیں لایا جارہا ہے جس کے سبب اُاشرف کی سلامتی کے حوالے سے خدشات پیدا ہورہے ہیں ۔