اسمبلی معیادکم کرکے 5سال کرینگے: جتیندر سنگھ

لداخ کو یونین ٹیریٹری کادرجہ دیاجائیگا:رینہ

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
جموں//جموں بیو رو// وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بی جے پی مساوات کے اصول پر گامزن رہتے ہوئے جموں وکشمیر اسمبلی کی میعاد کار 6 سال سے کم کرکے 5 سال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دراصل 1975 میں اُس وقت کی وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے ملک میں اسمبلیوں کی میعاد کار 5 سے بڑھاکر 6 سال کی تھی اور ریاستی وزیر اعلیٰ شیخ محمد عبداللہ نے بھی بھارتی آئین کے تئیں وفاداری دکھا کر ریاست اسمبلی کی میعاد کار بڑھائی تھی، تاہم جب جنتا پارٹی کی حکومت نے اندرا گاندھی سرکار کے تمام فیصلے واپس لئے تو شیخ عبداللہ نے اپنا فیصلہ نہیں بدلا۔تریکوٹہ نگر میں واقع بی جے پی دفتر پر نو منتخب بھاجپا اراکین پارلیمان کے اعزاز میں منعقدہ تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جتیندر سنگھ نے کہا’’جب گزشتہ ہفتے اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کی بات اٹھی تو عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرکے کہا کہ بی جے پی والے تو مساوات کی بات کرتے ہیں، اگر از سر نو حد بندی کرنی ہے تو پورے ملک میں کیوں نہیں کرتے، ہم ابھی بھی مساوات کے اصول پر کاربند ہیں، ہم مساوات کے اصول پر قائم رہتے ہوئے نیشنل کانفرنس کی تین نسلوں کی دوہری نیت کا پردہ فاش کریں گے، ہم مساوات کے اصول پر قائم رہتے ہوئے ریاستی اسمبلی کی میعاد کار چھ سال سے کم کرکے پانچ سال کریں گے‘‘۔جتیندر سنگھ نے دعویٰ کیا کہ وادی کشمیر میں نوجوان نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی میں سے کسی کو پسند نہیں کرتے اور اگر اگلے انتخابات میں وہاں بائیکاٹ نہیں ہوا تو ریاست میں بی جے پی کا وزیراعلیٰ بننے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ان کا کہنا تھا’’کشمیر میں لوگ بالخصوص نوجوان نیشنل کانفرنس یا پی ڈی پی کو سپورٹ نہیں کرتے، یہ جماعتیں چاہتی ہیں کہ وادی میں افراتفری کا ماحول بنا رہے، دس فیصد ووٹ پڑے اور ہم کچھ ہزار سے لوک سبھا کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات بھی جیت جائیں گے، ہمیں وادی میں نوجوانوں کو سمجھانا ہے کہ آپ کے ووٹ نہ ڈالنے سے آپ ان لوگوں کی غلامی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جن کو آپ اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے ہیں، جموں کی طرح کشمیر میں بھی بھاری ووٹنگ ہوگی تو ریاست کا اگلا وزیر اعلیٰ بی جے پی کا ہوگا۔‘‘دریں اثناء بی جے پی کے ریاستی صدر رویندر رینہ نے کہا کہ جموں کشمیر میں آنے والے اسمبلی انتخابات کے بعد ریاست میں بی جے پی کا وزیر اعلیٰ بننے کے چھ ماہ کے اندر ہی لداخ کومرکز کا زیر انتظام علاقہ یایونین ٹریٹری کا درجہ دیا جائے گا۔تریکوٹہ نگر میں واقع پارٹی دفتر پر میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے رینہ نے کہا’’میں پُر امید ہوں کہ جموں کشمیر میں آنے والے اسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی کا وزیر اعلیٰ ہوگا اور بی جے پی کی حکومت ہوگی، بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کے حلف لینے کے بعد چھ ماہ کے اندر اندر لداخ کو یونین ٹریٹری کا درجہ دیا جائے گا‘‘۔انہوں نے کہا’’لداخ کو یونین ٹریٹری کا درجہ دینا بی جے پی کی پالیسی کا حصہ ہے اور بی جے پی نے کئی بار ریاستی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگوں میں لداخ کو یونین ٹریٹری کا درجہ دینے کے حق میں قرار دادیں پاس کیں‘‘۔بی جے پی کے ریاستی صدر نے کہا کہ بی جے پی ہی نے لداخ کو صوبہ کا بھی درجہ دیا۔انہوں نے کہا کہ کچھ آئینی رکاوٹیں ہیں جن کے رفع ہونے کے ساتھ ہی لداخ کو یونین ٹریٹری کا درجہ دیا جائے گا۔رینہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پی ڈی پی کی سرکاروں نے جموں اور لداخ کے ساتھ ہمیشہ امتیازی سلوک روا رکھا ہے۔انہوں نے کہا’’نیشنل کانفرنس، کانگریس یا پی ڈی پی کے جو لوگ سرکار میں رہے ہیں انہوں نے ہمیشہ جموں اور لداخ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہے، مجرمانہ نا انصافی کی گئی ہے خاص کر فاروق عبداللہ کی سربراہی والی نیشنل کانفرنس حکومت اور غلام نبی آزاد کی کانگریس حکومت نے جموں اور لداخ کے عوام کا گلا گھونٹا ہے‘‘۔جموں میں اسمبلی نشستیں بڑھانے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں رویندر رینہ نے کہا’’اگر آنے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے سرکار اسمبلی حلقوں کی از سرنو حد بندی کراتی ہے تو جموں اور لداخ کے لوگوں کو انصاف مل سکتا ہے‘‘۔اس موقعہ پر لداخ کے رکن پارلیمان جے ٹی نمگیال نے بتایا کہ لداخ کے لوگوں کا یونین ٹریٹری درجے کا مطالبہ حق بجانب ہے اور ہم کشمیر سے آزاد لداخ کا مطالبہ کرتے ہیں۔
 

تازہ ترین