تمام سپشل پولیس افسروں پر عقابی نگاہ رکھی جائے گی

کوئی بھی ایس پی ائو ہتھیارروں سمیت یونٹ سے باہر نہیں جاسکتا

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//پلوامہ پولیس لائنز سے2ایس پی ائوز کے فرار ہونے اور مابعد جھڑپ میں جان بحق ہونے کے بیچ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ تمام سپشل پولیس افسران کی نقل و حرکت پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔پولیس اعلیٰ کمان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ایس پی ائو اپنے مقام ڈیوٹی کوہتھیاروں کو جمع کئے بغیر نہیں چھوڑ سکتا۔ لاسی پورہ پلوامہ جھڑپ میں میں ایس پی ائوز سے جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہوکر 2ایس پی ائوز کے ہلاک ہونے کے بیچ سیکورٹی گرڈ کے اعلیٰ افسران نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ایس پی ائوز مسلسل اور متواتر طور پر اپنے متعلقہ افسران کی نگرانی میں رہیں گے اور انکی نقل و حرکت بھی ہمہ وقت راڈار پر رہیں گی۔ دونوں ایس پی ائوز نے اپنے یونٹوں کو چھوڑ کر جیش محمد میں شمولیت اختیار کی تھی اور24گھنٹوں کے دوران ہی لاسی پورہ میں فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جان بحق ہوئے۔ اس واقعے نے پولیس کو سکتے میں ڈال دیا،جس کے بعد اعلیٰ افسران آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کیلئے تازہ اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوئے۔ سیکورٹی گرڈ میں شامل ایک اعلیٰ افسر نے بتایا ’’ اب سے آئندہ تمام ایس پی ائوز  اپنے یونٹوں کے متعلقہ افسران کی کڑی نگاہ میں رہیں گے اور ان پر عقابی اور سخت نظر رکھی جائے گی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ہر ایک ایس پی ائو کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا،تاہم کچھ ضروری اقدامات اٹھانے پڑیں گے،تاکہ مستقبل میں کوئی بھی ایس پی ائو جنگجوئوں کی صفوں میں شامل نہ ہو۔مذکورہ افسر کا کہنا تھاکہ معقول نظام کے تحت وادی بھر میں ایس پی ائوز کی نقل و حرکت کی جانچ کی جائے گی اور انہیں اپنے یونٹوں اور مقام ڈیوٹی سے ہتھیاروں سمیت باہر جانے کی جازت نہیں دی جائے گی۔‘‘ سیکورٹی گروپ میں شامل افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا’’ ایس پی ائوز کو اپنے گھر جانے یا یونٹ و ونگ سے باہر جانے کیلئے اپنی ونگ کے انچارج سے باضابطہ طور پر اجازت طلب کر کے اپنے ہتھیاروں کو جمع کرنا ہوگا۔‘‘انہوں نے کہا کہ پولیس نے خفیہ اداروں کو متحرک کیا اور دونوں ایس پی ائوز شبیر احمد ساکن تجن اور سلیمان احمد ساکن اتھمولہ شوپیاں کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا۔ مذکورہ افسر نے مزید بتایا کہ دونوں ایس پی اوز کو فرار ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں میں تلاش کیا گیااور رات بھر چلنے والی جھڑپ کے دوران انہیں غائب ہونے کے صرف24گھنٹوں کے اندر ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس پی ائوز کے سفر کی نقل و حرکت کی بھی نگرانی کی جائے گی اور اس کیلئے ان کے ذاتی موبائل فونوں کو ٹریکنگ پر رکھا جائے گاتاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ جنگجوئوں کے دبائو یا باتوں میں آکر عسکری صفوں میں شامل نہ ہوسکیں۔ سیکورٹی گرڈ سے وابستہ افسر نے بتایا’’ظاہری طور پر فکر مند ہونے کی ضرورت ہے،تاہم یہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے،کیونکہ امسال110سے زائد جنگجوئوں کو جان بحق کیا گیا۔‘‘ انہوں نے بتایا’’ فرار ہونے کے چند گھنٹوں کے دوران ہی ایس پی ائوز کو ہلاک کرنا دوسروں کیلئے سبق ہے،جو کسی بھی طور جنگجوئوں کے اثر رسوخ میں آتے ہیں۔‘‘
 

تازہ ترین